ایران میں اقتدار کی نئی جنگ 

تہران(ریپبلکن نیوز) ایران میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں سیکڑوں امیدواروں میں سخت گیر سابق صدر محمود احمدی نژاد بھی شامل ہیں جنہوں نے ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے انتخابی میدان میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ احمدی نژاد کا فیصلہ ایران میں اقتدار واختیارات کی رسا کشی، ایرانی رجیم کے بنیادوں ستوںوں میں کمزوری بالخصوص سپریم لیڈر فیصلوں کی قوت نافذہ میں کمزوری کی واضح علامت ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ محمود احمدی نژاد نے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان اور کاغذات نامزدگی جمع کراکے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو یہ پیغام دیا ہے کہ خامنہ ای اب کمزور ہوچکے ہیں اور وہ اپنے فیصلوں کو دوسروں پر نافذ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ان کے اس فیصلے سے ایرانی رجیم میں پائی جانے والی پھوٹ اور نظام کے بنیادی ڈھانچے میں پائی جانے والی دراڑوں کی واضح علامت ہے۔

احمدی نژاد کے بیانات سے بھی مترشح ہوتا ہے کہ وہ سپریم لیڈر کےمشوروں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ وہ کبھی کہتے ہیں کہ میں خود صدارتی امیدوار ہوں اور صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی بھی جمع کرا دیتے ہیں اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اپنے سابق نائب صدر حمد رضا بقائی کے حامی ہیں۔ اس طرح ان کے بیانات میں بھی کھلا تضاد موجود ہے۔

دوسری جانب لگتا ہے کہ خامنہ ای کی خرابی صحت ان کی قوت نافذہ میں کمزوری کی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔ احمدی نژاد نے سپریم لیڈر کی صحت کی کمزوری سے فایدہ اٹھاتے ہوئے خود کو نسبتا کسی اعلیٰ اتھارٹی کے احکامات کی پابندی سے آزاد تصور کرتےہوئے صدراتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔

مرشد اعلیٰ کے ایک مقرب عہدیدار حسین کنعانی مقدم کہتے ہیں کہ احمدی نژاد کا صدارتی امیدوار بننا خود کشی کے مترادف ہے۔ ایک دوسری جگہ وہ کہتے ہیں کہ انہیں سپریم لیڈر کی فیصلہ سازی پر بالادستی میں شبہ ہونے لگا ہے۔ امور مملکت ان کے ہاتھ سے نکلنے لگے ہیں۔

حکومتی اخبار ’سیاست روز‘ نے تبصرہ کیا کہ سابق صدر [احمدی نژاد] کا انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان آخری عمر میں انحراف کرنے کے مترادف ہے۔

صدر حسن روحانی کے ایک حامی صادق زیبا کلام نے تو دھمکی دے ڈالی اور کہا کہ سابق صدر احمدی نژاد کو صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

انٹیلی جنس کے سابق معاون خصوصی سعید حجاریان کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی منظرنامہ اختیارات کی بندر بانٹ کی دوڑ کا منظر اور ایرانی قوم کی بالادست غصب کرنے کی تصویر پیش کرتا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close