تربت – ریاست کا پنجابی مزدوروں کو بطورِ چارہ استعمال کرنے کا فیصلہ اور بلوچ قومی تحریک کی مجبوری – تحریر; وائل خان بگٹی

گزشتہ چند روز سے مکران ڈویژن کا صدر مقام تربت صرف ایک ہی حوالے سے زیرِ بحث ہے اور وہ حوالہ ہے پنجابی النسل مزدوروں کا بلوچ مزاحمتی تحریک کے ہاتھوں بے رحمانہ قتل ۔ اب تک کی آمدہ اطلاعات کے مطابق چند روز میں ہی 20 کے قریب مزدوروں کو محض انکی لسانی شناخت کی بنیاد پر قتل کیا جا چکا ہے ۔ ریاستی بیانیے کے مطابق بد قسمت مزدور روشن مستقبل کے خواہاں ایران، ترکی ، یونان کے راستے یورپ تک رسائی کے خواہشمند تھے  جب کہ بلوچ مزاحمت کاروں کے مطابق تمام تر مقتولین کا تعلق پاکستان کے ریاستی افواج کے زیلی ادارے ایف ڈبلیو او سے تھا جو کہ بدنامِ زمانہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور -سی پیک کے لیئے مزکورہ علاقوں میں تعمیراتی کام سر انجام دے رہے تھے جو کہ بلوچستان پر ریاست کے قبضے کو دوام دینے میں مدد کے مترادف ہے ۔ دونوں بیانیوں کو بیک وقت سچ اور جھوٹ بھی مانا جائے تب بھی ماتم محض مزدوروں کے گھر بپا ہے ، معاشرے کے اس پِسے ہوئے طبقے میں جس کو روز جینے کے لیئے روز مرنا پڑتا ہے ۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے جنگی صورتحال سے دو چار ہے اور مادرِ وطن کی ہر گلی ہر کوچے سے خون و بارود کی بو آتی ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستانی مزدور اسی خطے کا رخ کرتے ہیں ۔ اور جنگ بھی نہ تو قبائلی پُرخاش اور نہ ہی جرائم پیشہ گروہوں کی اجارہ داری کا ، بلکہ خالصتاً غلامی کے خلاف فرزندانِ زمین کی جنگِ آزادی۔ بلوچ قوم کا پنجابی ریاست سے چھٹکارہ پانے اور پنجابی ریاست کا اپنے قبضے کو دوام بخشنے کا جنگ۔ ایسی صورتحال میں بالعموم پاکستانی مزدوروں اور بالخصوص پنجابی النسل مزدوروں کا اس خطے میں آنا محض تلاشِ معاش ہو سکتا ہے ؟

ماضی قریب میں چونکہ بلوچ بچوں اور خواتین کے اغوا نما گرفتاری پر ریاست کو جہاں ایک طرف انتہائی سُبکی کا سامنا رہا وہیں اس کا مکروہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے کھل کر آ گیا ، بلوچ قومی تحریک کے حق بجانب ہونے کو نا قابلِ بیاں پذیرائی ملی۔ اور پاکستان کے اندر سے بھی کچھ واقفانِ حال نے تمام تر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بلوچ قومی مسئلے کے حق میں بات کی۔ دوسری جانب بلوچ تحریک کی انتھک کوششوں کی وجہ سے عالمی برادری میں آگاہی کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ریاست کے لیئے سوہانِ روح بن چکا ۔

اگرچہ جنگ و امن کے اپنے اپنے قاعدے ہوتے ہیں لیکن ظالم و مظلوم کے بیچ کسی بھی معاملے میں قوائد و روایات کی پاس داری محض کمزور و مظلوم فریق کی زمہ داری سمجھی جاتی ہے اور عدم تشدد کی توقع بھی اسی سے کی جاتی ہے ورنہ دونوں فریق ہی ظالم قرار پاتے ہیں اور دنیا بھر میں ظالم کو ہمدرد پیدا کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں ۔ ریاست نے بلوچ تحریک کو مظلوم سے ظالم ثابت کرنے کے لیئے پنجاب ہی کے پِسے ہوئے طبقے کو استعمال کرنے کی شیطانی چال چلی اور انسانی سمگلروں کو اس بات پر آمادہ کر لیا گیا کہ وہ بہتر مستقبل یا کم از کم دو وقت کی روٹی با عزت طریقے سے کمانے کے خواہشمند لوگوں کو جھانسہ دے کر جنگ زدہ بلوچستان میں ایف ڈبلیو او کے تعمیراتی کیمپوں تک پہنچائیں – جہاں انھیں بطورِ چارہ رکھا جائے گا اور بلوچ تحریک کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا بجز انھیں نشانہ بنانے کے ، کیونکہ اگر ان مزدوروں کے ساتھ رعایت برتی گئی تو ریاست با آسانی بلوچ علاقوں میں مختلف حیلوں بہانوں سے مزدور و کسب کار کی شکل میں اپنا راستہ بناتے ہوئے بلوچ قومی تحریک کا صفایا کر لے گی ۔ دوسری جانب ان مزدوروں کے نشانہ بننے سے ریاست کو انتہائی آسانی رہے گی کہ بلوچ قومی تحریک کو ظالم ثابت کرتے ہوئے اس کے حمایت میں کمی کرے اور اپنے ظلم و ستم کا جواز تراش سکے۔

چونکہ بلوچ کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا لیکن دوسری اقوام کا دانشور طبقہ ریاست کے اس شیطانی عمل کو دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود خاموش کیوں ہے ؟ ویکسین ، بیت الخلاء، اور ہاتھ دھونے کی آگاہی مہم کے لیئے قلم گھسنے والے اپنی عوام کو کیوں آگاہ نہیں کرتے کہ انھیں جان بوجھ کر مزبح خانے میں بھیجا جاتا ہے ؟ بلوچ قوم کو عدم تشدد کا سبق دینے اور غلامی کو برادشت کرنے کے پرچارک اگر اپنے ہی لوگوں تک معاملات کو درست انداز میں پہنچانے کی زحمت کریں تو ان کا اپنی قوم پر احسان ہوگا۔ شاید اب بلوچ تحریک کے لیئے یہ ممکن ہی نہییں کہ وہ بے معنی ہمدردی کے بدلے اپنے قومی جہد کو قربان کرے ، اور شاید ریاست کو اپنے مظالم کے لیئے بھونڈے جواز نہ ملنے کی بھی پرواہ نہ ہو کیونکہ اس جنگ کی ہار جیت کا فیصلہ کسی ایک فریق کے لیئے مکمل تباہی کا سامان رکھتا ہے اور کوئی بھی مکمل تباہی کا سامنا نہیں چاہے گا ، لیکن جو فریق نہیں ان کو جنگ کا ایندھن بننے سے روکنے کی کوشش کی جانی چاہیئے یا پھر ان کو فریق سمجھنے والے حق بجانب ہونگے۔

تحریر

وائل خان بگٹی

 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close