افغانستان ایک عظیم فرزند اور بلوچ ایک عظیم دوست سے محروم ہوگئے ۔ ریپبلکن رپورٹ

کوئٹہ/رپورٹ(ریپبلکن نیوز) افغانستان کے صوبے قندھار میں پاکستانی حمایت یافتہ طالبان کے حملے میں صوبے کے پولیس کے سربراہ عبدالرازق کے شہید ہونے کی خبر نے افغان سمیت بلوچوں کو بھی غم میں مبتلا کردیا، کیونکہ جنرل عبدالرازق بلوچوں کے دوست مانے جاتے تھے۔

جنرل عبدالرازق کی ہلاکت پر سوشل میڈیا میں سرگرم بلوچ کارکنان نے انتہائی غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستانی خفیہ اداروں کی کارستانی قرار دیا، کیونکہ پاکستانی عسکری ادارے جنرل عبدالرازق کو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن تصور کرتے تھے اور اس پر پہلے بھی متعدد بار جان لیوا حملے ہوچکے تھے۔

جنرل عبدالرازق پر ایک محافظ نے اس وقت حملہ کردیا جب وہ ایک مینٹنگ سے باہر نکلے، جبکہ ان کے ہمراہ اعلی امریکی حکام بھی موجود تھے جو اس حملے میں محفوظ رہے جبکہ عبدالرازق اور صوبے کے خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل عبدالمومن بھی جاں بحق ہوگئے۔

مزید رپورٹس:

ڈیرہ بگٹی کے وسائل و مسائل 

بلوچستان میں بند انٹرنیٹ سروسز کی بحالی ریاستی سازش بھی ہوسکتی ہے 

طالبان پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کو کیوں مارنا چاہتے ہیں

سماجی و سیاسی حلقوں میں عبدالرازق کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے بہادری سے دہشتگردی کا مقابلہ کیا اور اپنی آخری سانس تک دہشتگردوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

اس موقع پر بلوچ ریپبلکن اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین ریحان بلوچ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہاہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغانستان نے ایک اور عظیم فرزند کو کھودیا، انہوں نے کہا کہ افغان باشندوں کو چایئے کہ  افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے  جنرل عبدالرازق کے نقش قدم چلیں۔

فغان خفیہ ادارہ (این ڈی ایس) کے سابقہ ڈائریکٹریٹ آف سیکیورٹی رحمت اللہ نبیل نے ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ افغانستان کے لیے آج کا دن دکھ کا ہے، ہم نے افغانستان کے حقیقی فرزند اور استحکام کے ایک اہم ستون کو کھودیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین کے کہ آج پاکستان میں فوجی ہیڈ کوارٹر(جی ایچ کیو) میں جشن منایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم احمد شاہ مسعود کی شہادت کے بعد جنرل رازق کی موت افغانستان کی صورتِ حال پر سنگین اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو متحد اور تیار رہنا چاہئے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور قومی اسمبلی کے ممبر موسن داوڑ نے ٹویٹر پر جاری اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ وہ قندھار پولیس کے سربراہ عبدالرازق کی موت پر افسردہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رازق بہادری اور طاقت کی علامت تھا اور انہیں افغانستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک سچھے فرزندِ سرزمین کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔

جنرل رازق کی دہشتگرانہ حملے میں ہلاکت کی دنیا بھر کے اہم شخصیت نے پھرزور مذمت کی ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان کی خدمات اور سراہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان میں سوشل میڈیا مٰیں جنرل رازق کی شہادت پر خوشی کا کھل کر اظہار کیا جارہا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close