قومی مسائل کا حل، قومی سوچ کے منتظر

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز/مضمون) رپبلکن نیوز نیٹ ورک کے سائٹ میں خالد بلوچ کا ایک شائع شدہ آرٹیکل میں یہ لکھا گیا ہے کہ” جب بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے نوابزادہ حیربیار مری کو بیرون ممالک بلوچ قومی سفیر کا درجہ دیا گیا تھا تو اس پر سب سے پہلے بلوچ ریپبلکن پارٹی اور پھر بلوچ نیشنل موومنٹ سمیت دیگر آزادی پسند جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلہ کو رد کر دیا۔اگر دیکھا جائے توحیر بیار مری بلوچستان میں اسٹیک ہولڈر کی حیثیت رکھتا ہے لیکن جب بات قوم کی نمائندگی کی آگئی تو سب نے اسے رد کر دیا۔ کیونکہ قومی فیصلے فرد نہیں بلکہ منظم ادارے کرتے ہیں آج بلوچ قوم کے پاس ایسے ادارے موجود ہیں جو اس طرح اہمیت کے حامل فیصلے کر بھی سکتے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی کر سکتے ہیں”
حیربیار مری کے حوالے خالد بلوچ کی یہ باتیں حقا ئق کے بلکل برعکس ہیں اور وہ خود تضادبیانی کررہےہیں، آپ خود کہ رہے ہو کہ بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب اسے بیرون ملک بلوچ قومی سفیر کا درجہ دیاگیا تھا، اسے رد اسلئے کردیا گیا تھا کیونکہ وہ ایک فرد ہے ، جبکہ دوسری سانس میں یہی کہ رہے ہو کہ وہ بلوچستان میں ایک اسٹیک ہولڈر ہیں۔ حیربیار مری کس طرح ایک فرد ہوسکتےہیں جبکہ وہ مزاحمتی تحریک کا ہشت اول رکھنے والا سربراہی لیڈر ہے۔ یہ اب فرد کا ٹپہ لگاکر تحریک پر وار کرنے کا ایک شاطر چال ہوسکتا ہے لیکن حقیقت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔
اُس وقت بی این ایف میں شامل پارٹیوں میں سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر بی این ایم اور بی آر پی تھیں، بشمول باقی پارٹیوں کے سب نے متفقہ طور پر حیربیارمری کو بی این ایف کی خارجہ امورکا نمائندہ مقرر کیا۔۔ لیکن بعد میں کچھ ہی دنوں کے بعد بی این پی مینگل کی ایما پر مہران مری پر کرپشن کے الزامات کو لیکر ذاتی و خاندانی رشتوں کے بنیاد پر براھمندگ بگٹی نے قومی تحریک کے نقصانات کو بالاے تاک رکھتےہوے حیربیار مری کو بغیر کسی معقول وجہ کے متنازع بنانے کی کوشش کی۔ حالانکہ اس وقت براھمدگ خود بی این ایف کا متفقہ سربراہ تھا ۔ دوسری طرف بی این ایم نے بھونڈے طریقے سے کہا کہ جی ہم نے خیربیار مری کو اپنا نمائندہ مقرر نہیں کیا، حالانکہ حیربیار نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ اسے کوئی تحریک کی خارجہ امور کا نمائندہ مقرر کروایا جائے۔ لیکن یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ تحریک کے ساتھ اپنی رہنمایانہ صلاحیتوں اور کمیٹمنٹ کی وجہ سے سنگت حیربیارمری کے بارے شہید چیرمین غلام محمد اور دوسرے سنجیدہ رہنماؤں کے خیالات یہی تھے کہ سنگت حیربیارمری تحریک آزادی کا خارجہ امور کا رہنمائی کرے۔
اسی طرح تحریک میں شامل کئی دوستوں کا مشورہ تھا کہ بی این ایف کی قیادت تحریک سے وابسطہ رہنماؤں کا ٹیم تشکیل دیکر بابا مری سے ملاقات کرے اور ان کے رہنمائی میں بلوچستان کی آزادی کا روڈ میپ ، آئین ، نظام حکومت ، معاشی نظام ، خارجہ امور وغیر ہ سب پر ایک ڈاکومنٹ تیار کرے تاکہ عوام کے ساتھ تحریری شکل میں ایک عمرانی معائدہ ہو ، اور اس سے دنیا کو بھی بلوچستان کی آزادی کی تحریک کی بنیادی مقصد کو سمجھانے میں آسانیاں پیدا ہوں!
لیکن وائے شومہ قسمت کہ وہ جو ہونا تھا وہ نہ ہوسکا۔ کیا ہوتا اگر بی این ایف کو توڑنے کے بجائے سنگت براھمدگ بگٹی دوراندیشی کا مظاہرہ کرتےہوئے، تندہی سے بی این ایف کے پلیٹ فارم سے تمام اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ سوچ بچارکرتےہوئے مہران مری کے معاملہ کو اللہ نظر کے ساتھ مل کر خوش اسلوبی سے حل کرنے کیلئے اپنا سیاسی کردار ادا کرتے ؟ اتنے بڑے سیاسی کرداروں کے ہوتے ہوئے ایک چھوڑا سا اندرونی معاملہ حل نہ ہوسکا؟ قومی اور خود احتسابی کےاصول کے تحت سنگت حیربیارمری نے مہران مری کے کیس کو ڈاکٹراللہ نظر اور ان کے دوستوں کےسامنے اس لیئے پیش کیا تاکہ دنیا کل یہ انگلی نہ اٹھائے ایک قومی معاملہ کو ذاتی رشتہ کی بنا پر رفع دفع کیاگیا۔
مستقل مزاجی سے تحریک آزادی کی سیاسی پہلو بی این ایف کے پلیٹ فارم کو اگر براھمدگ رہنمائی کرتے اور اسی پلیٹ فارم میں تحریک کا بحیثیت ایک اسٹیک ہولڈر حیربیارمری کی شمولیت کو یقینی بناتے تو سوچھوآج تحریک کی منظر کیا ہوتی؟
ہمیں نائلہ کی صالاحتوں پر کوئی شک نہیں ، لیکن ایک جلاوطن حکومت بنانے کیلئے قومی سطح کے فیصلے کرنےہونگے۔۔
ہم بار بار ‘قومی سوچ‘ ‘قومی فیصلے‘ وغیرہ کی تکرار اس لیئے کرتے آرہے ہیں کیونکہ پارٹی بازی کی اپروچ سے ہم اپنی قوم کو نجات دلا نہیں سکتے۔ پارٹی بازی کی اپروچ قومی اپروچ کا تضاد ہے۔۔ کیونکہ ٹیکنیکلی اگر سوچھا جائے قوم اگر تقسیم ہے تو پارٹیوں کی شکل میں۔۔ اسی اپروچ کی وجہ سے قوم کی اجتماعی قوت منقسم ہے اب ایک منقسم قوم کی منقسم قوت کو لیکر کس طرح آپ ایک بد تہزیب دشمن کو شکست دے سکتے ہیں؟
قومی اپروچ کا زرا مزید وضاحت کرو، براھمدگ بگٹی نے کہا کہ جلاوطن حکومت کا قیام ایک ‘قومی‘ مسئلہ ہے۔ جلاوطن حکومت کے قیام کے بارے براھندگ کا موقف بلکل ایک قومی اپروچ ہے۔ تو پھر اسی نقطے کو لیکر سوچھو، کہ قومی آزادی کا جہد بھی قومی اپروچ کا متقاضی ہے اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو یک جٹ ہوکر تمام معاملات کو قومی سوچ کے پیرائے میں حل کرنے ہونگے۔۔
میں یہاں کولیمبیا کی فارک گوریلہ کمانڈر انیبال کی بات کو دھراتاہوں ، سیاست جنگ سے زیادہ سخت ہے، جنگ کی میدان میں اگر ایک سپائی نے غلطی کی تو وہ اپنی جان کو کھو بیٹھے گی، لیکن سیاست کی میدان میں اگر تھوڑا سا چونک ہوا تو سارا تحریک بیٹھ جائے گی!

تحریر : آرچن بلوچ

Anibal ‘You pay for a mistake on the battlefield with your life,’ he said, swinging back and forth, ‘but an error in the field of politics brings down an entire organization.’

مزید خبریں اسی بارے میں

Close