سامراجی ریاستیں اور مذہب ۔ تحریر: عابد بلوچ

کوئٹہ / مضمون (ریپبلکن نیوز) دنیا میں جب بھی کسی سامراجی قوت نے کمزور قوم پر بزور طاقت قبضہ کیا تو اپنی قبضہ گیریت کو دوام بخشنے کے لیے ہر ممکن حربوں کو آزمایا،  تاکہ وہ اپنی قبضہ گریت کومزید برقرار رکھ سکیں اور وہ زیادہ سے زیادہ مقبوضہ سرزمین کی قومی دولت کو لوٹ کھسوٹ کر اپنی سامراجیت کو مزید مضبوط بنا سکیں۔

اور سامراجی قوتوں  نے مذہب کو اپنے لیے ایک ہتیار کے طور پراستعمال کیا اور کررہے ہیں، آج دنیا میں مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے والے چند سامراجی قوتوں نے دنیا کی امن کو تباہ وا برباد کردیا ہے۔

جب انگریزوں نے اٹھارویں صدی کے دوران برصغیر کے مختلف قوموں پر اپنی سامراجیت قائم کیں تو وہاں کے غلام قوموں کے وسائل کو لوٹ کر لے جانے کے ساتھ ساتھ وہاں کے لوگوں کو بھی اپنی سامراجیت کو بڑانے کے لیے دوسرے سامراجوں سے لڑایا اور بدلے میں انہیں بس اتنا سا اناج ملا کہ وہ زندہ رہ سکیں اور جب انگریزوں کو یہاں مختلف انقلابی تحریکوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا خاص طور پر ہندوستان اور بلوچ قوم پرستوں کا تو انگریز یہاں سے باہر نکلنے میں مجبور ہو گئے اور نکلنے سے پہلے انہوں  نے چند منافقوں اور لالچی لوگوں کو اکھٹا کر کے مذہب کے نام پر اسلام کو جواز بنا کر ہندوستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے پاکستان نامی ناپاک ریاست کو جنم دیا تا کہ یہاں سے نکلنے کے بعد بھی ان کا اثررسوخ برقرار رہے اور یہ ریاست جس کا نا کوئی وجود تھا نا پہچان نا کوئی تاریخ اور نا اس کی بنانے کا کوئی اہم جواز اب اس غیر مستقل ریاست کو برقرار رکھنے کے لیے انگریزوں کے پاس اتنا وسائل بھی نہیں تھا اور انگریزوں کی نظریں اٹھارویں صدی سے بلوچستان کی ساحلی پٹی پر ٹکی تھیں اور انگریزوں نے اسی غیر مستقل ریاست کو چلانے کے لیے بلوچستان جیسی مالا مال سرزمین کو مناسب سمجھ کر اور بلوچستان کی گرم پانیوں کی لالچ مین 27 مارچ 1948 کو ایک بار پھر سے اسلام کو جواز بنا کر اپنی قائم کی ہوئی غیر فطری ریاست کے ذریعے آزاد بلوچستان پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کیا ۔ جبکہ انگریز کی اس ناجائز اولاد  نے اپنی پیدائش سے لے کر آج تک دنیا کی امن کو تباہ و برباد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جب سویت یونین نے افغانستان میں اپنی قدم جمائی تو سامراجی سرمایہ دار ممالک نے سویت یونین کو شکست دینے کے لیے اسی غیر فطری ریاست کا سہارا لیتے ہوئے چند اسلامی جنونیوں کو اکھٹا کر کے طالبانیزیشن کو جنم دیا اور انہی مذہبی جنونیوں کو افغانستان کی سرزمیں پر سویت یونین کے خلاف استعمال کیا اور سویت یونین کے بکھر جانے کے بعد دنیا کی امن کے لیے یہ درد سر بن گئے اور پاکستانی ریاست انہیں آج بھی افرادی قوت فراہم کر کے افغانستان کی سرزمین پر امریکا کے خلاف اور بھارت میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

مزید مضامین:

منڈیلا کا ایک قول ہے کہ "ہمیشہ پیچھے سے رہنمائی کرو اور لوگوں کو یہ باور کراو کہ رہنما وہ ہیں

مستونگ دھماکے میں خون سے لت پت لاشیں بھی پنجابی میڈیا کا ضمیر جگانے میں ناکام رہے

اتحاد کس چڑیا کا نام ہے!

جب بھی امریکہ یا کسی عالمی ادارے کی جانب سے پاکستان پر دباو بڑائی جاتی ہے کہ وہ دہشتگردوں کا معاونت کار بننے سے گریز کرے تو وہ معصوم بلوچوں اور پختونوں پر حملہ کروا کے دنیا کی نظروں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ جی ہم خود دہشتگردی کا شکار ہیں، اس کی مثال ہمیں موجودہ وقت مین ملتی ہے جب پاکستانی ریاست بلیک لسٹ میں شامل ہونے جا رہی ہے تو انہوں نے پختونوں اور بلوچوں پر دو خودکش دھماکے کروا کے دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ دنیا یہی سمجھے کہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے اور ان حملوں کا زمہ دار اکثر بھارت اور افغانستان پر لگاتا آ رہا ہے اور دوسری جانب بلوچ آزادی پسندوں کی تحریک کو بھی انڈیا اور افغانستان کی پروکسی قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے ۔

لیکن دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر پاکستان میں ان دہشتگرد حملوں میں افغانستان اور بھارت ملوث ہوتے تو انہوں نے بلوچوں اور معصوم پختونوں کے بجائے حافظ سعید اور پاکستانی مذہبی تعلیم گاہوں کو نشانہ بناتے،  جہاں سے دہشتگرد پیدا کیے جا رہے ہیں۔

اگر دنیا حقیقت میں اس خطے میں امن چاہتی ہے تو پاکستان جیسے غیر فطری دہشتگرد نام نہاد ریاست کو  نقشے سے نکال کر آزاد سیکولر بلوچستان کی حمایت کرنا چاہیے وگرنہ پاکستان کے رہتے ہوئے اس خطے میں امن رہتی دنیا تک صرف ایک خواب ہی رہہ جائے گا۔

تحریر: عابد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close