منڈیلا کا ایک قول ہے کہ "ہمیشہ پیچھے سے رہنمائی کرو اور لوگوں کو یہ باور کراو کہ رہنما وہ ہیں

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) نیلسن منڈیلا کی پیدائش 18 جولائی 1918ء میں جنوبی افریقہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی تھی۔ وہ مديبا قبیلے سے  تعلق رکھتے تھے اور جنوبی افریقہ میں انہیں اکثر ان کے قبیلے کے نام یعنی مدیبا کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا۔ ان کے قبیلے نے ان کا نام ”رولہلاہلا دالب ہگا“ رکھا، اسکول کے ایک ٹیچر نے ان کا انگریزی نام نیلسن رکھا۔ ان کے والد تھیبو راج خاندان میں مشیر تھے اور جب ان کی وفات ہوئی تو نیلسن منڈیلا نو سال کے تھے، ان کا بچپن تھیبو قبیلے کے سربراہ جوگنتابا دلنديابو کے ساتھ گزرا۔

بچپن سے ہی وہ سیاہ فام لوگوں پر ظلم کو دیکھتا رہا، نسل پرستی کی جڑیں جنوبی افریقہ میں یورپی حکومت کے ابتدائی دنوں سے ہی موجود تھیں، لیکن 1948ء میں نیشنل پارٹی کی پہلی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد نسل پرستی کو قانونی درجہ دے دیا گیا۔ اس انتخاب میں صرف گوری رنگت والی نسل کے لوگوں نے ہی ووٹ ڈالے تھے ۔
سیاہ فام لوگوں کے حقوق کے لیے افریقن نیشنل کانگریس 1912ء میں قائم ہو گئی تھی۔ نیلسن منڈیلا اس سے 1942ء میں منسلک ہوئے۔

نوجوانوں کے گروپ کے ساتھ مل کر منڈیلا نے آہستہ آہستہ اس جماعت کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ نیشنل پارٹی کی حکومت کے اقدامات پر افریقن نیشنل پارٹی کا جواب سمجھوتہ سے انکار تھا۔ 1949 میں سفید فام قوموں کے قبضہ کو ختم کرنے کے لیے بائیکاٹ، ہڑتال، سول نافرمانی اور عدم تعاون کا اعلان کیا گیا ۔
سال 1955 میں منڈیلا نےافریقن نیشنل کانگریس کا ”فریڈم چارٹر“ لکھا۔ جس میں انہوں نے قرار دیا کہ ”جنوبی افریقہ ان تمام کا افراد ہے جو یہاں رہتے ہیں۔ سیاہ فام اور سفید ۔ اور کوئی بھی حکومت اقتدارکے حق کا اس وقت تک دعویٰ نہیں کر سکتی جب تک وہ جنوبی افریقہ کے تمام لوگوں کی مرضی سے تشکیل نہ دی گئی ہو۔

مزید مضامین:

اتحاد کس چڑیا کا نام ہے!

مستونگ دھماکے میں خون سے لت پت لاشیں بھی پنجابی میڈیا کا ضمیر جگانے میں ناکام رہے

جنگِ آزادی اور اس کے نوجوانوں پر نفسیاتی اثرات 

1958ء میں ایک قانون نافذ کر دیا جو مخلوط نسل اور سیاہ فام لوگوں کو کچھ جگہوں پر جانے سے روکتا تھا ۔
منڈیلا اور ان کے سیاسی دوستوں پر غداری کا کیس لگا کر گرفتار کیا گیا.لیکن پھر ان کو 1960 کو واپس رہا کردیا گیا۔
دو سال بعد قانون کے خلاف ایک احتجاج کیا گیا ایسی احتجاج میں فائرنگ سے 60 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور بغیر مقدمے کے تحت پھر سے منڈیلا کو گرفتار کیا۔

جیل کے باہر آنے کے بعد وہ ہمیشہ اپنا روپ بدلتا تھا. کبھی کسان تو کبھی مزدور، لیکن انہیں 1962ء میں گرفتار کر کے پانچ سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا دو سال بعد عدالت نے منڈیلا کو مختلف کیسوں میں عمر قید سنا.لیکن 1970 کی دہائی طلباء کارکنوں نے ایک تحریک پھر سے شروع کی.اور ساتھ ہی منڈیلا کی رہائی کے لیے بھی دباؤ میں اضافہ ہو رہا تھا۔

آہستہ آہستہ حکومت کے خلاف لوگوں میں شعور بیدار ہوئی اور 1990 انہیں رہائی ملی، نسل پرستی کے خلاف جدوجہد پر 1993 میں انھیں امن کا نوبل انعام دیا گیا۔1994 میں وہ بھاری اکثریت سے ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے۔2004 میں 85 برس کی عمر میں انھوں نے عوامی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے لی تاکہ وہ اپنے خاندان والوں اور دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکیں۔

5 دسمبر 2013 کو اس دنیا سے چلے گئے، آج اٹھارہ جولائی کو نیلسن منڈیلا کی 100 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کے خلاف آواز اٹھانے والے منڈیلا آج بھی ایک عالمی ہیرو قرار دیا گیا ہیں۔ وہ اٹھارہ جولائی 1918 کو پیدا ہوئے جبکہ ان کی وفات پانچ دسمبر 2013 کو ہوئی۔

نیلسن منڈیلا کو بابائے جمہوری جنوبی افریقہ کہا جاتا ہے اور جنوبی افریقہ میں انھیں احترام سے ’مادیبا‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک انٹرویو کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ وہ کیا چاہیں گے کہ لوگ انھیں کس طرح یاد کریں، تو نیلسن منڈیلا کا جواب تھا کہ ’میں چاہوں گا کہ لوگ کہیں ایک ایسا شخص تھا جس نے دنیا میں اپنا فرض نبھایا۔‘

منڈیلا کا ایک قول ہے کہ "ہمیشہ پیچھے سے رہنمائی کرو اور لوگوں کو یہ باور کراو کہ رہنما وہ ہیں”۔

تحریر: اسیر بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close