تمام کوششوں کے باوجود داعش کی کارروائیوں میں کمی نہیں لا سکے، سی آئی اے کے سربراہ کا اعتراف

CIA CHIEFواشنگٹن (ریپبلکن نیوز) غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جان برینن کا امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے اراکین کے روبرو اپنے بیان میں کہنا تھا کہ روس کی جانب سے شامی اپوزیشن کے خلاف فضائی کارروائیوں کی وجہ سے صدر بشار الاسد گزشتہ برس کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میدان جنگ میں تمام تر کوششوں کے باوجود ہم داعش کی دہشت گردانہ کارروائیوں اور شدت پسند تنظیم کی بین الاقوامی پہنچ کو کم نہیں کر سکے، شدت پسند تنظیم اب بھی مزید حملوں کے  لئے لوگوں کو بھرتی کر رہی ہے اور انھیں تربیت فراہم کر رہی ہے۔

اورلینڈو میں نائٹ کلب پر حملے کے حوالے سے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ابھی تک حملہ آور، عمر متین، کے داعش یا کسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ براہ راست تعلق کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں تاہم اسلامک اسٹیٹ اپنی تنظیم سے متاثر لوگوں کے ذریعے حملے کروا رہی ہے جیسے اس نے گزشتہ برس کیلی فورنیا کے شہر سان برناڈینو میں کروایا تھا۔ اس کے علاوہ داعش اپنے لوگوں کو پناہ گزینوں کے جھرمٹ کی آڑ میں اور اسمگلنگ کے روٹس کے ذریعے مغرب میں بھیجنے کے طریقے بھی اپنا رہی ہے جب کہ ایک اکیلا حملہ آور انٹیلی جنس اداروں کے لئے بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ داعش میدان جنگ میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنے اور دولت  کو بچانے  کے لئے اپنی پالیسی تبدیل کرے گی اور شدت پسند تنظیم شاید عراق اور شام میں اپنے زیر اثر علاقوں کے باہر گوریلا جنگی طرز کے بڑے حملے کرے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ذرائع بہت محدود ہوتے ہیں اور داعش کو اپنے علاقوں، افرادی قوت اور پیسوں کے حوالے سے بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

جان برینن کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں کی تعداد 22 ہزار سے کم ہو کر 18 ہزار ہو گئی ہے، صحرائے سینا میں شدت پسند تنظیم کے ہزاروں میں نہیں تو سیکڑوں جنگجو موجود ہیں، اسی طرح یمن، افغانستان اور پاکستان میں بھی اس تنظیم کے سیکڑوں جنگجو موجود ہیں جب کہ نائیجیریا میں اسلامک اسٹیٹ کے تقریباً 7 ہزار جنگجو موجود ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close