جرمنی میں ورلڈ سیکیورٹی کانفرنس میں پاکستان کی شرکت سوالیہ نشان ہے۔ رپورٹ : ریاض بلوچ

کوئٹہ/رپورٹ(ریپبلکن نیوز) ہر سال کی طرح اس سال بھی ورلڈ سیکیورٹی کانفرنس جرمنی کے شہر میونخ میں 16 تا 18 فروری کو منعقد کیا جارہا ہے۔ کانفرنس میں اہم ایجنڈا یورپی یونین کے ممالک کا روس اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی اور انکے عالمی بدلتے ہوئے حالات کے مطابق جنگی اور سیاسی حکمت عملیوں کا جائزہ لینا ہے۔ باور کیا جا رہا ہے کہ منعقدہ کانفرنس میں چھ سو سے زائد عالمی مندوبین شرکت کرنے جارہے ہیں یا اب جا چکے ہوں گے جن میں مختلف ممالک کے سربراہان شامل ہیں۔
جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ اس سیکیورٹی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر زمان باجوہ کر رہے ہیں۔

امن اور سیکورٹی کے نام پر منعقدہ اس کانفرنس میں پاکستان کی شرکت ایک سوالیہ نشان ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان کی پشت پناہی میں ٹریننگ یافتہ دہشت گرد تنظیمیں ہمسایہ ممالک انڈیا اور افغانستان کی امن تباہ کرنے میں براہ راست ملوث پائے جاتے ہیں، امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ پاکستان کو یہ تنبیہ بھی کر چکے ہیں کہ انکا چین کے ساتھ بڑھتی دوستی خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے درپیش ایک چیلنج ہے۔

واشنگٹن کے ایک تھینک ٹینک ‘یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس’ کے ایک منعقدہ مذاکرے میں ڈیوڈ سڈنی کا کہنا تھا کہ "پاکستانی فوج اپنے ہی لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، اور لوگوں کی ذھنی غلام بنانا چاہتے ہیں”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے افغان پالیسی بارے حکمت عملی بیان میں پاکستان میں موجود دھشت گردوں کی پناہ گاہوں پر بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

اگلے ہفتے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں بھی منعقدہ بین الاقوامی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں بھی یہ قرار داد جمع کرائی گئی تھی جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایسی جوھری طاقت کی حامل ریاستوں کی نگرانی کی جائے جو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔ اس واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے پر پاکستان کی اقتصاد پر کافی اثر پڑ سکتا ہے۔

بطور بلوچ قوم ہم میونخ میں منعقدہ سیکورٹی کانفرنس کے مناسبت سے وہاں شریک معزز مہمانانِ گرامی سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی ریاستی ظلم، جبر و استبداد کا نوٹس لیں۔  اقوامِ متحدہ اور اقوامِ عالم پاکستانی قابض فوج اور انکے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں بلوچستان میں مسلسل غیر انسانی اور غیر قانونی ماؤراے عدالت قتل اور گمشدگیوں کا نوٹس لیں. دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر پاکستان کو دی جانے والی امداد فوری روک دیا جائے۔

جب عالمی برادری مشرق وسطٰی میں جمہوری نظام قائم کرنے کیلئے کوشاں دکھائی دیتا ہے تو بلوچستان میں پاکستانی ظلم و بربریت پر خاموش تماشائی کیوں بنا ہوا ہے؟

بلوچستان میں گمشدگیوں پر قائم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق وہاں بیس ہزار سے زائد بلوچ اٹھا کر غائب کیے گئے ہیں جن میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ عام بلوچ مرد خواتین اور بچے تک شامل ہیں۔

رپورٹ: ریاض بلوچ

ٹوئیٹر: @shambezae

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close