ایٹمی جنگ کسی لمحے بھی چِھڑ سکتی ہے، شمالی کوریا کا انتباہ

نیوزڈیسک(ریپبلکن نیوز) شمالی کوریا نے خبردار کیا ہے کہ "ایٹمی جنگ کسی لمحے بھی چِھڑ سکتی ہے”۔ پیونگ یانگ کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے اس کے خلاف اپنی "دشمنانہ” پالیسی کو تبدیل نہیں کیا تو وہ کسی طور اپنے جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کی طرف نہیں جائے گا۔

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نائب سفیر کِم اِن ریونگ نے پیر کے روز جنرل اسمبلی میں ہتھیاروں سے متعلق امور کی کمیٹی کے سامنے کہا کہ جزیرہ نما کوریا میں صورت حال خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے اور ایٹمی جنگ کسی لمحے بھی چِھڑ سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ "اگر امریکا کی جانب سے معاندانہ پالیسی اور ایٹمی دھمکی مکمل طور پر ختم نہ ہوئی تو ہم اپنے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے معاملے کو کسی صورت بھی مذاکرات کی میز پر نہیں رکھیں گے”۔

شمالی کوریا کے سفارت کار کے مطابق "امریکا کی پوری اراضی ہماری زد میں ہے۔ اگر امریکا نے ہماری سرزمین کے ایک بالشت پر بھی قبضہ کرنے کی جرات کی تو دنیا کے کسی بھی حصّے میں ہماری شدید سزا سے نہیں بچ سکے گا”۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن کے درمیان کچھ عرصے سے شخصی اہانت کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں دونوں کے ممالک کے بیچ کشیدگی کی سطح میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ٹرمپ یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ان کے ملک کو خطرہ درپیش ہوا تو وہ شمالی کوریا کو "مکمل طور پر تباہ” کر دیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے اتوار کے روز سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ٹرمپ جنگ نہیں چاہتے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ اپنی ٹوئیٹ میں لکھ چکے ہیں کہ ٹیلرسن پیونگ یانگ کے ساتھ بات چیت کو یقینی بنانے کے لیے کوشش میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ "صدر نے وضاحت کے ساتھ یہ باور کرایا ہے کہ وہ اس بحران کا حل سفارتی طریقے سے چاہتے ہیں۔ وہ جنگ کے لیے کوشاں نہیں ہیں۔ یہ سفارتی کوششیں پہلا بم گرائے جانے تک جاری رہیں گی”۔

امریکا اور جنوبی کوریا نے پیر کے روز وسیع پیمانے پر بحری فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے جو 10 روز تک جاری رہیں گی۔ یہ مشقیں شمالی کوریا کے سامنے طاقت کے اظہار کی ایک نئی کوشش ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close