بی ایل ایف نے مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے پاکستانی فورسز پر مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز سرمچاروں نے کیچ کے علاقے سامی میں پاکستانی فوجی کیمپ پر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کرکے جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ گہرام بلوچ نے کہا کہ 17 اپریل کو علی الصبح پاکستان کی زمینی اور فضائی افواج نے ضلع کیچ میں شاپک اور سامی کے پہاڑی علاقوں میں آپریشن کی، پہلے زمینی فوج کے پیدل اور موٹر سائیکل سوار دستوں نے ان علاقوں میں سرمچاروں کو گھیرنے کی کوشش کی مگر سرمچاروں نے بہترین جنگی حکمت عملی اپنا کر نہ صرف خود بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوگئے بلکہ شدید حملے کرکے قابض فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ بعد میں ان کو چھ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل ہوگئی مگر بلوچ سرمچاروں سے شکست کھاکر ماضی کی طرح پاکستانی فوج نے اپنا غصہ نہتے لوگوں پر اُتارا اور پہاڑی علاقوں میں گھس کر چھ چرواہوں کو اُٹھا کر اغوا کیا۔ چھ ہیلی کاپٹروں گیشکور کی جانب روانہ ہو ئے جہاں عام آبادی کو نشانہ بنایا۔ گڈگی، بنین اور زامران ندی میں چار بلوچ بستیوں کو جلا ڈالا گیا۔ اس دوران ذکریوں کی ایک عبادت گاہ (ذکر خانہ ) کو بھی پاکستانی فوج نے جلا کر خاکستر کیا۔ شیلنگ سے کئی مال مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ کارروائیاں مغرب تک جاری رہیں، مگر سرمچاروں کا مقابلہ کرنے کے بجائے نہتے لوگوں اور مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ گہرام بلوچ نے کہا کہ کیچ کے علاقے شاپک میں ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں پر حملہ کیا، جس میں ایک آفیسر زخمی ہوئے ہیں۔ بلوچ عوام سرکاری املاک اور تعمیرات سے دور رہیں اور ساتھ ہی پاکستانی فوج اور پالیسی ساز اداروں جیسے پارلیمنٹ وغیرہ کا حصہ نہ بنیں کیونکہ یہی ادارے بلوچ نسل کشی کی منظوری دے رہے ہیں۔ ایسے اداروں کے نمائندوں، ڈیتھ اسکواڈز اور مخبروں کو نشانہ بنانا ہمارا قومی فرض اور بلوچ جہد آزادی کیلئے ضروری اقدام ہیں، بی ایل ایف تمام عالمی قوانین کی پاس رکھ کر بلوچستان کی آزادی تک جنگ جاری رکھے گی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker