بلوچ جلاوطن حکومت کی وقت سے پہلے اور فردی حیثیت میں قیام کی بات کرنا احمقانہ ہے۔بی ایس ایف

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے پالیسی بیان میں کہا ہے کہ ممکنہ بلوچ جلاوطن حکومت کی وقت سے پہلے اور فردی حیثیت میں قیام کی بات کرنا نامناسب اور احمقانہ ہے اور اس طرح کی باتیں جو بھی کررہے ہیں یہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے سبک حرکتیں ہیں ایسے نمائشی لوگ بلوچ قومی کاز کو فائدہ دینے کے بجائے شعوری یا لاشعوری طور پر نقصان دے رہے ہیں ترجمان نے کہاکہ جلاء وطن حکومت کا قیام یہ ایک قومی مسئلہ ہے یہ باہمی مشاورت سے طے کیا جاتا ہے ایک فرد اٹھ کر بغیر کسی مشاورت یا کسی کو اعتماد میں لئے بغیر اس طرح کی من گھڑت اور نمائشی اعمال کا حصہ بنیں تو یہ جگ ہنسائی کے سوا کچھ نہیں اور اول تو یہ وقت ابھی تک نہیں آیا اور اس کے لئے بھر پور لابنگ اور کامیاب سفارت کاری انتہائی ضروری ہے اس کے لئے کم از کم از عالمی برادری کی نوے فیصد حمایت حاصل کرنا ضروری ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ قومی مشاورت کے بغیر طے نہیں کیا جاسکتا اور اس کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز اور بلوچستان کی آزادی کے لئے سرگرم تما م پارٹیوں اور تنظیموں کاحاصل اعتماد اور مشاورت ضروری ہوتاہے دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک فرد اٹھ کر خود رو اندازمیں گورنمنٹ ان ایگزائل کی بات کریں دنیا ایسی مثال دینے سے قاصر ہے ترجمان نے کہاکہ ایسے لوگ اپنی دانہ پانی اور پیداگیری کے لئے بلوچ جہد آزادی کا نام استعمال کرکے فوٹو کھنچوانے اور میڈیا توجہ حاصل کرنے کے لئے اس طرح کی باتیں کررہے ہیں اگر اس میں کوئی نیک نیتی اور ایمانداری ہوتی تو کوئی فرد خود رو انداز میں ممکنہ گورمنٹ ان ایگزائل کی بات نہیں کرتی جب کہ وہ وقت اور موقع ابھی تک نہیں آیا اور بلوچ قوم کو عالمی دنیا کی حمایت کا ایک بحر درکار ہے چلو بھر پانی میں تیرنا سنجیدگی نہیں یہ غیر زمہ دارانہ عمل ہے اس کو بلوچ قوم اور اداروں کی حمایت حاصل نہیں اگر ممکنہ طور پر مستقبل میں بلوچ قوم جلاء وطن حکومت کے ضرورت محسوس کریگی تو یہ باہمی مشاورت اور باہمی اعتماد کے ساتھ طے ہوسکتی ہے جس کے لئے عالمی برادری کے نوے فیصد حمایت ضروری ہے ترجمان نے کہاکہ قومی آزادی کے لئے ہر ایک کو حق ہے کہ وہ ایمانداری خلوص اور بغیر کسی لالچ خالصتا قومی مفاد میں کام کریں اس طر ح تحریک کے نام پر زاتی نمود نمائش اور کاروباری مقاصدحاصل کرنے کاکسی کو حق حاصل نہیں چاہے وہ جو بھی ہو ترجمان نے کہاکہ ماضی میں فلسطین نے ایک عبوری اور جلاء وطن حکومت بنائی تھی لیکن اسے اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر سے سفارتی حمایت حاصل تھی اور اس کی قیام میں فلسطین کے تمام سرگرم قوتوں کی شمولیت تھی اور اسی بنیاد پر تمام فلسطیں کے تمام پارٹیوں کا پی ایل او کی شکل میں ایک اتحاد قائم ہو اجس کی سربراہی یاسر عرفات کو سونپی گئی تیونس میں اس کی ہیڈ کوارٹر قائم ہوئی اور اسے تمام عرب ممالک باقائدہ فنڈنگ کررہے تھے اور انہیں فوجی وسائل تک مہیا کیا جاتا تھا لیکن کوئی خودرو انداز میں ممکنہ طورپربلوچ جلاء وطن حکومت کی تشکیل کی بات کریں یہ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے بلوچ تحریک آزادی کسی کی مرہوں منت نہیں اس میں بلوچ شہداء کا خون شامل ہے شہداء نے اپنی زندگیاں اور اپنے خانداں بچے تک اس راستہ میں قربان کی ان کی فیملیاں اور ان کے عزیز اقارب آج جس کرب سے گزررہے ہیں اور شہداء کے خاندان کے جو مشکلات کا سامنا ہے اور جن مصائب سے وہ دوچار ہے اور جن کے گھر بار تک اجاڑ دیئے گئے ہیں ان کی مسائل پر توجہ دینے چاہیے ان کی فکر کرنی چاہیے شہداء نے ایک ڈسپلن میں رہ کر قربانیاں دیں ان کی قربانیوں کا حاصل وصول ایک آزاد وطن ہے انہوں کسی پارٹی گروہ فرد اور شخصیت کے لئے قربانی نہیں دی اور کسی کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ بلوچ شہداء کی جدوجہد کو اپنی زاتی نمود نمائش اور زاتی مفادات اور کاروباری مقاصد کے لئے استعمال کریں ۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close