نئی  سیاسی جماعت  "بلوچستان لبریشن موومنٹ” کے  قیام کا اعلان 

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچستان لبریشن موومنٹ  کے مرکزی ترجمان سالار بلوچ نے اپنے جاری کردہ پریس رلیز میں بلوچستان لبریشن موومنٹ کا قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ (  بی ایل ایم ) کا قیام کا مقصد عالمی وعلاقائی حالات کا بدلتا ہوا منظر نامہ اور بلوچ تحریک آزادی میں موجود سیاسی انتشار وافراتفری کو مدنظر رکھ کر بلوچ تحریک آزادی کو ایک اضافی متحد قوت وطاقت فراھم کر کے اسے موجودہ افراتفری  وغیر یقینی صورتحال سے نکال کر قومی یکجہتی، ھم آھنگی اور اتحاد کی طرف لے جانا مقصود ہے کیوں کہ قوموں کے اتحاد میں ہی ان کی بقاء ہے۔
بلوچستان اپنے عظیم محل وقوع ، قدرتی وسائل وخزانوں کے باعث علاقائی وعالمی سطح پرحریص نگاہوں کامرکز چلا آرہاہے، سی پیک جیسے استحصالی منصوبے کے توسط سے پاکستان وچین کا گٹھ جوڑ اس امر کا واضح ثبوت ہے ایسے قوم دشمن منصوبوں کوخاک میں ملانے اورقومی آزادی کی حصول کوممکن بنانے کیلئے بلوچ آزادی پسند قوتوں
کا اتحاد آج وقت کا اہم ترین  تقاضہ ہے۔
ہمیں بدلتی ہوئی عالمی پالیسیوں وضروریات کی فہم وادراک کرکے قوم کی سیاسی وشعوری  بنیادوں پر رہنمائی کرنی ہوگی کیونکہ عالمی طاقتوں کی تیزی سے بدلتی ترجیحات ، نئی اتحادوں کا قیام، مفادات اورطاقت کے توازن کی جنگ میں ہمیں اپنی سیاسی لائن اور ویژن واضح انداز میں وضع کرکے اور قومی مفادات کی تحفظ کے ساتھ متحد وھم آہنگ ہوکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے تصادم خیز حالات اور خطے میں جاری کشمکش سے پیدا ہونے والے آثار امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ آنے والے دن بلوچ سرزمین کے قبضہ گیروں  کیلئے نت نئے چیلنجوں سے بھر پور ہوں گے، جن میں بلوچستان کا جغرافیہ و سیاست انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے، اسی ملکی، علاقائی، عالمی وخطے کی رونما ہونے والی تغییر پذیر حالات کے تناظر میں ہمیں ہر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور مقابلہ کرنے کیلئے اپنے قوم اور منتشر  قومی طاقت کو شعوری طور پر  یکجا کرکے تیار رکھنا وقت وحالات کی اہم ضرورت ہے ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچ کو ایک پیچیدہ جنگی صورتحال کا سامنا ہے۔ محدود وسائل اور کمزور پوزیشن کے مقابلے میں چین اور امریکہ کی سیاسی، معاشی و عسکری امداد کے مزے لینے والے دشمن کی طاقتور ریاست ہر طرح سے بلوچ تحریک کو کچلنے کی کوشش کررہی ہے۔
بلوچ قوم جس طرح آج شناخت کے خطرے سے دوچار ہے، اس سے پہلے شاید ہی کبھی اس صورت حال سے دوچار ہوا ہو۔ روزانہ کی بنیادوں پر فوجی آپریشنوں اور تیزی سے جاری نسل کشی سے دوچار بلوچ قوم تاریخ کا مشکل ترین دور اور مکمل جنگی حالات سے گزررہاہے۔ دشمن اپنے تمام مقامی ، علاقائی  وعالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر بلوچ قوم و سرزمین کی تباہی کے پروگرام پر شدت سے عمل پیرا ہے ایسے حالات میں ہمیں  دشمن کی حکمت عملیوں اور جارحیت کی شدت کو سمجھ کر اپنی مشترکہ قومی حکمت عملی کا تعین ناگزیر ضرورت بن چکا ہے، کیونکہ آج درندہ صفت دشمن  اپنی ساری قوت، مقامی دلال ومہرے اور اپنی پوری ریاستی مشینری کو تحریک کو کچلنے کیلئے میدان مین اتار چکا ہے، بلوچ قومی تحریک کے خلاف نت نئے حربے استعمال کرہاہے، بلوچ عوام کی نسل کشی ونفسیاتی جنگ سے لے کر اپنے گماشتے مقامی بدنام زمانہ دلالوں کے ذریعے بلوچوں  کی عزت نفس کو مجروح کرنے ان کے ننگ وناموس پر حملہ آور  ہے۔ ہر میدان میں تحریک کے جسم کے ہر حصہ پر پے در پے کاری ضربیں لگا
کر ان حصوں کو مخلتف سازش وحربوں کے ذریعے کاٹ کے الگ کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔
جہاں دوسری طرف یکساں طور پر ایرانی رجیم کی دہشت گرد فورسز مغربی بلوچستان میں  بلوچوں کو تختہ دار پر لٹکا کر بلوچ نسل کشی مین بھی تیزی لا رہا ہے، پھانسی دی جانے والے بلوچ فرزندوں کو ایرانی رجیم ڈرگ ڈیلر اور سمگلر کے القاب سے نواز کر زمینی حقائق وبلوچ تاریخ سرزمیں جغرافیائی وحدت قومی مسئلہ جدوجہد اور اس سارے پس منظر سے  پردہ ڈال کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر رہا ہے، مگر شہادتیں ، عظیم ساتھیوں کی جدائی ،تباہ کُن فوجی آپریشنز اورظلم وبربریت آزادی کے جدوجہد کا اٹوٹ حصہ ہوتے ہیں لیکن جدوجہد کو برقراررکھنے اوراس میں نئی توانائی شامل کرنے کے لئے ہمیشہ نئی موثرحکمت عملی اوربلند حوصلے کے ساتھ متحد ھوکر ہی دشمن کو کمزور اور شکست دیا جاسکتا ہے۔
ایسے نازک مرحلے میں جب بلوچ سماج انتہائی تکلیف کے عالم سے گذر رہی ہے ، اسکے وجود پر ہر طرف سے حملہ کرکے دشمن اسے گائل کررہا ہے ۔ اسکے باشعور  فرزندوں کو چن چن کر قتل وشہید  کیا جارہا ہے اور ان کی مسخ شدہ لاشوں کو کبھی ویرانوں میں پھینک رہاہے تو کبھی اجتماعی قبروں میں دفن کررہاہے ، جب جنگ مکمل شدت کے ساتھ آگے کی جانب بڑھ رہی ہے جب تبدیلی ہمارے سروں پر پہنچ چکی ہے ، جب ہزاروں قیمتی جانیں ندر ہوچکی ہیں  تو اس قومی جنگ کو ہمیں ایک متحد قوم بن کر ہر سطح پر لڑنا ہوگا ، یہ ہم سب کی قومی جنگ ہے۔ ان جنگی حالات میں ہماری  قبائلی ، شخصی ، علاقائی، ضد وانا اور غیر ضروری آپسی اختلافات والجھنیں بلوچ تحریک کے زخمی وجود پر دوہرا وار کرنے کے مترادف ہے۔
غیر ذمہ دارانہ سیاسی رویے،  انا پرستی ، سیاسی انتشار، جذباتیت، سیاسی مؤثر حکمت عملی کا  فقدان، عیار وچالاک دشمن کی قوت وطاقت کا صحیح ادراک واندازہ  نہ رکھتے ہوئے بدلتی ہوئی حالات وزمینی حقائق کا معصومانہ وغیر حقیقت پسندانہ تجزیہ اور خوش فہمی کی حالت میں مبتلا رہنا، دشمن کیلئے تحریک اور جہدکاروں کو کمزور کرنے اور کچلنے میں آسانیاں پیدا کرنے کا وجہ بن رہاہے، دونون محاذوں پر  یکساں طور پر عدم برداشت کی رویے اور انتشاری کیفیت نے آج بلوچ عوام ومخلص جہدکاروں کو تحریک  کی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال سے مایوس اور دوچار کر کے رکھ دیا ہے۔
 ہمیں آج بلوچ قوم کی وسیع تر مفاد کیلئے ان غیر ضروری اختلافات سے بالاتر ہوکر دشمن کے خلاف یکجا ہوکر لڑنا ہوگا اور زمینی حقائق کی روشنی میں اپنا آئندہ حکمت عملی ولائحة عمل وضع کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔  قومی تحریک کی یقینی مؤثر اجزائے ترکیبی قومی ودوستانہ  قوت وطاقت ، تمام مکتبہ فکر، آجوئی کے تمام ھمدرد ودوزواہ منتشر قوت وتوانائی کو دشمن کے خلاف ایک نقطہ پر یکجا ومرتکز کرکے ایک ہی مشترکہ اولین ھدف ونقطہ آجوئی کو جدوجہد کا محور بنا کر اس  پر متفق ومتحد ھوکر ہی تحریک آزادی کو کامیابی سے ھمکنار کیا جا سکتا ہے ۔
 عوامی قوت وطاقت سے مربوط ھم آھنگی، اشتراک عمل، اتحاد  اور متحدہ قومی محاذ کی تشکیل ہی آزادی کی کامیابی
کی نوید اور بنیادی شرطیں ہیں۔
ہماری قابل قدر قومی دانشور حضرات سے التجا ہے کہ وہ تحریک کے اس کٹھن اور فیصلہ کن مرحلہ میں اپنا پیشہ ورانہ وقومی کردار کو احسن وذمہ دارانہ طریقے سے نبھائے، ہمارے قابل احترام  قومی دانشور حضرات کو چاہئے کہ اپنے قلمی ہتیار سے دشمن کی بلوچ تحریک کے خلاف ہر بننے والے چال اور سازشوں کا پردہ فاش کر کے اسی کے ساتھ ساتھ جدوجہد کے اس سفر میں ہماری خامیوں اور لغزشوں اور تحریک کو درپیش مسائل کی ہر موڑ پر  نشاندہی کرکے ان کا حل بھی پیش کرے۔
قومی تحریک کے روح رواں مخلص، ایماندار، ثابت قدم اور ذمہ دار قومی کیڈر وجہدکار ہمارے لئے تحریک آزادی کی جدوجہد میں  لیڈر کا درجہ رکھتے ہیں ان کو جدوجہد وتحریک کے ہر میدان میں کل وقتی  ورکر بن کر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنا رہنمایانہ کردار  ادا کرنا چاہیے  اور عوام کے ساتھ ماں  بیٹے وبیٹی  جیسے رشتے کی طرح جڑا رہنا چاہئے کیوں کہ عوامی قوت ہی تحریک  کا سرچشمہ اور کامیابی کی ضامن ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن موومنٹ تمام آزادی پسند بلوچ  قوتوں، تنظیموں اور پارٹیوں کے ساتھ واحد واولین ہدف ونقطہ آجوئی کی حصول کی شرط پر اشتراک  عمل کیلئے ہر وقت تیار ہے،  اور پارٹی منشور وپروگرام کا اعلان آئندہ دنوں  میں کیا جائے گا ۔
متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close