جھوٹ سے توبہ

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) گزشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے میڈیا میں ریمارکس دیتے ہوئے فرمایا کہ آج سے پاکستان میں جھوٹ بولنے کا سلسلہ بند کر دی گئی ہے۔ اب پاکستانی عدالتوں میں جھوٹی دلیل اور جھوٹی گواہیاں نہیں چلے گی۔ اب پاکستان کے تمام اداروں میں صرف سچ بولا اور سُنا جائیگا۔ گویا چیف جسٹس صاحب نے تسلیم کر لیا کہ پاکستان کے عدلیہ سمیت تمام اداروں میں پچھلے سّتر سال سے صرف جھوٹ بولی اور سُنی گئی ہے۔

ہم جیسے بے باور لوگ پاکستان کی اِس بات کو 2019 کی سب سے بڑی جھوٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان جب بھی کسی مشکل میں پڑ جاتی ہے۔ تو وہ اسطرح کی جھوٹ کا سہارا لیتی ہے۔مگر مدتوں بعد اپنے کچھ آزادی پسند دوستوں نے بھی جھوٹ و منافقت ترک کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ الله تعالی اُنکو مزید جھوٹ بولنے سے بچالے اور بلوچ قوم اُنکی توبہ کو قبول کرلے جو بظاہر بہت مشکل ہے۔ کیونکہ بیس سال سے یہ قوم جھوٹ پر جھوٹ سُن سُنکر تھک گئی ہے۔

جی ہاں کچھ عرصے سے بی این ایم اور بی ایس او ( آزاد) کے بیرون ملک قیادت وقفہ بہ وقفہ دبے الفاظ میں اپنی بیس سالہ کار کردگی سے غیر اطمینانی کا برملا اظہار کر چکے ہیں۔ مگر اپنے مخالفین کی خوف سے وہ سب کچھ اگلنے سے گریزاں رہے جو آجکل سوشل میڈیا میں کھل کر بتا رہے ہیں۔

حال ہی میں بی این ایم کے سی سی ممبر سمیر جیہند نے اپنے رفقاء کار ساتھیوں کے نام ایک ڈرافٹ نما خط میں اخلاقی جرآت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بیس سالہ جد و جہد کے نفع و نقصان کی تخمینہ لگانے کی تلقین کرتے ہوئے سوال اُٹھایا ہے  کہ گزشتہ بیس سال سے جنگی کامیابی و ناکامیوں کے اسباب و وجوہات جاننے کی ضرورت ہے۔ وہ کون سے اچھے اعمال تھے جس سے قومی تحریک کو فائدہ پہنچا اور کس کس خرابے و بد اعمالیوں کی سبب تحریک نقصانات سے دوچار ہوا۔

اپنے خط میں وہ شہید غلام محمد بلوچ اور عصا ظفر کا حوالہ دیتے ہوئے اُنکی مضبوط و مربوط حکمت عملیوں کی ذکر فرماتے ہیں۔ لیکن وہ تحریک کو نقصانات سے دوچار کرنے والوں کی جرائم پر کھل کر بات کرنے کے بجائے اشاروں سے کام چلانے پر مصر ہیں۔ جو کہ غلطی تسلیم کرنے یا تبدیلی لانے کیلئے متضاد و مخرو عمل ہے۔

سمیر جیہند کے علاوہ بی ایس او آزاد کے سابقہ چئیرپرسن کریمہ بلوچ اور حکیم واڈیلہ نامی شخص نے آزادی کے نعرے سے دستبردار ہوتے ہوئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتے ہوئے پُرامن و پیس فل جد و جہد کا اعلان کر دیا۔ جی ہاں وہی حق خود ارادیت جسکی مطالبہ ایک پارلیمانی پارٹی گزشتہ تیس سال سے کرتی آ رہی ہے ۔ مگر پچھلے بیس سال سے کریمہ اور بی این ایم قیادت اُس پارلیمانی پارٹی اور اُسکے لیڈر کو منافق و مکار کے نام سے پکارتے پھر رہے تھے۔

کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اختر مینگل والا حق_خود ارادیت اور بی ایس او و بی این ایم والے خود ارادیت میں کیا فرق ہے۔ یہی اصطلاع اگر اختر مینگل استعمال کرے تو منافقت کہلائے اور اگر کریمہ و حکیم استعمال کرے تو حق و سچ۔۔۔اللہ کرے کہ یہ جھوٹ بھی اُنکی آخری جھوٹ ثابت ہوسکے۔

کچھ عرصہ پہلے براہمدغ بگٹی نے حق خود ارادیت کے فارمولےسے بلوچ قوم میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تو چارسو شور مچانا شروع ہوگیا کہ نواب و سرداروں کا خفیہ معاہدہ ہو چکا ہے تحریک کو رول بیک کیا جا رہا ہے۔ اختر مینگل کیساتھ گٹھ جوڑ ہو رہی ہے۔

دراصل بی این ایم، بی ایس او اور بی ایل ایف قیادت کے تمام طرز سیاست پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا آئینہ دار ہے۔ کسی زمانے میں اِس ٹولے کو سلام صابر اور شہید اسلم بلوچ تھوک چاٹ ٹولے کے نام سے پکارتے تھے۔ واقعی اگر صحیح سوچ لیا جائے تو یہ ٹولہ ہمیشہ تھوک چاٹنے اور یوٹرن لینے سے ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتا۔

لیکن پہلے تو یہ لوگ حیربیار مری، براہمدغ بگٹی اور اپنے دیگر مخالفین کیلئے روز روز یوٹرن لیا کرتے تھے مگر گُمان یہ ہے کہ اِس بار یہ آپس میں مراعات و اختیارات کی جنگ لڑنے کیلئے کمر بستہ ہیں۔ کیونکہ اِس وقت بی این ایم دو لابیوں میں عملاً تقسیم ہو چکی ہے۔ جس میں یورپ گروپ اور خلیل بلوچ آمنے سامنے ہیں۔ اِس وقت سیاسی حوالے سے یورپ گروپ خلیل کے نسبت زیادہ مقبول ہے جبکہ بی ایل ایف میں ایک بہت بڑے حصے پر قبضہ کرکے خلیل بلوچ نے سرمچاروں میں ایک مقام بنا لیا ہے۔اور یہی عسکری طاقت کے ذریعے خلیل اپنے مد_مقابل مخالفین کو بلیک میل کر سکتے ہیں۔

وہاں قندھار والے بابو نے اختر ندیم کو خفیہ مشن سونپ دیا ہے جو قدم قدم پر خلیل کے نقل و حرکت پر نظر جمائے بیٹھے ہیں۔ گویا قندھار والا صاحب دو تنظیموں( بی ایل اے، بی آر اے) کے دو معطل و منحرف کمانڈروں کا سہارا لیکر براس نامی خود ساختہ اتحاد کو سہارا بنا کر حالات کی بخوبی جائزہ لے رہی ہے۔ گُمان غالب ہے کہ آنے والے دنوں میں یا تو بی این ایم اور بی ایل ایف کے منتشر و منقسم دھڑے کھل کر سامنے آئینگے۔ یا پھر مقابلہ قندھار گروپ اور ایران گروپ کے درمیان ہوگا۔ اور جس کا پلڑا بھاری ہوگا یورپ گروپ اُسی میں جا گرے گا۔

بصورت دیگر تینوں گروپ محض بی آر پی اور ایف بی ایم مخالفت کی بنیاد پر کچھ لو کچھ دو کے تحت مزید کچھ وقت کیلئے اکھٹے چلیں گے۔ لیکن چونکہ قومی تحریک مجموعی صورت میں عوامی حمایت سے محروم ہو چکی ہے اِس لیئے تیز رفتار ترین فریق وہ سمجھا جائیگا جو بہت جلد قومی حمایت حاصل کرکے قوم کے اندر جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔

مکران میں بی ایل ایف کو ایک ضرب اُس وقت لگی جب بی آر اے قیادت نے گلزار امام کو تنظیم سے بیدخل کرکے علاقے کی اختیارات واپس لیئے۔ چونکہ بی ایل ایف کیطرح بی آر اے میں گلزار امام کی کمانڈ میں چوری ڈکیتی، لوٹ مار اور منشیات کی کار و بار عروج پر تھی۔اب ماسٹر سلیم جیسے مدّبر و دور اندیش رہنما کے ہوتے ہوئے بی آر اے میں جرائم پیشہ سرمچاروں کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے کچھ سرکش و بے قابو سرمچار گلزار کے ساتھ چلے گئے کچھ سرینڈر ہو گئے اور کچھ باہر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم جب تک بی ایل ایف قیادت اپنی ایران پالیسی تبدیل نہیں کرتا تب تک قوم کی اعتماد و بھروسہ بحال نہیں ہو سکتا کیونکہ ایران و پاکستان بلوچ سرزمین کے قابض اور بلوچ قوم کے مشترکہ دشمن ہیں۔

اب وقت آگیا ہے کہ بی آر پی اور ایف بی ایم قیادت سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنے خدشات و تحفظات کے ازالے کیلئے مشترکہ حکمت عملی مرتب کریں۔کیونکہ بی این ایم ، بی ایس او،  بی ایل ایف اور معطل شدہ گروپ تھک ہار کر فرار کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ آزادی اور قومی بیانیہ سے دستبرداری اِس بات کی واضح دلیل ہے۔

تحریر: غلام شاہ بلوچ

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button