بی ایل اے نے تربت حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جئیند بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے زریعے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ شب بلوچ سرمچاروں نے تربت شہر میں بلوچ ہسپتال کے قریب پاکستانی خفیہ اداروں کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا جسکی ذمہ داری بی ایل اے قبول کرتی ہے۔
ترجمان نے کہا اس سے پہلے بھی ہم واضح کرچکے ہیں اور آج بھی واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں پاکستان اور چین کے تمام چھوٹے اور بڑے منصوبے بلوچوں کے وجود کو اپنی ہی سرذمین پر سے مٹانے کے منصوبے ہیں خاصکر گوادر پروجیکٹ اور سی پیک منصوبہ بندی و تعمیر بلوچوں کی اجتماعی موت ثابت ہوگی لہذا پاکستان و چین گٹھ جوڑ سے تمام منصوبوں پر بلاواسطہ یا بالاواسطہ جو بھی جس سطح کا کام کریگا یا حصہ دار ہوگا وہ ہمارے ٹارگٹ پر ہونگے بلوچ قومی سوال اور قومی بقاء پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ان تمام بلوچ نسل کشی منصوبوں میں اگر کوئی بلوچ بھی حصہ دار ہوگا وہ بھی معاف نہیں ہوگا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ہم نے ہمیشہ بحثیت بلوچ آذادی پسند اور زمہ دار تنظیم کے شروع دن سے پولیس اور لیویز اہلکاروں کو پاکستانی فورسز کے اہلکار کم بلوچ ذیادہ سمجھ کر ان کے ساتھ دشمن جیسا سلوک نہیں کیا لیکن آج کل بلوچستان کے مختلف علاقوں خاص کر تربت پولیس اور لیویز فورس شاہ سے ذیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کررہے ہیں ہم انہین تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچ دشمنی سے باذ آجاہیں ورنہ ان کاانجام بھی وہی ہوگا جو دوشمن کا ہے۔ ہماری یہ جنگ بلوچستان کی آذادی تک جاری رہے گی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close