بولان میڈیکل کالج میں تعمیراتی کاموں کے لیے 80کروڑ کی بجٹ کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بی ایس اے سی

BSAC01کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بولان میڈیکل کالج میں تعمیراتی کاموں کے لئے 80کروڑ روپے کی مختص کردہ بجٹ کو ہڑپ کرنے کیلئے ایس ڈی او اور ٹھیکیدار ناقص مٹیرئیل کا استعمال کررہے ہیں ۔متعلقہ ذمہ دار پچھلے دو سال مکمل ہونے کے باوجود تعمیراتی کاموں کو سست روی کا شکار بناکر مکمل کرنے سے اب تک قاصر ہیں۔انہوں نے کہا اسطرح کی غیر ذمہ داریوں سے طلبا و طالبات شدید مشکلات کا شکار ہیں،کیونکہ 80کروڑ کی بھاری بجٹ کوہاسٹل رپئیرمنٹ کے بجائے کالج انتطامیہ اور لائبریری کے سامنے لائبریری تعمیر کرنے کے نت نئے منصوبے بنا کر بلا واسطہ بجٹ کو خرچ کیا جارہا ہے۔جتنے تعمیراتی کاموں کو مکمل ہونے کا نام دیا جارہا ہے ان میں ہاسٹل باتھ رومزرپیئرمنٹ،ٹی وی ہالز،کلرز،چھت سیلنگ اور فلور ٹائلنگ کے تعمیراتی کاموں میں کوئی بھی اطمینان بخش نہیں ہے اور نہ ہی استعمال کرنے کے قا بل ہیں۔ترجمان نے مذید کہا کہ اس سے قبل بھی اس کے خلاف ایکشن کمیٹی بارہا اخباری بیان جاری کرکے حکام بالا کو آگاہ کرچکے ہیں۔لیکن حکام کی عدم توجہی سے مزکورہ ذمہ داران اپنے آپ کو بے لگام محسوس کررہے ہیں اور اپنی من مانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔کالج میں جدیدسہولیات کی عدم فراہمی اور لیکچرہالوں کی کمی،ہاسٹل بلڈنگ کی معیاد چھ سال ختم ہونے کے باوجود بجٹ کو مسجد کے سامنے مسجد اور لائبریری کے سامنے لائبریری تعمیر کرنے پر بلا وجہ خرچ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ترجمان نے آخر میں نیشنل احتسابی بیورو,(NAB)وزیر اعلی بلوچستان،چیف سیکریٹری بلوچستان،وزیر صحت اور سیکرٹری صحت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بی ایم سی میں جاری تعمیراتی کاموں میں غفلت بھرتنے پر ٹھیکدار،ایس ڈی او سمیت دیگر ذمہ داران کو احتسابی عمل سے گزارکرسزا دی جائے،بصورت دیگر بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اس کے خلاف سخت احتجاج کرے گی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close