یومِ شہدائے ڈیرہ بگٹی کے موقع پر بلوچ کارکنان کی جانب سے سوشل میڈیا پر کامیاب مہم

کوئٹہ/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) شہدائے ڈیرہ بگٹی کے چودویں برسی کے موقع پر آج سوشل میڈیا اور خاص طور پر ٹوئیٹر پر شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایک آگاہی مہم چلائی گئی جس میں درجنوں بلوچ سرگرم کارکنان نے حصہ لیا اور ہزاروں ٹوئیٹ پیغامات کے زریعے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیااور بلوچستان میں جاری ریاستی دہشتگردی اور خاص طورپر سترا مارچ کے قتلِ عامل کو اجاگر کیا۔سترہ مارچ 2005 کو ڈیرہ بگٹی میں فوجی بمباری میں ستر لوگ شہید جبکہ دو سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

“مری قبیلہ کے سربراہ نواب مہران مری نے اس موقع پر اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا ہے کہ آج شہدائے ڈیرہ بگٹی کی برسی ہے آج ہی کے دن پاکستانی فوج نے قاتل مشرف کے حکم پر ڈیرہ بگٹی میں ستر لوگوں کو قتل کیا اور سینکڑوں لوگوں کو زخمی کیا”

بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ نواب براہمدغ بگٹی نے ٹویٹر پر سترا مارچ کے حوالے سے جاری اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ سترا مارچ کا واقعہ پاکستانی آرمی کی جانب سے ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن کا بدترین خونریزی تھا۔ لیکن پھر بھی نواب اکبر خان بگٹی نے مسائل کے پُرامن حل کے لیے حکومتی نمائندوں سے مزاکرات کیں لیکن انہیں دھوکہ دیکر شہید کیا گیا۔

بی آر پی کے اقوام متحدہ میں نمائندہ عبدلنواز بگٹی نے اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا ہے کہ “آج ڈیرہ بگٹی میں فوجی بمباری کے متاثرین کی چودویں برسی ہے پاکستانی فوج کے اس حملے میں ستر سے زائد لوگ بے دردی سے شہید کردیئے گئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی پورے شہر کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا اور اس سب کا مقصد نواب اکبر خان بگٹی کو شہید کرنا تھا”۔

جبکہ بی آر ایس او کے چیرمین ریحان بلوچ نے سترہ مارچ کو ڈیرہ بگٹی میں فوجی بمباری کو ریاستی دہشتگردی کی بدترین شکل قرا دیتے ہوئے مزید لکھا کہ سترہ مارچ کو پورے ڈیرہ بگٹی شہر پر بمباری کر کے ستر لوگوں کو شہید کیا گیا جبکہ  بمباری کا ہدف ڈاڈائے بلوچ شہید نواب اکبر خان بگٹی تھے۔ریحان بلوچ نے مزید لکھا کہ اس بدترین دہشتگردی میں سینکروں خواتین اور بچے بھی زخمی ہوئے۔

بی آر پی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے سترہ مارچ کو بلوچ تاریخ میں سیاہ دن قرار دیتے ہوئے لکھا کہ دنیا ہم سے ثبوت مانگتی ہے تو ڈیرہ بگٹی میں بمباری کے ثبوت دنیا کے سامنے واضح ہیں کہ کس طرح معصوم و بے گناہ لوگوں پر ہولناک بمباری کر کے انہیں شہید کیا گیا۔

جبکہ بی آر پی میڈیا سیل کی جانب سے سترہ مارچ کی بمباری کی وڈیوں پوسٹ کرتے ہوئے لکھا گیا  کہ ڈیرہ بگٹی کا واقع ناقابل فراموش اور ناقابل معافی ہے۔

بلوچ ریپبلکن پارٹی میڈیا سیل کے چیف ایڈیٹر شاہنواز بگٹی نے لکھا کہ آج سے چودا سال قبل آج ہی کے دن ریاستی پاکستان کے آرمی نے ڈیرہ بگٹی شہر پر بمباری کرتے ہوئے ستر لوگوں کو بے دردی سے شہید کردیا جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

ٹویٹر کمپیئن کے دوران سینکڑوں صارفین نے سترا مارچ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پاکستانی آرمی کی بدترین دہشتگردی کی پُرزور الفاظ میں مذمت کی گئی اور شہدائے ڈیرہ بگٹی کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

 

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button