فورسز کے ہاتھوں مغوی بلوچ فرزندوں کی قتل ریاستی بر بریت کا تسلسل ہے۔ بی این ایف

BNF01کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے مشکے میں گزشتہ روز فورسز کے ہاتھوں مغوی بلوچ فرزندان کی وحشیانہ قتل کو ریاستی بربریت کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ فورسز بلوچستان میں ہرنئے روز ظلم و جبر کی نئی داستان رقم کررہے ہیں۔ مغوی بلوچ فرزندان کو سالوں و مہینوں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ان کو قتل کرکے فورسز انہیں مقابلے میں مارنے کا جھوٹا دعویٰ کررہے ہیں۔ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں سنسان جگہوں اور سڑکوں میں پھینکنے کی پالیسیوں میں وسعت لاتے ہوئے فورسز اب دن دیہاڑے مغوی نوجوانوں کو قتل کرکے انہیں مقابلے میں مارنے کا جھوٹا دعویٰ کررہے ہیں تاکہ اپنے جرائم کو مہذب ممالک کی نظروں سے چھپایا جا سکے۔ بلوچ نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے کہا کہ آج صبح مشکے میں گجر آرمی کیمپ کے سامنے مختلف علاقوں سے آپریشن کے دوران اغواء ہونے والے پانچ فرزندوں کو کئی لوگوں کے سامنے گولیوں کا نشانہ بنایا۔ ان فرزندوں میں فروری کے مہینے میں مشکے کے علاقے منجھو سے اغواء ہونے والے نیک محمد ولد ہیبت،دو دن قبل مشکے سے اغواء ہونے والے الٰہی بخش ولد نبی داد ، مشکے کالرو کے رہائشی علی بخش ولد نبی داد ، عبدالکریم اور مشکے کے علاقے کالار کے رہائشی عظیم بلوچ ، 2014کی اگست کو بھوانی مدرسے سے اغواء ہونے والے مشکے کے رہائشی حافظ سرفراز ولد محمد حیات شامل ہیں۔ ان فرزندوں میں علی بخش اور الٰہی بخش بلوچ عمررسیدہ بزرگ تھے جنہیں فورسز نے دورانِ حراست قتل کردیا۔ جب کہ اسی آپریشن میں مرید ولد روزی کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ۔ بی این ایف کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں فورسز جنون کی حد تک بلوچ عوام کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کررہی ہے۔ فورسز بغیر کسی رکاوٹ و پابندی کے نوجوانوں، عمر رسیدہ بزرگوں کو اپنی ٹارچر سیلوں میں لے جا کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد دیدہ دلیری کے ساتھ انہیں سرعام قتل کرتے ہیں۔ بلوچ آبادیوں کو زبردستی ان کے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کرنے کے لئے اس طرح کی وحشیانہ کاروائیاں بلوچستان بھر میں روز کا معمول ہو چکے ہیں۔مکران سمیت جھالاوان ، رخشان اور کوہلو و ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں بھی فورسز پہلے سے جاری اپنی کاروائیوں میں انتہائی شدت لاچکے ہیں جن کے نتیجے میں ہزاروں خاندان اپنے علاقو ں سے نکل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کی آزادی کی تحریک کے ساتھ بے لوث وابستگی اور بلوچ عوام کی گراں بہا قربانیوں کی بدولت فورسز طاقت کے انتہائی کے استعمال کے باوجود بلوچ تحریک آزادی کو ختم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہے۔ اپنی ناکامی و حواس باختگی کو چھپانے کے لئے نیشنل پارٹی کی سربراہی میں قائم کیے گئے ڈیتھ اسکواڈز اور آرمی کے دستے وحشیانہ طور پر بلوچ عوام کی قتل عام میں مصروف ہیں۔ لیکن قابض ریاست و اس کے ہمکاروں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بلوچ عوام اپنے فطری حق آزادی سے کسی بھی قیمت پر دست بردار نہیں ہوں گے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close