بلوچستان لبریشن فرنٹ نے مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کہا کہ ہفتہ کے روزسرمچاروں نے ضلع کیچ، دشت بل نگور میں پاکستانی فوج پر اُس وقت حملہ کیا جب وہ ایک اسکول میں گھس کر مردم شماری کی تیاری اور لوگوں کو اندراج کیلئے مجبور کر رہے تھے۔ حملے میں قابض فوج کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ جس کے رد عمل میں حواس باختہ دشمن نے اندھا دھند فائرنگ کی اور مارٹر کے گولے برسائے۔ ہفتہ ہی کے روز مند کترینز میں مردم شماری کیلئے کھڑے سیکورٹی اہلکاروں پر اسنائپر رائفل سے حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔ کل شام کو جھاؤ میں پاکستانی فوج کی زیلگ گاؤں میں قائم کیمپ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے دشمن فوج کو جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ گہرام بلوچ نے کہا کہ مردم شماری کے سلسلے میں پاکستانی فوج کی نقل وحرکت میں تیزی آئی ہے اور بلوچ عوام پر، تشدد، اغوا اور گمشدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس مردم شماری کا مقصد بلوچ قوم کو اقلیت ظاہر کرنا ہے۔ کیونکہ یہ مردم شماری ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب بلوچستان کی آزادی کی جد و جہد بلوچستان کے کونے کونے میں پھیل چکی ہے۔ دوسری طرف لاکھوں غیر ملکیوں کو بلوچستان میں آباد کرکے بلوچستان کی ڈیموگرافی کو تبدیل کیا گیا ہے۔ اسی طرح فوجی آپریشنوں سے مجبور ہوکر دس لاکھ بلوچ اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر مختلف علاقوں میں در بدر کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک بہت ہی بڑی تعداد جلا وطنی کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہ قابض کی سازشیں ہیں، ان کے خلاف سخت مزاحمت کی جائیگی۔ مردم شماری میں شرکت و اندراج کرکے اسے کامیاب تصور کرکے بلوچوں کی موجود تعداد کو حقیقی تعداد بتا کر بلوچ قوم کو ایک گروہ پیش کرنے کی تیاریاں ہیں۔ اسے ناکام بنانا ہر بلوچ کا قومی فرض ہے۔ 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close