تیس لاکھ انسانی جانوں کی قربانیوں نے مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک کے سفر کو سچ ثابت کردیا (اداریہ)

وہ دن بھی دور نہیں جب بلوچستان کو ایک آزاد و خودمختار ریاست کی حیثیت حاصل ہوگی

کوئٹہ/اداریہ(ریپبلکن نیوز) مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کی پنجابی سامراج کے خلاف جنگ میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اورفوج نے لاکھوں نہتے لوگوں کو شہید کیا اور عورتوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کے جسم کے اعضاء کو کاٹا گیا۔ تین ملین بنگلہ دیشی باشندوں کے قتل عام کے بعد بھی پنجابی سامراج کو منہ کی کھانی پڑی اور شکست سے دوچار ہوکر پوری دنیا میں بزدلی کی علامت بن گئی۔

جنگی جرائم

پاکستانی قابض افواج اور ملکی خفیہ اداروں کے جنگی جرائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن ان فوجی جرنیلوں کو اور ان کے معاونتکاروں کو 2010 تک کسی بھی سزاء کے عمل سے نہیں گزارا گیا۔ حالانکہ پاکستانی پنجابی فوج نے 1971ء کے جنگ میں مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش میں تیس لاکھ سے زاہد بنگلہ دیشی باشندوں کا قتل عام کیا جو قومی نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے کسی بھی پاکستانی جوجی جنرل کو سزا کے عمل سے نہیں گزارا۔ جبکہ گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لیے ہزاروں بلوچ فرزندوں کو اب شہید کیا جاچکا ہے اور ہزاروں می تعداد میں اب بھی ریاستی قید خانوں میں بند ہیں۔

انٹرنیشنل  وار کراہمز ٹریبونل

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے پھانسی کا سلسلہ 2009 سے جاری ہے جب سے وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی جانب انٹرنیشنل کراہمز ٹریبونل تشکیل دیا گیا ہے۔ اس جنگی جرائم کی ٹریبونل کا مقصد ان پاکستان نواز دہشتگردوں کو سزاؤں کے عمل سے گزارنا ہے جنہوں نے 1971 کے جنگ آزادی میں پاکستانی فوج کا ساتھ دیتے  ہوئے بنگلہ دیشی باشندوں کا قتل عام اور نسل کشی کا ارتکاب کیا تھا۔ جبکہ ایسے گناہگار افراد کی پہچان کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس نے اب تک 1600 ایسے افراد کی نشاندہی کرلی یے جنہوں نے 1971ء کی جنگ آزادی میں سرزمین سے غداری کرتے ہوئے پنجابی اسٹبلشمنٹ کا ساتھ دیا تھا۔

1971ءکے جنگ میں پاکستانی خفیہ اداروں اور ریاستی افواج نے الشمس و البدر جیسی مذہبی تنظیمیں تشکیل دیکر انہیں تحریک آزادی کے خلاف استعمال کیا تھا لیکن درحقیقت یہ تنظیمیں پراکسی تنظیمیں تھی جو آج بھی پاکستان اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے نام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہے۔ جنرل یحیٰی خان نے اس بات کا اعتراف خودکیا تھا کہ الشمس اور البدر کو انہوں نے خود بنایا اور انہیں فوجی ٹریننگ بھی دی گئی تاکہ بنگلہ دیش میں جاری تحریک کے خلاف انہیں استعمال کیا جائے۔

الشمس اور البدر جو نیم فوجی تنظیمیں تھی نے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں لاکھوں نہتے بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا، یہاں تک کے بچوں اور عورتوں کو بھی اپنی درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے عورتوں کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنانے کے بعد ان کے جسم کے اعضاء تک کو کاٹا گیا جبکہ ہزاروں عورتوں کو عاملہ بھی کیا گیا۔

شیخ حسینہ کی جانب سے قائم کردہ جنگی ٹریبونل کے ذریعے اب تک جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو پھانسیاں دی گئی جنہوں نے 1971 ء کی جنگ میں الشمس اور البدر کے نام سے اپنے ملک سے غداری کا ارتکاب کرتے ہوئے بنگلہ دیشی قوم کی نسل کشی میں پنجابی فوج کا ساتھ دیا تھا۔

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش

16 دسمبر 1971 وہ دن ہے جب ایک فوجی طاقت نے ہار قبول کرتے ہوئے ہندوستانی فوج اور بنگلہ دیشی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ تین ملین بنگلہ دیشی باشندوں کی قتل عام کے بعد لاکھوں لوگوں نے اپنی زندگیوں کو بچانے کے لیے ہندوستان کا رخ کیا اور ہندوستان کے لیے اتنے پناہ گزینوں کو رہائش اور سہولیات فراہم کرنا مشکل ہوگیا تھا تب مجبور ہوکر بالآخر ہندوستان نے چند ہزار فوجی دستے مشرقی پاکستان میں بھیج کر پاکستانی بزدل فوج کو خوف میں مبتلا کردیا۔ ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کے 90 ہزار فوجی جنگی ساز و سامان کے ساتھ موجود تھے جبکہ ہندوستان کے صرف 3 ہزار کے قریب فوجی ڈھاکہ کے گردونواح میں اپنی پوزیشنیں سنبھالے ہوئے تھے۔

انڈیا کے مشرقی کمان کے  سٹاف آفیسر میجر جنرل جے ایف آر جیکب ہی وہ شخص ہے جس نے پنجابی فوج کو خوف میں مبتلا کرتے ہوئے سرنڈر کرنے پر مجبور کیا۔ جنرل جیکب نے پاکستانی فوجی جنرل نیازی سے ڈھاکہ میں ملاقات کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ اگر انکی فوج ہتھیار ڈالتی ہے تو انہیں بحفاظت پاکستان جانے دیا جائے گا وگرنہ جنگ کی صورت میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ جنرل نیازی انتہائی خوف میں مبتلا تھے اور اپنی بزدلی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی فوج نے اگلے دن ہی انڈین آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور بنگلہ دیش کی شکل میں ایک ریاست کا قیام عمل میں آیا۔

پنجابی فوج بزدلی کی علامت

1971ء کا سرنڈر ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ صرف طاقتور ہونا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ طاقتور ہونےکے ساتھ ساتھ بہادر ہونا جنگ جیتے کے لیے لازمی ہے۔

پنجابی فوج طاقتور ضرور ہے لیکن بہادری سے انکا دور دور تک کوئی رشتے داری نہیں۔ بنگلہ دیشی باشندوں نے تین ملین سروں کو قربان کرتے ہوئےاپنی آزادی حاصل کی اور آج اپنی سرزمین کے مالک خود ہیں۔ بلوچ قوم بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے محدود وسائل کے باوجود اپنی بہادری اور اپنی سرزمین کے لیے قربان ہونے کے جزبے سے سرشار پنجابی قابض سے حالت جنگ میں ہے اور وہ دن دور نہیں جب بلوچ اپنی سرزمین کے مالک خود ہونگے اور بلوچستان کو ایک آزاد و خودمختار ریاست کی حیثیت حاصل ہوگی۔

پنجابی اسٹبلشمنٹ نے 1971 کے شکست سے اب تک کچھ سبق حاصل نہیں کیا۔ اسی لیے اب بھی انہی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پنجابی فوج کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مشرقی پاکستان میں الشمس اور البدر جیسے ناموں سے لوگوں کا قتل عام کیا گیا اور اب جماعت الدعوہ، لشکر طیبہ، لشکر خراسان اور دیگر ناموں پر بنائے گئے پراکسی تنظیموں کے ذریعے بلوچستان کے مزہبی انتہا پسندی سے پاک ماحول کو بگھاڑا جارہا ہے اور مزہبی تنظیموں کو بلوچ آزادی کی تحریک کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close