فوجی اہلکار کے پشتون ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانے کےبعد فوج کے خلاف شدید نعرے بلند

نیوزڈیسک (ریپبلکن نیوز) ڈاکٹر عبدالحمید کو ہفتے کے روز کئی گھنٹوں تک فوج حراست میں رکھے جانے کے بعد میڈیکل کا شعبہ ہڑتال پر چلا گیا اور فوج پر تنقید کی گئی۔ مظاہرین نے فوج اور اس کے انٹر سروس سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے جاسوس ایجنسی پر “ریاستی غنڈہ گردی” کا الزام لگایا۔

شراکا کا کہنا ہے کہ متعدد سالوں میں تنازعات کے دوران ہزاروں قبائلی باشندوں کو ہلاک یا غائب کیا گیا ہے۔ باجوڑ میں ڈاکٹروں نے پیر کے روز کی ہڑتال کو فوج کی طرف سے دی جانے والی نرمی کے بعد ختم کر دیا۔ مظاہرین نے اس ہڑتال کو ملک کے دیگر حصوں میں توسیع دینے کی دھمکی دی تھی۔

رعایت کے مطابق ڈاکٹروں کو قبائلی علاقوں میں فوجی چوکیوں پر نہیں روکا جاۓ گا۔ فوجی حکام نے وعدہ کیا کہ فوجیوں کو عام شہریوں کے ہسپتالوں سے علاج کروانے کی اجازت بھی کم کر دی جاۓ گی جو کہ مقامی باشندوں کی ایک بڑی شکایت تھی۔

ڈاکٹر حمید، جو کہ باجوڑ کے ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں کام کرتے ہیں، ایک مریضہ کو دیکھ رہے تھے جب ان کے ساتھ ایک اندوہ ناک واقعہ پیش آیا۔

ڈاکٹر حمیدڈاکٹر حمید کے بھائی، جو کہ اسی ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ “سادہ کپڑوں میں دو مرد میرے کمرے میں اے، وہ چاہتے تھے کہ میں ان کے ساتھ آنے والے مریض کو دیکھوں”

” ڈاکٹر کے مددگار عملے نے ان سے کہا کہ وہ باہر انتظار کریں، لیکن وہ باہر جانے کی بجاۓ ڈاکٹر کی طرف بڑھے، ان میں سے ایک نے ڈاکٹر کے ہاتھ ہلا کر رکھ دیا. اس بات کے ڈاکٹر کے برا منایا اور دوسرے آدمی سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا اور انھیں کہا کہ وہ باہر انتظار کریں. اس لیے کہ وہ پہلے ہی مریضہ کو دیکھ رہے ہیں”

ڈاکٹر خان نے بتایا کہ اس پر وہ دو آدمی میرے بھائی پر ٹوٹ پڑے. انہوں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے بھی بلایا اور وہ ڈاکٹر اور ہسپتال کے عملے کے ساتھ بد تمیزی کرنے لگے

پھر انہوں نے میرے بھائی کو بالوں سے گھیسٹے ہوے ٹرک میں ڈال کے لے گیے۔ ڈاکٹر حمید کو ان وقت چھوڑا گیا جب تمام ڈاکٹروں اور ہسپتال کے دوسرے عملے کے کام بند کر دیا اور کھار کے مرکزی بازاروں میں تمام خدمات اور طبی دکانیں بند کردیئے گئے

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پھیل گیا. جس پر کارکنوں نے فوج اور آئی ایس آئی پر سخت تنقید کی کہ وہ فاٹا کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں

فیس بک پر ایک ویڈیو میں ایک روتے ہوے ڈاکٹر خان نے مظاہرین کو بتایا کہ لوگ “آئی ایس آئی کو ہمارے بچے قتل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے”

“کیا آپ لوگوں کے محافظ ہیں یا آپ قاتل ہیں؟” انہوں نے، آئی ایس آئی کو خطاب کرتے ہوئے. “آپ اس ملک کے بچوں کو آپ کے دشمنوں میں کیوں تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟”

مزید خبریں اسی بارے میں

Close