لاپتہ افراد کا مسئلہ سانحہ اے پی سی سے سنگین مسئلہ ہے ۔ رپورٹ:نذیر بلوچ قلندرانی

کوئٹہ /رپورٹ (ریپبلکن نیوز) تاریخ بار بار لکھ رہی ہے کہ آپ نے سانحہ اے پی سی میں کیا سبق سیکھا اور آپ اس درد کو کیسے محسوس کر رہے ہیں۔ سانحہ اے پی سی کا افسوسناک واقعہ 16 دسمبر 2014 کو پیش آیا جس میں کئی بچوں کو موت کے گھاٹ اتاراگیا۔

اس افسوسناک واقعے میں کسی نے اپنا بیٹا کھو دیا تو کسی نے اپنی بیٹی کھو دی جس کی ہمیں بےحد افسوس ہے اور ہم اس افسوسناک سانحہ کو کبھی بھی نہیں بھول پائیں گے۔ اگر انسانیت کی نظر سے دیکھا جائیں تو سانحہ اے پی سی سے بڑھ کر بلوچستان کے لوگوں کے درد و غم پریشانیاں،  ظلم اور احساسِ محرومی کو شاید تاریخ بھی نہیں لکھ پائیں گی۔  جہاں غربت کا مارا گھر کا ایک سرپرست روزگار کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے اور راستے میں ہی لاپتہ ہو جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب کسی قوم  کا سربراہ ختم ہوجاتا ہے تو وہ قوم کمزور ہوجاتی ہےاس طرح جب ایک گھر کا سرپرست لاپتہ ہو جاتا ہے تو اُس گھر کے افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔تاریخ لکھ رہی ہے کہ آج بھی ہماری مائیں بہنیں اپنے سرپرست کی تلاش میں دسمبر کی سردی میں آسمان تلے چیخ  رہے ہیں۔

سانحہ اے پی سی میں جن ماوں نے اپنے بچے کھو دیئے انہیں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی رحمت سے آپ پھر سے اولاد پیدا کرسکتے ہو لیکن اُن بلوچوں کا حال جاننے کی کوشش کریں جنوں نے اپنے گھر کے سربراہ کھو دیئے ہیں اور بغٰر سربراہ کے گھر کے کیا حالات ہوتے ہیں سب جانتے ہیں۔

رپورٹ: نذیر بلوچ قلندرانی

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں