بلو چ طلبا قیاد ت کی گمشدگی، قومی جہد آزادی اور ہمار ی ذمہ داریاں

کوئٹہ/مضمون(ریپبلکن نیوز) بلو چ طلبا قیا دت کی گمشدگی ،قومی جہد آزادی اور ہماری ذ مہ د اریاں؛ یہ بہت وسیع موضوع ہے۔ اگر آپ حضرات کی معززدیو ان اجا زات دے تو میں اس پراپنے خیالات کا اظہار کر سکوں۔

بلو چ طلبا قیا دت کی گمشدگی :۔

پہلے تو گمشدگی یا جبری گمشدگی پر ذرا بحث کر تے ہیں، اس حو الے سے دنیا کی رائے کیا ہے جس پراقوام متحد ہ بہت سخت پالیسی اپناتی ہے۔ اس سے متعلق بہت سارے شق موجو د ہیں۔ مختصراً سمجھنے کیلئے چند پوائنٹس درج ذیل ہیں:

Regarding the universal Declaration Of Human Rights-
International Covenant on Econimic, Social and Cultural Rights ,the international covenant on civil and political Rights and the other relevent international instruments in the fields of human rights humanitarian law and international criminal law,
Also recalling the declaration on the protection of all persons from infroced disappearance adopted by general assembly of the United Nation in its resolution 47/133 of 18 december 1992,

کسی بھی ملک کے شہر ی کو ریاست کے کوئی ادارے کسی بھی صورت جبر ی طور پر لاپتہ اور غا ئب نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر کوئی بھی شہر ی ملکی سطح پر کسی بھی جرائم میں ملوث ہو کسی بھی ریا ست کے اپنے اور اقوام متحدہ کے آئین کے مطابق اُسے غا ئب کر نے کے بجاے عدالت میں پیش کریں تاکہ قانون اور عدالت کی روشنی میں کیس کوسنا جائے۔عالمی عدالت کی روح میں لاپتہ کرنا خود ایک جرم ہے جسے پاکستان میں ریاستی خفیہ ادارے مظلوم بلوچ قوم پردھرا رہی ہے۔

یہ عمل اقوام متحدہ کے بناے گئے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے چو نکہ جبر ی گمشدگی بلوچ طلبا قیا دت سے شر وع نہیں ہو ا ہے بلکہ 6جنو ری 1973کو کر اچی سے سردار عطا ء اللہ مینگل کے بیٹے اسد مینگل اور احمد شاہ کو جبر ی طو رپر غا ئب کرنے سے شروع ہو ئی ہے۔ اس سے پہلے شاید کو ئی کیس درج نہیں مگر اسد مینگل کے حو الے سے اس کی فو ج نے خود تسلیم کیا تھا۔اسی طر ح اگر ہم کو ہستان مری کا ذکر نہ کر یں تو نا انصافی ہو گی جہا ں مر ی بلوچوں کو پا کستانی فو ج نے 1973 کے عرصے میں لاپتہ کرنے کے بعد ہیلی کا پٹر ز کے ذریعے ان کی تشدد زدہ لاشوں کو پھینکیں۔

مزید مضامین:

بلوچستان پر قبضے کا دن وہ ہے جب ہمارے وطن کو تین ملکوں میں تقسیم کیا گیا

ریاستی اداروں کے نئے حربے اور بلوچ قومی تحریک 

اس طرح جھا ؤ اور مشکے میں میر رحیم بخش کے خاندان کے بہت سے لوگوں کو اٹھا کر پھر انکی لاشوں کو ویرانوں میں پھینک دیا گیا۔ قابض پا کستان اپنے غیر انسانی عمل کے ذریعے بلوچو ں کی نسل کشی کرتا چلا آرہا ہے۔ اگرمہذب دنیا اور انسانی حقوق کے ادارے پاکستان کو جوابدہ کریں تو یقیناًپا کستانی فو ج دنیا میں اپنے کئے گئے غیر انسانی اقدامات کا جو اب نہیں دے سکے گا لیکن آج بھی پاکستانی فو ج جبر کے سایہ تلے بلوچ قوم پر حکمر انی کر رہا ہے یہ سوالیہ نشان ہے۔

اقوام متحدہ کے آئین کو پاؤں تلے روندنے والے پاکستان کے غیر انسانی حر کتو ں کا نو ٹس کیوں نہیں لیا جا رہاہے۔ جیسا میں عرض کر رہا ہوں کہ جبر ی گمشدگی کا سلسلہ بہت پر انی ہے مگر سیا سی قیا دت اور سیا سی کا رکنوں کو اٹھا کر غا ئب کرنے کا سلسلہ بھی بہت طو یل ہے۔ غائب کر نے کے بعد انکی مسخ شدہ لا شوں کو ویرانوں میں پھینکنے کا سلسلہ 1973 سے بلوچستان میں شر وع ہوا ہے جو تاہنوز شدت کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔

پاکستان نے ہمیشہ بلو چوں کو ڈرانے اور دھمکانے میں بندوق کا سہارا لیا ہے، آج بھی اپنی طاقت کے گھمنڈمیں مدہوش،غیر انسانی پالیسیوں کے ذریعے کئی ممالک کو بلیک میل کرنے میں ماہر دکھائی دیتا ہے۔ ان کی دوغلی پالیسیوں کے باوجود بھی دنیا کے مہذہب ممالک اور عالمی ادارے پاکستا ن کو روکنے میں کیوں ناکام ہیں؟ کیو ں پاکستان اپنے نام نہا د قانون کے ساتھ عالمی قوانین کو پاؤں تلے روند رہی ہے ؟

اب ہم بلوچ طلبا قیادت کی گمشدگی کا ذکر کر تے ہیں، اس کی تا ریخ بھی بہت لمبی ہے۔ سب سے بڑا واقعہ 23 یا 24مارچ 2005کے درمیانی شپ کو کر اچی کے گلستان جو ہر میں واقع ایک فلیٹ سے بی ا یس او کے مرکزی چیرمین ڈاکٹر امدا د بلوچ انفارمیشن سیکریٹری ڈاکٹر یو سف مر اد، مرکزی ممبر ان ڈاکٹر نسیم بلو چ ،جی آر بلو چ بی ایس او آزاد کے بانی چیرمین ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ ،اختر ند یم ،علی نواز گو ہر کو اغو اکیا گیا۔بی ایس او کے مرکزی قیادت کی بازیابی کیلئے ملک بھر میں سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں نے احتجاج کیے ۔ ایک سال سے زیادہ ٹارچر سیلوں میں رہنے کے بعد تمام دوست وقتاً فوقتاً بازیاب ہوئے۔مگر ریاستی پالیسی آج بھی بلوچ کیلئے یکساں ہے تاکہ بلوچ نوجوانوں میں سیاسی سوچ اور بلوچ قومی تا ریخ سے دلچسپی کا اظہار کم ہو۔اس لئے آج بھی پاکستان بلو چستان میں طا قت کا استعما ل کررہی ہے تاکہ تشدد سے بی ایس او جیسی پر امن تنظیم میں قومی سوچ کو جمود کا شکاربنایا جائے۔

پاکستان پر ست پارٹیاں جو نام نہاد وفا ق کی سیاست کر تے ہیں بی ایس او سے فارغ التحصیل کارکناں کو اسی سوچ اور سیاست سے منسلک کرنا چاہتے ہیں۔ان تمام ردانقلابی اقدام بی ایس او کے دوستو ں کو بلوچستا ن کی جہد آزادی کی جدو جہد سے دستبردار نہ کراسکی ۔قومی آزادی کی سوچ سے لیس نوجوانوں کے بنائے گے طلبا تنظیم بی ایس او جسکی بنیا د 2002میں رکھی توبعد میں جتنے بھی دھڑے تھے 2006کو یکجا ہوئے۔۔اسی طرح بی ایس او منظم اور انتشارکے سلسلے میں گزرتا رہا مگر قومی آزادی کی تحریک میں سیاسی پختگی بڑھتا رہا۔

بلوچ تنظیم اور پارٹیاں مضبوط ہوتے گئے۔اسی وجہ سے طلبا قیا دت کو چھن چھن کر غا ئب کر نے کا سلسلہ شروع ہوا اوربلوچستان کی سیاسی صور ت حال میں اس وقت تبدیلی دیکھنے کو ملی جب بزرگ بلوچ رہنما نو اب اکبر خان کی شہا دت ہوئی۔ اس کے خلاف بی ایس او کے نو جو انو ں نے بلوچ عوام کے ساتھ ملکر قابض ریاست کے خلاف شدت انگیز ردعمل دکھایا۔ کو ئٹہ سمیت بلوچستان میں ہز اروں کا رکن قید کرلیئے گئے۔ یہاں بلوچ تحر یک نے نیا رخ اختیا ر کیا۔ بلوچ قوم میں آزادی کا جذبہ شدت کے ساتھ ابھرا مگر بلوچ قیادت حالات کوسمجھنے سے قاصررہے جو بر وقت بہتر فیصلہ نہیں کر پائے ۔ خوش قسمتی سے بلوچ عوام اپنے رشتے کو بلوچ آزادی پسند پارٹیوں کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب رہے تو اس کے بعد بلوچستان میں مسخ شدہ لا شوں کا سلسلہ شروع ہو۔ ا یہ سلسلہ تاحال جار ی ہے جو رکنے کا نام تک نہیں لیتی ۔

مزید مضامین:

بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت اور سیاسی تبدیلیاں 

ستائیس مارچ اور بلوچ قومی تحریک

آج میں صرف چند نام لیتا ہوں لیکن انکی تعدا د سینکڑوں میں ہے۔ سنگت ثنا ء، کمبر چا کر ، آغاعابد شاہ،فر ید بلوچ ، ممتاز کرد ،واحد بالاچ ، شفیع بلوچ، الیا س نظر ،فر ید بلوچ ،کامر یڈ قیو م ،رسول جان ،فد ا بلو چ ، ماجد بلوچ ،حاصل بلوچ ،سراج بلوچ ،صادق بلوچ ،شاکر بلوچ سمیت سینکڑوں نو جو انو ں کو پا کستانی فو ج نے اُٹھا کر غا ئب کر نے کے بعد انکی مسخ شدہ لا شیں پھینک دی۔ اسی طر ح ذاکر مجید ، سمیع مینگل ،چیئرمین زاہد بلوچ ،شبیر بلوچ ،ثنا ء اللہ بلوچ ،حسا م بلوچ ،نصیر بلو چ ،عمران قلندارنی ،ارشاد قلندارنی ،آفتا ب قلندارنی،مشتاق بلوچ بی ایس او کے کا رکن ہیں انھیں لاپتہ کردیا گیا۔ ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات نہیں۔ بی ایس او پر ہو نے والی ریا ستی جبرکو بی ایس او کے کارکن سہتے آ رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا ہم جبرکے شکا ر ہو تے جائیں ،یا بلوچستان کے وہ باشعور لوگ جو یہاں بیٹھے،دیکھ رہے ہیں ریاستی جبر کی پا لیسی کو آشکار کر نے میں کسی طرح کا رول اد ا کرنے کیلئے تیا ر ہیں؟ یہ جو منظم انداز میں بلوچ نسل کشی ہورہی ہے اسے دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب ہو پائیں گے؟

ایک اور با ت میں اس مقدس مجلس میں رکھنے کا حق رکھتا ہوں ، کیا ماضی یا ماضی قریب میں کہی پہ جا کے ہم سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں کہ جن میں نقصانات کا انبار دیکھنے کو ملتا ہے؟ یہاں میرا مقصد آج ہم ماضی کی غلطیوں کو سامنے رکھ کر مستقبل کیلئے نئی پالیسیوں کو اپنانے میں ہم آہنگی اور صلاح و مشاورت سے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔اور ساتھ ساتھ ان غلطیوں کی نشاندہی کرنا تا کہ آنے والے دنوں میں جو شاید آج کے مقابلے میں زیادہ کھٹن ہوں ان کا مقابلہ کیا جاسکے۔

پاکستان اپنی طاقت کے بل بوتے پہ انسانی حقو ق کی جو خلا ف ورزیاں کر رہی ہے دنیا کے سامنے ان حالات کو مدلل انداز میں بیان کرنے اور ان کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرنے کی عمل کو یقیناً ایک منظم پارٹی ہی ادا کرسکتا ہے۔ ’’ پارٹی مو جود ہیں وہ کس حد تک منظم ہیں یہ ایک سوال ہے۔؟‘‘ لیکن اس کمی کوہم محسوس کر تے آ رہے ہیں۔ اسے پو ری کرنے کی ضر ورت ہے۔ (اگر ہم اس بحث میں جائیں کہ پا رٹی میں کیا کیا کمی ہیں جن کی نشاندہی کر یں تو بحث کا رخ بدل جاتا ہے لہذ ا اس پر مز یذ بحث کر نے کی گنجائش موجو د ہے جو کسی وقت ممکن ہے ) ’’ کیا ہم پہ غلامی نے اس طر ح اثر کی ہے کہ ہم درد کے عادی ہو گئے ہیں۔ صر ف یہ کہتے ہیں کہ اب تو یہ روز کا معمو ل ہے‘‘ ۔ اس کے حل کی طر ف نہیں جاتے ہیں یا یہ سمجھیں کہ وہ ان مذہبی بنیاد پر ستوں کی طر ح جو کچھ نہیں کر تے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طر ف سے آنے والے عذاب ہیں۔

ہم اس طرح کے سوچ کے مالک نہیں ہیں،، یا یہ کہیں کہ جد وجہد میں اس طر ح ہو تا ہے۔ شہادت اور اغو ا نما گر فتا ری کا سلسلہ جا ر ی رہتا ہے۔ تو یہ خو د فر سودہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے‘‘ کیو نکہ ہم ایک ریاست کی تشکیل کی طرف جارہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں یہا ں تک کافی نہیں ۔غو ر کیجیے یہ بہت بڑی کمزوری ہے ہم کیو ں اپنی تحر یک کو منظم طر یقے سے آگے لے جانے میں ناکا م ہو گئے ہیں؟ (جب بات منظم کی آتی ہے تو سب حیر ان ہو جائیں گے کہ کس طرح کا منظم ہو نا؟ جنگ تو جاری ہے ہر ایک کی ڈسپلن مو جو د ہے میں کہتا ہوں یہی وہ خطر ہ ہے جہاں اندرونی جنگ کا خطر ہ مو جو د ہے۔ وہ بلوچ تنظمیوں کی آپسی اختلا فات ہی منظم سسٹم کو بر باد کر دیتاہے)۔ اس کی وجو ہا ت کیا ہیں؟ اگرآج ماضی میں ہونے والی تمام غلطیوں پہ نظر ڈالیں ( اور ایک سوال یہا ں بھی پید اہو تا ماضی کی غلطیاں کو ن سے ہیں میر ے خیال میں ہروہ باشعور جو تحر یک آزاد ی پر نگا ہ رکھتا ہے وہ تمام کمزوریو ں کو اچھی طرح جانتے ہیں ) اور سنجیدگی سے قومی سوال کے حل کی طرف جائیں تو یقنیاً ہم پا رٹی کی تشکیل کی طرف جائیں گے۔

اس حو الے سے بحث و مبا حثے کا آغا ز ہو نا چاہئے کیو نکہ اسی میں ہماری بقا ء ہے تا کہ دنیا کو ہم باخبر کر سکیں۔ جس وقت غلام محمد ،صبا دشتیار ی ،حمید شاہین ،امیر بخش لانگو ،ماسٹر نذیر مری ،علی شیر کرد ،آغا عابد شاہ ،شفیع بلوچ سمیت سینکڑوں رہنماؤں کی گر فتاری کے بعد قتل کیا گیا۔ لیکن عالمی سطح پر ہم کچھ نہیں کر سکے۔ اس کی وجو وہات کیا ہیں؟ اب ہم عالمی سطح پر ان رہنما ؤ ں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ وہ بلوچ کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔ ان رہنما ؤ ں کو اس بحث کاآغا ز کر نا ہو گا ۔ بحث و مباحثے کے بعد ہی قومی سوال حل طلب ہوگا جہاں ریاستی ظلم کو روکنے کے ساتھ ہم اپنی منزل پانے میں بھی کامیاب ہونگے ۔بشرطیکہ ہمارا اندازِ عمل علمِ سیاسیات کے دائرے کار کے اندر ہوں۔

جہد آزادی اور ہما ری ذمہ اریاں:۔

بلوچ جہد آزادی آج کس مقام پہ ہے وہ ہما رے سامنے ہے۔ اگر حقیقی بنیا دوں پر غور کر یں تو ہمیں منطقی بنیاد پر بحث کر نا ہو گا ۔ اس وقت ہما رے شہیدوں کی قر با نیوں نے ضرور ہمیں ایک اہم مقام تک پہنچایا اور ہما ری دبی ہو ئی آواز کو دنیا کے کو نے کو نے تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ اس سے تحریک کا نام دنیا میں اجاگر ہوا ہے لیکن اپنی کمزوریوں اور تحریک کو مزید تقویت اور جدت بخشنے کے حوالے سے اگر ہم آج سوال نہیں اٹھا ئیں تو مجر م گردانے جائیگے کہ جہد آزادی کے نام پر ہر ایک نے ڈیڑھ انچ کی مسجد تعمیر کی ہے (شاہد کو ئی اس بات پر چہ میگوئی ہوں کہ کس طر ح تقسیم ہیں؟ وہ سب کے سامنے عیاں ہیں )۔ اس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ وہ صر ف اپنی مفا دات کے پیچھے بھاگنے میں مصروف ہیں کیونکہ جو اختلا فات ہم دیکھ رہے ہیں وہ اتنی بڑی اختلافات نہیں ہیں جنہیں ختم نہیں کیا جا سکتا ہو۔ اگر ان پر جمہو ری طریقے سے تنقید کر یں تو بھی کئی سوال جنم لیتے ہیں۔ کیو ں ہم جہد آزادی کے کا روان کو ایک ہی سمت میں نہیں لے جا رہے ہیں؟ ہر ایک یہ کہتا ہے کہ میں حقیقت پر مبنی ہو ں باقی سب میں کمزوریاں موجو د ہیں لیکن کو ئی خو د میں کمی نکالنے کی کو شش نہیں کر تا ہے۔

یہ سمجھتے ہیں دنیا میری بات کو سن لے، دنیا اتنی سادہ نہیں جتنی کہ کچھ بلوچ رہنما ؤ ں کو دکھائی دے رہا ہے ،یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی ثقافت ابھی پروان نہیں چڑھا ۔ ان باتو ں سے ہمیں مایو س نہیں ہو نا چاہئے کیونکہ تحریکوں میں ایسے نشیب و فراز آتے ہیں ۔ حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے ہمیں اس کی جگہ ہمیں ایسا ماحو ل مہیا کر نا چاہئے جہا ں کوئی گندی سوچ جنم لینے سے خو ف محسوس کر ے۔ ایسے حالات میں جنگی منا فع خو ر بھی جو بہروپیوں کے بھیس میں ہوتے ہیں انہیں بھی یہ احساس دلانے کی کوشش ہونی چاہیے کہ اب مزید وہ کسی خوش فہمی کا شکار نہ ہوں ۔ ایسا ثقافتی ماحول ہمیں تشکیل دینا ہے جس سے مفاد پرستی کا قلع قمع ہوجائے تب جا کے جہد آزادی کو ہم منزل کی طر ف لے جا سکتے ہیں ۔

مزید مضامین:

شہید رئیس جان سے جڑی کچھ بچپن کی یادیں

27 مارچ 1948 : آزاد بلوچ ریاست پر پاکستانی قبضہ گیریت کا سیاہ دن 

ایک سوا ل یہ پیدا ہو تا ہے 1948سے لیکر آج تک جتنی بغاوتیں بلوچستان میں ہو ئی ہیں وہ کامیا بی کی صورت اختیا ر کیوں نہیں کر پائی ہیں؟ اس حو الے سے آپ لو گو ں کو تحقیق کر نا ہوگا۔ اسی تحقیق کی روشنی میں آپ اپنے لئے اس وقت بہترین مستقبل کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ہما رے کچھ رہنما ؤں میں بے حسی موجو د نہیں بلکہ وقت کی نز اکت کوسمجھنے سے قاصر ہیں۔ شاید اس وقت کچھ دوست ان باتو ں سے اتفاق نہ کر تے ہوں کیو نکہ وہی رجعت پرستانہ بھوت ہم پر سوار ہے لیکن میں یہ کہہ سکتا ہو ں کہ آزادی کی جہد کو زند ہ ضمیر لوگوں کے ساتھ لڑا جا تا ہے لیکن اُس کے ساتھ ایک نظر یہ اور سو چ کا ہو نا لا زم ہے نہ کہ جدت سے منکر ذہن کے ساتھ۔

میں اپنا اوپر والا جملہ پھر یہا ں دہر اتا ہو ں کہ سب سے پہلے ہم اپنی تحر یک کی کمزوریو ں کو سائنسی (سیا سی )بنیا دوں پر دیکھیں کہ وہ کو ن سی کمزوریا ں ہم سے سرزد ہو ئی ہیں کہ ہم جیتی ہو ئی جنگ کو 1970کی دہائی میں ہا ر گئے۔ ایک طرف بنگلہ دیشی تحر یک تھا دوسر ی طرف بلوچ قومی تحر یک آزادی تھا لیکن مو اقع سے فا ئد ہ نہیں اٹھا سکیں۔ اس کی وجو ہا ت کیا تھیں؟ کیو ں ہم اس طر ح نا کامی کی طر ٖ ف گئے؟ لیکن اس بات پر ہمیں پر یشان ہو نے کی ضر ورت نہیں ہے لیکن ہم آج نئے سرے سے اپنا اور اپنے عمل کا جائزہ لیں تو ہم بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں کیونکہ ناکامی کو سمجھنے والے کا میا بی کی طر ف بہتر طور پر گامزن ہو سکتے ہیں ۔میں ہر وقت کہتا ہوں بلوچستان پر صرف پا کستان نے قبضہ نہیں کیا ہے یہا ں ایک سوچ اندرونی اور بیرونی سطح پر قابض ہے جو ہر طر ح سے استحصالی ہے ۔ ہما ر ے تا ریخ لکھنے والوں نے ،ہما رے ثقافت پر تنقید کر نے والوں نے غرض اس قسم کے ہر سوچ نے بلو چ کو غلام رکھنے کی کو شش کی ہے۔ ایک چھو ٹی سی مثال لے سکتے ہیں ہما راتا ریخ اٹھا کر دیکھیں جتنے بھی لو گو ں نے بلوچ کی تا ریخ لکھی ہے صر ف اور صر ف بلوچوں کے ساتھ مزاق کی ہے۔ صر ٖف چند بلوچ مصنف ہیں جو منطق کی بنیاد پر کچھ لکھ چکے ہیں۔ اب اس پر مزید کا م کر نے کی ضر ورت ہے لیکن میں یہ کہتا ہو ں بلوچوں نے اپنی سر زمین پر کبھی بھی غیروں کو دیر تک یہا ں حکمرانی کر نے نہیں دیا ہے۔

اب میں اپنے دانشور حضرات اور اپنے سیا سی رہنما وں سے دست بندانہ گزارش کر تا ہو ں کہ وہ اپنی تا ریخ اور تہذ یب پر ازسرنو تحقیق کر یں اوراپنے ماضی قریب یا بعید پر بہترین تاریخ لکھ کر دیں۔ اس کا م کو منظم ادارہ ہی سر انجام دے سکتا ہے۔ اس کیلئے تما م گروپس کو چاہئے کہ وہ جو ایک فکر کو آگے لے جا رہے ہیں اس کو منظم کر نے کیلئے بحث و مباحث کی شروعات کریں ۔اگر ہم ڈپلومیسی نہیں جانتے کم از کم اب کچھ سمجھنے کی کو شش کر یں۔ یہ سمجھنا ہے کہ دنیا کس طر ح بیک ڈور پالیسی اپنا تا ہے اور وہ کس حد تک جاتے ہیں۔ بے بنیاد اختلا فات کو کم کر یں اپنے سیا سی رو یو ں پر غو ر کر یں۔ اگر کو ئی یہ سوال کر ے کہ رویہ کی تعریف کیا ہے، میں اس حو الے سے یہ کہتا ہو ں جہا ں نظریا تی اختلا فات نہیں ہو ں پھر ایک دوسر ے کے ساتھ کا م کر نے پر راضی نہ ہو نا، تو یہا ں آپ کے رویو ں میں ضرور کچھ خلل ہے جس کی وجہ سے قومی مفا دات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کے مجر م ہر وہ شخص ہے جو اس طر ح کے رویے کامالک ہے ۔

آسان الفاظ میں اس وقت ہمار ی ذمہ داریا ں یہی ہیں کہ ہم قوم کو بہتر سفارت کا ر دیں۔ اچھے سیا سی لا ئن پر بحث کاآغا ز کر یں تا کہ ہروہ عام شہری بلوچ آزادی کی جد وجہد میں اپنی بساط کے مطا بق مزید اپنا کر دار اور دشمن کے خلاف ری ایکش کا اظہار کر سکیں اس کے لئے ایک کام کر نا ہو نگا وہ یہ کہ تحر یک کے درمیان میں غیر نظر یا تی اختلافات جو بھی ہیں ان کو ختم کر نا ہو گا اور بے جا تنقید سے بچنا ہوگا جو پر وپیگنڈا کی شکل اختیار کر تا ہے۔ اسے روکنے کی ضرورت ہے ۔ اپنے ہر الفا ظ کو قوم اور قومی مفاد کے لئے استعمال کر یں۔ بے جا تنقید کی جگہ ہم وہی الفاظ جبر ی گمشدہ دوستو ں اور تحر یک آزادی کی جدوجہد کیلئے لکھیں تا کہ دشمن کو ہم ہر سطح پر شکست دے سکیں اور جدو جہد کے ساتھ چند قدم آگے چل سیکیں ۔۔۔

آخر میں یہ کہتا ہوں بلو چ سماج میں سیاسی شعور پیدا کر نے کیلئے کھٹن اور مشکل حالات میں ایک اہم موضو ع پر سیمینارکاانعقاد کر نا مثبت سیاسی سوچ ہے ۔ میں ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں جہاں بحث ومباحثے کا سلسلہ شروع ہو تو وہاں پارٹی اور قوم کبھی جمود کا شکار نہیں رہتا کیو نکہ وہ اپنی غلطیوں و کمزوریوں سمیت کامیابی اور ناکامی پر بحث و مباحث کو اپناتے ہیں تو مستقبل میں بہترراہ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ دشمن کی ظلم و جبر سہنے کے با جو د آج بھی بحث او ر مباحثوں کیلئے ہم ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کے تجر بات سے فا ئدہ اٹھانے کی کو شش میں ہیں۔
عنو ان تو بہت وسیع ہے، اسے مختصر بیا ن کر نے سے عنوان کے ساتھ انصاف کے تقاضے یقیناً پورے نہیں ہوسکتے لیکن اس موضوع کو ہمیں آگے لے جانا ہوگا ۔ ہمیں ایک ایسا سازگار ماحول تشکیل دینا ہوگا جو قوم کے روشن مسقتبل کا غماز ہو۔

نوٹ: یہ مکالہ میں نے ایک سمینا ر کیلئے تحر یر کیا تھا جو 18مارچ 2018کو ہو نا تھا لیکن کچھ ناگزیر وجوہا ت کی بنا سیمینار کا انعقاد ممکن نہ ہوسکا لہٰذا جسے اب میڈیا کے ذریعے قارئین تک پہنچا رہا ہوں۔ یہ سیمینار بلوچ نیشنل موومنٹ کے جانب سے منعقد ہونا تھی​۔

تحریر: کمال بلوچ، وائس چیئرمین بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button