گڈانی پراجیکٹ یا بلوچ نسل کُشی

ہر قبضہ گیر اپنی رِٹ اور استحصال قائم کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑتا خواہ وہ ہزاروں جانوں و مال مویشی کے صورت میں نقصان کا ہو یا فضا کو آلودہ کرنے گھناؤنے اقدامات کی شکل میں ہو۔ 1866ء کو برطانوی سامراج نے بلوچستان میں "فارورڈ پالیسی ” کے نام پر کوسٹل ہائی وے ، ڈیپ سی پورٹ ، ریلوئے لائن جیسے منصوبے شروع کئے جو دراصل میگا استحصالی منصوبے تھے ۔ اُس وقت بھی ان منصوبے کے خلاف وڈیرہ غلام حسین بگٹی نے مری اور کھیتران قبائل کیساتھ مل کر مخالفت کی اور مزاحمت کرکے شہادت نوش کیا۔
آج بھی مقبوضہ بلوچستان میں مختلف استحصالی منصوبے دوسرے بورژوازی ممالک کے معاون سے عمل درآمد کرنے کی بھر پور کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان منصوبوں میں میگا پراجیکٹ یا انگریزوں کی "فارورڈ پالیسی ” کے خواب کو تعبیر میں لانے کیلئے چین کیساتھ ڈیپ سی پورٹ، گوادر تا کاشغر ریلوئے لائن ، کوسٹل ہائی وے کی منصوبہ بندی اور دوسری طرف "گڈانی براجیکٹ” جیسی منصوبوں کے بارے میں اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔
اگست2013ء میں زور و شور کیساتھ گڈانی پاؤر پراجیکٹ کی بازگشت سنائی دی گئی۔ اس کی فیزبلٹی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بجلی کی شارٹ فال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
گڈانی پاؤر پراجیکٹ کول (کوئلہ ) کی بنیاد پر بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ دس پاؤر پلانٹس پر مشتمل ہوگی ۔ ایک پلانٹ کی بجلی پیداوار 660میگاواٹ ہوگا جو کُل 6600میگاواٹ بجلی پیدا کریگا۔ ماہرین کے مطابق یہ میگاواٹ پاکستان میں بجلی شارٹ فال ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس پوری پراجیکٹ پر کُل لاگت 14بلین ڈالرز ہوگی۔ پاکستان نے ایک پاؤر پلانٹ پر سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے جس کی لاگت تقریباً 2بلین ڈالر ہوگی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس حوالے سے ورلڈ بینک اور دوسرے مالیاتی اداروں سے قرضہ لینے کی ہدایت بھی کی جس کے نتیجے میں ایشین ڈِولپمنٹ بینک نے ایک بلین ڈالر قرضہ دینے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ دوسری طرف دوسرے ممالک کے سرمایہ داروں کو سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی گئی۔ نتیجاً ہمیشہ کی طرح اس بار بھی چین نے دلچسپی ظاہر کی ، صرف دلچسپی ہی نہیں ، چین نے 4پلانٹس کی تعمیر کا عندیا دیدیا اور اپنی خواہشات کو جلد عملی جامعہ پہنانے کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ تُرکی اور جنوبی کوریا کی سیمسنگ کمپنی نے کول -فائرڈ پراجیکٹ میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے بلوچستان حکومت نے پانچ ہزار ایکڑ کی زمین پراجیکٹ کیلئے فراہم کی۔ یہ پراجیکٹ سالانہ 20ملین ٹن کوئلہ برآمدگی کا سہولت مہیا کریگا۔ پاکستانی سائنسدان سمر مبارک مند نے بی بی سی کو انٹریو دیتے ہوئے کہا "اگر تھرپارکر اور لاکڑا سے کوئلہ برآمد کیا جائے تو 8روپے فی یونٹ اور اگر بیرونِ ملک سے برآمد کیا جائے تو 13روپے فی یونٹ ہوگا۔حکومتِ پاکستان نے گڈانی پاؤر پارک سے چار ٹرانسمیشن لائن فیصل آباد، لاہور، جامشورو، کوئٹہ تک رسائی کی منصوبہ بھی بنائی جس کی لاگت پانچ سے سات بلین ڈالرز ہوگی۔ اس حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کیمطابق 2018ء تک اس پراجیکٹ کو مکمل کرلیا جائیگا۔
حکومتِ پاکستان نے اس منصوبہ کو نہایت ہی سود مند قراردیا۔ اور وہاں کی رہائشیوں کیلئے حکومت کی جانب سے روزگا ر اور دیگر ضروریات پوری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن دوسری طرف انہی پارلیمنٹرین نے اس منصوبے کو انسانی صحت کیلئے خطرہ ، آبی حیات کی شدید متاثر ہونے کا اندیشہ اورفضا کو انتہائی پُر آلود بننے کا سبب قراردیا ہے۔
اپوزیشن پر بیٹھے عبدالرحمٰن کھیتران کہتے ہیں "کوئلے کی بنیاد پر پیدا کرنے والی بجلی پراجیکٹ صحت کیلئے خطرہ اور آبی حیاتیات کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔”
ایک اور اپوزیشن مولانا عبدالواسع نے کہا”یہ پراجیکٹ جو بلوچستان میں ابتداء ہورہا ہے دوسری ممالک میں کوئلے کی بنیاد پر بجلی پیدا کرنے والی منصوبوں کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے اور ختم کیا جارہا ہے کیونکہ اس طرح کے منصوبوں کے لاتعداد نقصانات اور سنگین نتائج نکلتے ہیں۔”
اسکے علاوہ کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر موزم علی نے کہا ” اس سے لاتعدا د اور مختلف قسم کے گیس کا اخراج ہوگا جو اردگرد کے آبادی پر بے جا منفی اثرات مرتب کریگی۔
اِس ساری صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کے بعد یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ ریاستی مقتدرہ نقصانات کو خاطر نہ لاتے ہوئے صرف اپنی اُلو سیدھا کرنے کی تگ و دو میں ہے۔ ان کے اپوزیشن، دانشوراور ماہرین کے اُن عوامل پر نقطہ چینی کے باوجودوزیراعظم نے مارچ 2014ء کو کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ 2010میں کول -فائرڈ پراجیکٹ کے حوالے سے ساؤتھ افریقہ نے ورلڈ بینک سے قرضے کی مانگ کی جس کی حساسیت اور انتہائی متاثرکُن نتائج کے پیشِ نظر قرضہ دینے سے انکار کیا ۔ جب اس کے نقصانات فوائد سے کئی زیادہ ہیں تو پھر یہ اقدام کیوں؟؟؟؟
یہ ایک حیران کُن بات نہیں اِسے ایک اضافی بلوچ نسل و معاش کُش پالیسی یا منصوبہ گردانہ غلط نہ ہوگا ۔ قبضہ گیر نے ھٹلر یا نازی کی "make into pieces” والی پالیسی سے بالاتر ہوکر متعدد زاویے سے بلوچ نسل کُشی پر عمل پیرا ہے جس میں تعلیمی اداروں کی بندش، بلوچ طالب علموں کو اغواء و قتل کرنا، جارحانہ آپریشن، بلوچوں کا معاشی قتل ، ماحولیاتی آلودگی ، آبی حیاتیات کو نقصان پہنچا کر بلوچ ماہیگیر طبقہ کو بھوک و افلاس میں مبتلا کرنا والی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ گڈانی میں آباد بلوچ وہاں صدیوں سے مقیم ہیں اُن کا معاشی تعلق شعبہ ماہیگیری سے ہے۔ اِس منصوبے کی توسط سے اُنہیں نکل مکانی پر مجبور کیا جارہا ہے۔ منصوبے کو آپریشنل بنانے کے بعد آبی حیاتیات شدید متاثر ہوگی جس سے بلوچوں کا معاشی قتل مزید تیز تر ہوگا۔ اس کے علاوہ فضائی آلودگی سے مختلف بیماریاں وہاں آبادیوں کو جھکڑینگی جس سے یہ منصوبہ باقائدہ ایک نسل کُش پالیسی کا عکاسی کریگا ۔
بلوچ ماہیگیر طبقہ شروع دِن سے ریاستی حربوں کا شکار رہا ہے کبھی ٹرالنگ ، ڈیزل کی ترسیل جو مختلف ادوار میں احتجاج کے باوجود اب بھی جاری و ساری ہے۔

نوٹ (یہ مضمون بلوچ ریپبلکن پارٹی کی نمائندہ کتاب "اُرش” کے دوسرے شمارے میں شائع ہوچکی ہے)۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close