سنا ہے غریب کی بدعا اللّٰہ کبھی بھی رد نہیں کرتا ایک ایسی ہی کہانی کوہلو کا | ریپبلکن مضمون

سنا ہے غریب کی بدعا اللّٰہ کبھی بھی رد نہیں کرتا ایک ایسی ہی کہانی کوہلو کا

میں اپنے گھر کے اس پاس ٹہل رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک شخص پر پڑی جس کی پہٹے کپڑے پرانی چپل اور غریب چہرہ مجھے بہت کچھ بتانے کی کوشش کررہا تھا ایسا لگ رہا تھا اسکے ساتھ بہت ہی بڑی ناگہانی حادثہ ہوا وہ میرے طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور اپنے درد چھپانے کی کوشش کررہا تھا،

قابل عرصے تک جب میری بوڑھی ماں نے مجھ سے پوچھا بیٹا کیا معاملہ ہے کچھ دنوں سے پریشان لگتے ہو بیمار تو نہیں ہو۔! میری پریشانی اور بیماری وہ شخص تھا جسے میں نے کچھ دنوں پہلے دیکھا تھا سوچ رہا تھا کہ کچھ لفظ ملے اس شخص متعلق جسے لکھ کر تاریخ کے سپرد کردوں،

میں نے اپنے بوڑھی ماں سے اپنی پریشانی اور اس شخص کے متعلق پوچھتا ہوں تو کہنے کو ملتا ہے کہ یہ شخص کوہلو کے علاقے صوکا کی رہائشی ہے جو ایک حادثہ میں اپنے دماغی توازن کھو بیٹھ اس کی ایک بہن اندھی ہے جو کے اپنی گزر بسر کرنے کے لئے امیروں کے گھروں میں دربار بھٹکتی ہے

ان کے باپ اس گھر کا واحد سہارا تھا جوکہ گداگری سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا لیکن افسوس کینسر جیسے موذی مرض نے انکی ایک پیر ان سے چھین لی جوکہ اب پیشاب کے لئے بھی دوسروں کے محتاج ہے، میں پھر سے اپنے ماں سے پوچھنے کی کوشش کرتا ہوں

آخری ایسا کیا واقعہ ہوا اس شخص کے ساتھ جو اپنے دماغی توازن کھو دی، پھر کہا جاتا ہے یہ شخص ایک بڑے عہدے پر فائز تھا اور کچھ لوگوں کو شاید ان کی ترقی پسند نہیں تھا اور کالا علم یعنی کالا جادوگروں کی سہارا لیکر انہیں پاگل ثابت کر کے ان سے انکا نوکری چھین لیا گیا اس واقعہ کے بعد یہ شخص اپنے دماغی توازن گھو بیٹھ اور غربت کی وجہ سے اپنا علاج بھی نہیں کرسکا، تاریخ گواہ ہے کہ اس مظلوم کی نوکری چھین کر جس شخص کے نام کردیا گیا تھا

وہ بھی ایک ٹریک کی زد میں آکر عبرتناک انجام تک پہنچ گیا اس کی بیوی جوانی میں بیوہ ہوگئی اور ان کے کمسن بیٹا اور بیٹی یتیم ہوگئے پس ثابت ہوا کہ اللّٰہ غریب کی بدعا کبھی بھی رد نہیں کرتا،

تحریر؛ نذر بلوچ قلندرانی

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button