فورسز نے تنظیم کے مر کزی انفارمیشن سیکرٹری کے گھر کو گھیرے میں لیکر لوٹ مار کی۔ بی ایس او آزاد

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی کاروائیوں کی شدید لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح آواران میں فورسز نے تنظیم کے مرکزی انفارمیشن سکریٹری شبیر بلوچ کے گھروں کو گھیرے میں لیکر لوٹ مار کی، اس کے علاوہ جھکّرو میں گھروں کی لوٹ مار کے دوران وہاں موجود نصف درجن موٹرسائیکل بھی فورسز اپنے ساتھ لے گئے۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچستان بھر میں گزشتہ ایک عرصے سے شدید فوجی آپریشن جاری ہیں، ان آپریشنوں کے نتیجے میں اب تک نہتے لوگوں اور خواتین بچوں کی بڑی تعداد کو فورسز نے قتل کردیا ہے، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان آپریشنوں کے دوران گرفتار کرلیے گئے ہیں جن میں سے بیشتر اب تک لاپتہ ہیں۔ لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ترجمان نے کہا گزشتہ کئی دنوں سے دشت، ڈیرہ بگٹی، اور بولان کے علاقوں میں بھی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ روز ایک کاروائی کے دوران فورسز نے مند میں ظہور نامی ایک نہتے نوجوان کو شہید اور متعدد کو گرفتار کرلیا تھا، دشت میں آپریشن کے دوران عام لوگوں کی مال مویشیوں اور گھروں کو فورسز نے نشانہ بنا کر نقصان پہنچایا۔ڈیرہ بگٹی میں دورانِ آپریشن ایک درجن سے زائد لوگوں کو فورسز اٹھا کر اپنے کیمپوں میں لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ، انہیں اغواء کرنے اور گھروں میں لوٹ مار کرنے اور نظر آتش کرنے کے لئے بلوچستان میں فورسز کو مکمل چھوٹ دی گئی ہے جس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر بلوچ نسل کشی کی کاروائیوں میں شدت لایا جارہا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار عالمی تنظیموں کی خاموشی بلوچ عوام کو قاتل فورسز کی رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ہے۔ بی ایس او آزاد کے ترجمان نے متعلقہ عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچ نسل کشی کی کاروائیوں کو روکنے اور ہزاروں لاپتہ سیاسی کارکنوں کی بازیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close