مند،قلات سمیت بلوچستان بھر میں ریاستی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔شیر محمد بگٹی

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے مند میں ریاستی جارحیت کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے مند کے علاقے گوبورد میں آپریشن کرتے ہوئے متعدد بلوچ فرزندوں کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے جن میں ولید ولد ناصر، دلاور ولد حاجی کریم بخش، عدنان ولد رشید، مجیب ولد لطیف اور زاہد بلوچ شامل ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین نے مند ہسپتال میں قائم آرمی کی چوکی کے سامنے دھرنا دیا ہوا ہے مگر نام نہاد ریاستی انسانی حقوق کے علمبردار و میڈیا نے چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے ریاستی فورسز کی جانب ظلم و بربریت انتہا کو پہنچ چکی ہے گزشتہ روز بالیچہ میں بھی فورسز نے اندھادھند فائرنگ کر کے ایک نوجون کو شہید کردیا۔ جبکہ قلات کے علاقوں دلبند اور ناگاہی میں تین روز سے ریاستی بربریت جاری ہے فورسز نے گھروں کو گھرے میں لکیر ایک نوجوان مبارک ولد جانا بگٹی کو ان کے گھر کے سامنے پوری رات ایک درخت پر الٹا لٹکا کر رکھا اور صبح اس کو خواتین اور بچوں کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں ڈال کر لے گئے جبکہ آج اطلاعات ہے کہ دو افراد کے لاشیں ناگاہی سے ملی ہے لیکن تاحال اغوا شدہ خواتین اور بچوں کا کوئی پتہ نہیں ہے نصیر آباد کے علاقوں چھتر، شیرانی، اور ملحقہ علاقوں میں آپریشن شروع کر رکھا ہے جس میں ہیلی کاپٹر شیلنگ اور بمباری کررہے ہیں جس میں ایک نوجوان کی شہادت ہوئی ہے جس کا نام لالو بگٹی کے نام سے ہوئی ہے۔ ترجمان نے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاستی فورسز کی بلوچستان میں کشت و خون و بلوچ قوم کی نسل کشی کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker