پندرہ سالوں سے والد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔فرزند علی اصغر بنگلزئی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)وائس فاربلوچ مسنگ پرسنز کے رکن اور لاپتہ ہونیوالے علی اصغر بنگلزئی کے بیٹے غلام فاروق بنگلزئی نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے والد کی بازیابی کے لئے آئینی اور پرامن طریقہ اپنا یااور15پندرہ سالوں میں ہرانصاف فراہمی کے ادارے کے دروازے پر دستک دی لیکن ہمیں کہیں سے بھی انصاف نہیں ملا۔ ہم آٹھ بہن بھائی ہیں والد کا سایہ نہ ہونے کی وجہ اس طویل وقت میں شدید ذہنی پریشانی اور دردناک حالات سے گزرے ہیں، ان تکالیف کوبیان شاید الفاظ میں نہ کی جاسکے لیکن محسوس ہرذی عقل انسان کرسکتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا ا س موقع پر چیئرمین نصراللہ بلوچ بھی موجود تھا انہوں نے کہا ہے کہ18اکتوبر 2001ء کو ہمارے والد علی اصغربنگلزئی کو محمد اقبال کے ساتھ حکومتی اداروں نے ڈگری کالج کوئٹہ کے سامنے سے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا۔ بعدمیں محمد اقبال کو چھوڑ دیاگیا لیکن ہمارے والد تاحال حکومتی اداروں کے حراست میں ہیں۔رہائی کے بعد محمداقبال نے اپنے حلفیہ بیان عدالت ، حکومتی کمیشن اور دیگراداروں کے سامنے ریکارڈ بھی کروایا، انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مجھے اور علی اصغر بنگلزئی کو حکومتی اداروں نے گرفتار کیا 2008ء، اس کے بعد 2010ء اور حال ہی میں ہمیں مختلف ذرائع سے اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں کہ علی اصغر بنگلزئی کو حکومتی اداروں کے حراست میں دیکھا گیاہے انہوں نے کہا ہے کہ 2001ء لے کر 2006ء کے آخر تک ہمارے والد کا کیس بلوچستان ہائیکورٹ میں چلتا رہا اورفروری 2007ء سے ہمارے والد کا کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔اس کے علاوہ سینٹ کے انسانی حقوق کی کمیٹی میں بھی یہ کیس زیر بحث رہا اور حکومت کی طرف سے لاپتہ افرادکے حوالے سے بنائی گئی کمیشن میں بھی یہ کیس زیر سماعت رہا۔کمیشن کے سامنے سابق ایم این اے اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء حافظ حسین احمد نے 2010ء میں پیش ہوئے

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker