اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدر کا پیغام موصول ہوا ہے، احتجاج کو جاری رکھیں گے۔ ماما قدیر

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) گزشتہ دن وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز پر بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد تنظیم کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے اپنا ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے کیمپ میں موجود ہیں اور کیمپ کو بند نہیں کیا گیا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا ہے کہ ہم نے وزیر اعلیٰ پر واضح کردیا تھا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ جب تک جاری رہے گا کیمپ کو بند نہیں کیا جائے گا، اور وہ کیمپ میں احتجاج جاری رکھیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے صدر ماریا فرنانڈا اسپینوسا کا پیغام بھی انہیں موصول ہوا ہے جو کیمپ کو دورہ کریگی۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعلی بلوچستان جام کمال خان کے ہمراہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنما نصراللہ بلوچ اور ماما قدیر نے میڈیا سے گفتگوں کرتے ہوئے کہا تھا وہ حکومتِ بلوچستان کو دو مہینہ کا وقت دیتے ہیں کیونکہ حکومت سنجیدگی سے لاپتہ افراد کے مسئلے پر کام کر رہی ہے اس لیے وہ دو ماہ تک اپنا احتجاج ختم کرینگے، جس پر بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے ماما قدیر اور فائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ لیکن جمعہ رات کو ماما قدیر نے اپنا ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور وہ کیمپ میں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ موجود ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button