گوادر: پیاس سے تڑپتے احتجاج کرنے والوں پر پولیس کی تشدد، کئی خواتین زخمی

گوادر (ریپبلکن نیوز) گوادر کے علاقے اورماڑہ میں بجلی اور پانی نہ ہونے کے خلاف  عوام کا احتجاج، خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت، تفصیلات ک مطابق یڑتال میں عوام کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے تحصیل دار نے خواتین پر پر حملہ کردیا اور منہ توڑ جواب دے کر کہا کہ آپ لوگوں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ واضع رہے کہ گوادر میں اربوں روپے کے منصوبے سے کام کئیے جارہے ہیں لیکن مقامی لوگ پینے کے پانی کئلیے تڑپ رہے ہیں، بلوچستان کے دیگر تمام حصوں کی طرح گوادر میں  بھی تمام معملات فوج کے ہاتھ میں ہیں اور فوج میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی خبریں روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں گوادر کے عوام کا کہنا ہے کہ سی پیک کے نام سے پاکستان جہاں دنیا میں بڑے بڑے دعوے کرتا پھر رہا ہے مگر گوادر کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو پینے کیلئے پانی تک میئسر نہیں۔  اس بات میں کوئی شک باقی نہں رہتا کہ بلوچستان کی حکومت تو ہمیشہ سے ہی مرکزی حکومت اور عسکری اداروں کے اشاروں پر چلتی رہی ہے اور مرکز کو بلوچ قوم سے کوئی سروکار ہیں بلکہ گوادر سمیت بلوچ کی ملکیت چائیے جس کے باعث دنیا کی خبروں میں چرچہ کے باعث بننے والی گوادر کے خواتین پانی کیلئے پولیس کے ڈنڈے کھانے پر مجبور ہیں

مزید خبریں اسی بارے میں

Close