بی ایل ایف نے مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے ریاستی فورسز اور انکے معاون کاروں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ کے روزسرمچاروں نے تمپ کے علاقے نذرآباد اور آسیاباد کے درمیان پاکستانی فوج پر حملہ کیا جس میں پانچ فوجی اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے، ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں میں ایک صوبیدار بھی شامل ہے۔ تمپ ہی کے علاقے اسپی کہن میں منشیات کے اڈے پر چھاپہ مارکر منشیات ضبط کرکے جلا دیا اور اڈے کے مالک کو گرفتار کیا مگر خواتین نے درمیان میں آکر اُنہیں رہا کرنے کی درخواست کی ،جس پر اُسے رہا کردیا کہ وہ آئندہ منشیات کا دھندا نہیں کریگا۔ہفتہ ہی کے روز آواران میں گورستانی کے مقام پر ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں پر حملہ کیا، جس میں ڈیتھ اسکواڈ کے دو کارندے ہلاک ہوئے ۔ ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان کو ایک سڑک ٹھیکے پر دی گئی ہے اور یہ کارندے سڑک کی حفاظت پر معمور تھے۔ یہی ڈیتھ اسکواڈ اور اِس کے کارندے فوجی آپریشنوں ، اغوا اور قتل میں پاکستانی فوج کا معاون ہیں۔ گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے مزیدکہا کہ 13 اکتوبر کی رات جھاؤ واجہ باغ میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے سلیم و لد لالو پر حملہ کیا مگر وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوا، حملے میں اُس کے معاون اور ہمنوا کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ واضح رہے کہ اسی سلیم اور اُس کے بھائی نے جھاؤ میں ایک گھر پر حملہ کرکے پیران سالہ بھائیان، اُس کے بیٹے اور کمسن نواسے کو قتل کیا، اور آواران میں فوجی کمانڈنٹ نے یہ واقعہ بی ایل ایف سے جوڑنے کی کوشش کی تاکہ پاکستانی فوج کے ڈیتھ اسکواڈ کوعوام کی نظروں میں بری الذمہ پیش کیا جا سکے ،اِن کے قتل کی ہم نے پہلے ہی مذمت کی ہے۔ اور ہم تنبیہ کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو کوئی بھی جگہ یا سہولت فراہم نہ کرے،بصورت دیگر وہ اپنے نقصان کے ذمہ دار خود ہونگے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker