جو میں نے سمجھا!

ایک ادنیٰ سیاسی کارکن ہوں یہ میرے ذاتی خیالات کا مجموعہ ہے جو میں نے اپنے اجتماعی سیاسی زندگی میں وقت و حالات کے تجزیے سے سیکھے اور محسوس کئے ہیں اور یہ خیالات ٹوٹے پھوٹے الفاظ کی صورت میں آپ قارئین کے سامنے پیش ہیں۔اس میں غلطیاں ضرور ہیں اور یہ غلطیاں شاید مجھے دیکھائی نہیں دیں گے کیونکہ میرا چشمہ اس حد تک سیاسی حوالے سے مضبوط نہیں کہ میں اپنی غلطیاں خود نکال سکوں۔

ازراہ کرم غلطیوں کو پروپگنڈہ مت تصور کریں کیونکہ ہمارے سیاسی تنظیموں میں جن لوگوں نے اختلافے رائے رکھا وہی سیاسی کارکن اپنے ہزار مخلصی اور محنت کے باوجود ایک عام ممبر ہی رہے اور وہ کبھی ادارے کے کسی کابینہ کا حصہ نہیں بن سکے۔کابینہ کا حصہ وہی لوگ بنتے ہیں جو ہاں میں ہاں ملانے کی سوچ میں مگن رہتے ہیں۔مخلص اور محنتی سیاسی کارکن ہر گز ہاں میں ہاں ملانے والی تابیداری پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔میرا ہر گز کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ اداروں کے کابینہ کے سیاسی کارکن جی حضور ہیں مگر وہ بھی ادارے کے ضرورت کے تحت کابینہ کا حصہ بنے یا پھر وہ کسی لابی کا حصہ ہوکر کابینہ کا حصہ بن گئے ہیں۔

ہمارے اداروں میں جب تک آپ کسی لابی کا حصہ نہیں بنتے تب تک آپ کی مخلصی اور بے لوث محنت ایک ممبر کی حثیت سے ہوگا۔حالانکہ قومی تحریک میں تنظیموں کے اندر لابی ایک مہلک بیماری سے کم نہیں کیونکہ اسکا شکار مخلص دوست بنتے ہیں ۔حالانکہ تنظیم میں تمام دوست ایک ہی مقصد کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں اور تمام سیاسی کارکنوں کا برابر حق ہے مگر یہ حق شاید آئین کی حد تک ہے، عملاً میں نے اپنے سیاسی زندگی میں برابری کو نہیں دیکھا۔اور اگر آپ نے اختلافے رائے رکھی تو آپ کو اس طرح سائڈ لائن کیا جائے گا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کل تک تو یہ دوست میرے خون کا حصہ تھے مگر آج میرے ساتھ یہ کیوں کیا جا رہا ہے اور اگر آپ نے اپنا مسئلہ ہائی لائٹ کیا تو آپ پر الزامات کی بھر مار لگے گی تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ یار یہ وہ تنظیم اور سیاسی دوست ہیں جنہوں نے مجھے قوم کیلئے زندہ رہنے سکھایا اور آج یہی دوست اور تنظیم مجھے سیاسی موت کے منہ دھکیل رہے ہیں۔

اور جب آپ ان سے بیزار ہوئے تو کسی نہ کسی صورت اپنے سیاسی کام کی غرض سے آپ کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے اگر کام نہ آئے تو لگور ی کا اسٹمپ آپ کے سیاسی زندگی کا حصہ بنا دیں گے۔ جس سے یہ لوگ آپ کا مسئلہ سیاسی کارکنوں کو ڈرانے کیلئے ایک عبرت ناک مثال کی شکل میں بیان کریں گے جو کہ بد ترین سیاسی عمل ہے۔ جسکا کئی سیاسی کارکن شکار ہو کر اپنے سیاسی موت آپ مارے گئے یا مر گئے جو ایک نظریاتی خود کشی سے کم نہیں۔ایک سیاسی کارکن کو نظریاتی بنایا جا رہا ہے اور ایک نظریاتی دوست کو نظریاتی خود کشی کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔اسی وجہ سے میں نے اپنے سیاسی زندگی میں کسی کو نہ مانا اور نہ ہی مانوں گا۔ صرف اور صرف اداروں میں کام کیا اور اداروں کو مضبوط کرنے کیلئے کام کرتا رہا اور کروں گا مگر کسی لابی کا ہر گز حصہ نہیں بنا مگر ایک ہارڈ کور نیشنلسٹ ہوں۔اور میری قلم کی نب سے کسی پر رحم کی کوئی توقع نہیں رکھی جائے گی ۔

ادارہ

ادارے اس وجہ سے بنائے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی انٹرسٹ کو کیسے ،کیوں اور کس طرح حاصل کیا جاتا ہے۔ادارہ انسانی سوچوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جنہیں ایک ہی انٹرسٹ کی بنیاد پر پرویا جاتا ہے ۔کیونکہ فرد واحد تو کسی صورت اجتماعی انٹرسٹ کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔لہذا اجتماعی انٹرسٹ کو اجتماعی نوعیت کے زاویے سے دیکھتے ہوئے انفرادیت کو ختم کر کے اجتماعیت کے سانچے میں ڈھالا جاتا ہے۔جب تک انفرادیت ختم نہیں ہو گی تب تک اجتماعیت کا وجود نا ممکن ہے۔انفرادیت کو ختم کرنے کیلئے اجتماعی سوچ کو اداروں میں پروان چڑھایا جاتا ہے۔

اگر ایک انسان اجتماعیت کے سانچے میں ڈھل گیا تو وہ انفرادیت کادعویدار اور جوابدہ صرف تنظیم میں اپنے کئے کا ہوگا ۔اسکے علاوہ اسکی اپنی ذاتی پسند و نہ پسند کی کو اہمیت نہیں اور نہ ذاتیت ہے۔کیونکہ جب آپ ادارے کا حصہ بن گئے تو آپ کی کوئی پہچان نہیں رہی اصل میں آپ ادارے کی نسبت سے پہچانے جاو گے۔کیونکہ ادارے میں آپ اجتماعیت میں سرائیت کر گئے ہیں وہاں انفرادیت مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے ۔کیونکہ تنظیم آپ سے آپکی انفرادیت کا حق پہلے دن چھین لیتا ہے۔اگر ایک کارکن یہ دعوا کرے کہ تنظیم میں رہتے ہوئے میری ذات تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو اجتماعیت کیلئے قربان کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ اگر ادارے میں انفرادیت سرائیت کر گئی تو اس زیادہ دیر تک چلنا ناممکن ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ انفرادیت اجتماعیت کا دشمن اور اجتماعیت انفرادیت کا۔لہذا جتنا ہو سکے اجتماعیت کے انٹرسٹ کے حصول کیلئے انفرادیت کا گلا دبا دیا جائے تو بہتر ہے ورنہ انفرادیت ایک وبا کی شکل اختیار کرے گی۔اسی طرح کسی بھی ادارے کے تین بنیادی ستون ہوتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

Rule

قوانین ہمیشہ Dyanamic ہوتے ہیں نہ کہ Static کیونکہ قوانین حالت پر منحصر ہوتے ہیں حالات جیسے ہوں گے قوانین ویسے ہی حالات کا عکاسی کرتے ہوئے بنائے اور توڑے جائیں گے۔قوانین عموما دو اصولوں پر بنتے اور ٹوٹتے ہیں جو کہ
Interest اور reason ہیں۔تنظیم کا مطلب انٹرسٹ ۔جیسی آپ اپنا انٹرسٹ ظاہر کرو گے تب آپ اس انٹرسٹ کو حاصل کرنے کئلیے دلائل کا سہارا لیتے ہو اصل میں دلائل انٹرسٹ سے پہلے آتے ہیں کیونکہ آپ کے پاس دلیل ہوگا تو آپ انٹرسٹ کو ظاہر کرو گے اگر دلیل نہیں ہوگا تب انٹرسٹ نہیں ہو گا۔کسی بھی تنظیم میں قوانین نرم ہوں گے تو سیاسی ورکر بے لگام ہو جائیں گے یا پھر ان میں حالات کو کنٹرول یا پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوگا اور وقت آنے سے پہلے دُم دبا لیں گے۔قوانین جتنے سخت ہوں گے سیاسی ورکر اتنے ہیں مضبوط ہوں گے جو کسی قسم کے حالت سے ٹکراو کی صلاحیت کا حامل ہوں گے۔ٹھیک ہے سیاسی ورکر سختی کی وجہ سے تنظیم کا رکن نہیں بنیں گے اور اگر بن بھی گئے تو وہ ایک طوفان سے کم نہیں ہوں گے۔اور ویسے بھی عظیم سیاسی ورکر کی ضرورت ہے نا کہ کام چور کی۔یہ تمام تنظیم کے قوانین پر منحصر ہے۔یہی قوانین نظم و ضبط کے دائرہ کار اور احکمات کی نوعیت کو متعین کرتی ہیں

Order

طاقتور سیاسی سوچ یہ ہے کہ ا حکام کس نوعیت،کیوں اور کہاں تک کی حدود ہونا چاہیئے۔احکام کی طاقت کا اندازا اسے کے Political justification سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نئے حکم کو لوگ کس طرح من و عن اور دلائل کے ساتھ قبول کریں گے۔اگر احکمات workable اور reasonable ہوئے تو اصولا اس کے نتائج اچھے ہوں گے جو ایک سیاسی ورکر کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔کیونکہ عام سیاسی ورکر جب بھی کوئی حکم پر عمل کرے گا تو وہ اس کے دو پہلو دیکھے گا کہ آیا یہ حکم تجربے سے گزر سکتا ہے کہ نہیں اور آیا یہ عمل کرنے کیلئے سود مند ہے کہ نہیں۔ سیاسی ورکر کا دلیل جتنا مضبوط ہو گا لوگ اتنا ہی اس حکم نامے پر عمل کریں گے کیونکہ حکم نامہ مضبوط دلائل کی وجہ سے قبول کیا جاتا ہے۔اگر دلیل مضبوط نہ ہوا تو لوگ مخالفت کریں گے ہر اس پہلو کا جو اسی ادارے سے وابستہ ہوں گے ۔کیونکہ ادارے نے اپنی حثیت لوگوں کے دلوں سے گنوا دیا ہے اور اسکی جگہ شک نے جگہ گھیر لی۔شک جتنا زیادہ شدت سے ہوگا یقین اتنا ہی کمزور ہو گا اور یقین جتنا مضبوط ہوگا شک اتنا ہی کمزور ہوگا۔

Discipline

اگر ادارے کے احکامات مضبوط دلائل کی عملاََعکاسی کریں گے توتب ادارے انہیں نظم و ضبط کا نام دے کر اپنے سٹرکچر اور دائرہ کار کو وسیع کرتا ہے ۔جیسے ہی ادارا ہ مضبوط ہوگیا تب وہ سیاسی ورکروں کو ایک عملی تربیت کا درس دے گا ۔جو کہ تربیتی ورکشاپ اور چھوٹے سیاسی دائروں میں سکھایا جاتا ہے۔اگر کسی تنظیم میں نظم و ضبط کا فقدان رہا تو وہ تنظیم زوال کا شکار رہے بغیر نہیں رہ سکتا۔

-دنیا میں کہیں بھی کوئی قومی تحریک چلی ہے تو اس میں دو قسم کے Rationalitiesپائی گئی ہیں۔
Stratgic Rationality
ہمیں کیا کر نا چاہیئے(حالات پر منحصرہے/ حالات پر منحصر نہیں)۔
ہم کیسے اپنے جغرافیائی حدود کو کور کریں گے اور کیوں ۔
عالمی دنیا کو کس طرح متاثر کر کے اپنے حامی اور مدد گار بنایا جائے۔

Communicative Rationality
عوام کو کس طرح متحرک کیا جائے۔
کیسے سیاسی الفاظ استعمال کرنے چاہیئے تاکہ سیاسی کارکنان کو اس سے فائدہ پہنچے اور قابل بحث موزوں کو کس طرح حالات کے تناظر میں دیکھا جائے جو تحریک کو ایندھن فراہم کرے۔بلوچ سفارت کاروں کو کس طرح سفارتی زبان اور تعلقات اپنے قومی مفادات کے تناظر میں لانے چاہیئے۔

بلوچ قومی تحریک میں یہ دونوں خیالات مجھ جیسے ناچیز کارکن نے نہیں دیکھے اور نہ ہی محسو س کیے ہیں۔بس میں یہی دیکھ رہا ہوں کہ ہم کچھ کر رہے ہیں ۔کیونکہ ہم حالات کا تو جائز کرتے ہیں مگر انہیں اپنے قومی تناظر میں دیکھنے پر کمزور رہے مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے لیڈران ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔کچھ کہنے سے پہلے سوچتے تو ہیں مگر اسے بحث و مباحثہ کے دائر کار میں لانے سے قاصر رہے ہیں اور آج تک یہی ہو رہا ہے۔کچھ کرنے سے پہلے یہ نہیں دیکھتے کہ کیا کرنا چاہیئے ،کیوں کرنا چاہینے اور کیسے کرنا چاہیے ؟۔آیا یہ ایسا کرنے کا وقت ہے کہ نہیں ،کیا یہ سوچنا موزوں ہے،کیا یہ حالات کے مواقف تو نہیں،اگر کیا جائے تو اس کے کیا نتائج آئیں گے۔۔؟مگر اس فقدان نے ہمیں کہا کھڑا کر دیا شاید ہم سوچ نہیں سکتے۔

یا تو ہمارے لیڈران جو سمجھتے ،سوچتے ہیں بس کہہ دیتے ہیں یا پھر ان کی نیشنلزم پر سٹڈی بہت کم ہے یا پھر حالات کا جائزہ کرنے سے قاصر ہیں یا پھر انا کا شکار ہو کر ہر چیز کو اچھے اور برے کے تناظر میں دیکھے بغیر کچھ کر دیتے ہیں یا پھر ان میں فیصلہ کرنے کی سیاسی صلاحیت کم ہے۔اور مجھے جو کچھ سمجھ آ رہا ہے وہ یہ کہ ہم پہلے پلاننگ کرتے ہیں اور پھر اراداہ کرتے ہیں مگر سیاسی سوچ یہ ہے کہ پہلے اراداہ کرو پھر اس مقصد کو جامہ پہنانے کیلئے پلاننگ کرو۔

فرض کریں آپ نے پلاننگ کی ہے کہ میں نے فلاں حد تک جانا ہے اور آپ اراداہ کر کے روانہ ہوتے ہیں اور اسی راستے میں ہزاروں دراڑیں ہوں گے جو آپ کو مسلسل منزل سے دور ہٹا رہے ہوتے ہیں کیونکہ آپ ان دراڑوں کو ہٹاتے ہٹاتے ہوئے منزل آپ سے دھندلا ہو جائے گا کیونکہ دراڑوں کو آپ منزل سمجھ جاتے ہیں۔فرض کریں اگر آپ نے اراداہ کیا کہ میں نے منزل کو پانا ہے تو آپ کے سامنے جو دراڑیں آیں گے آپ ان کو ہٹاتے ہوئے جائیں گے اور آپ کی منزل دھندلہ نہیں ہوگا اسکی وجہ یہ ہے کہ آپ کا پلاننگ آپکے حالات کے مطابق طے ہوں گے اور یہی دراڑیں آپ کے پلاننگ کا راہ ہموار کر رہی ہوتی ہیں جس سے آپ اپنی منزل کو آسانی سے کامیا ب کر لیں گے۔

جیسا کہ ونسٹن چرچل کہتے ہیں کہ”اگر آپ کسی منزل کیلئے نکلے ہیں تو راستے میں کتے آپ پر بھونکیں گے تا کہ آپ اپنی منزل کو بھول جائیں ۔لیکن آپ نے کتوں کی طرف دھیان نہیں دینا بلکہ منزل پر آپکا دھیان ہونا چاہیئے” ۔حیر بیار نے ایک بیان دیا تھا کہ سعودی عرب اب جدیدت پر عمل پیرا ہے جو کہ خوش آئندہ عمل ہے اور جہادیوں کو سپورٹ کرنے سے بہتر ہے کہ وہ مظلوم قوموں کی مدد کرے ۔یہ بات کسی حد تک تو ٹھیک ہے مگر آیا سعودی عرب اگر آپ کو سپورٹ کرے بھی تو ایران کو کمزور کرنے کیلئے بلوچ اور کرد تحریک کو سپورٹ کرے گا مگر آیا وہ پاکستان کو اس سب گیم میں اگنور بھی کرے گا یا نہیں ؟۔آیا آج تک سعودی نے کسی مظلوم قوم کو سپورٹ کیا ہے کہ نہیں ؟آیا وہ جندل اللہ کو سپورٹ نہیں کر رہا ؟آیا وہ بلوچ نسل کشی میں برابر شریک نہیں جیسا کہ پاکستان اور ایران۔۔؟آیا وہ بلوچستان میں جہادیوں کو سپورٹ نہیں کر رہا ۔۔؟آیا وہ طالبان کو سپورٹ نہیں کر رہا۔۔؟طالبان نے تو BLA,BRA کے دوستوں کو پکڑ کر پاکستان کے ہاتھوں نہیں دیا ؟آیا جند اللہ BLF کے دوستوں کو شہید اور پاکستان کے حوالے نہیں کر رہا۔۔؟آیا وہ تبلیغی جماعت کو سپورٹ نہیں کر رہا جو بلوچ نیشنلزم کے خلاف کام کر رہے ہیں۔۔؟آیا آج اُرماڑاہ،لیاری ،ملیر،حب ،لسبیلہ،ڈیرہ بگٹی،کوہلو،بارکھان،ڈیرہ غازیخان ،پسنی،نوشکی ،قلات،خضدار،پنجگور،راجن پور میں نیشنلزم کے خلاف کام نہیں کروا رہا۔

حالت یہ ہے کہ آج تبلیغی بلوچ اپنے آپ کو بلوچ ماننے سے انکاری ہیں ۔وہ تو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں ہم بلوچ نہیں ہیں آیا یہ عمل بلوچ تحریک کو نقصان نہیں پہنچا رہا۔۔؟ان تما م علاقوں میں حالت یہ ہے کہ تمام تبلیغی اپنے کلچر کے خلاف لوگوں کو ابھار رہے ہیں۔آیا آپ نے کبھی کوئی لیکچر دیا انہیں یوٹیوب،انسٹاگرام،فیسبک یا پھر اور میڈیا ذرائع آپ نے استعمال کئے ہیں اس تمام تعصب کو روکنے کیلئے ؟اگر نہیں تو کیوں؟حالانکہ راجن پور سے مولانا عبدالعزیز ،شفیق مینگل خضدا سے،ملا ذاکر پسنی سے جو کر رہے ہیں۔ شاید آپ اس سے نا واقف نہیں ہیں مگر آپ اور آپ کی تنظیم نے آج تک کوئی آگہی مہم چلائی ہے؟۔اگر یہی ہے تو مطلب یہ ہوا کہ فری بلوچستان موومنٹ کے دوستوں کے درمیان حیربیار کا بیان بحث کے لئے رکھا ہی نہیں گیا ہوگا یایہ دوست شاید حیر بیار کے بلائینڈ فالور ہیں؟تو یہی معلوم ہو رہا ہے کہ تنظیم کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی کہ ایک فرد کی؟مجھے یقین ہے اگر یہ بیان دوستوں کو بحث کیلیئے دی جاتی تو شاید بیان اس قسم کے دھڑا دھڑ نہیں دئے جاتے۔

دوسرا آج تک FBM کے دوست ایک فٹ پاتھ پہ ٹھہر کر ایک احتجاج کیلئے کامیاب تو ہوئے آیا عالمی دنیا کو اپنا مواقف منوانے اور پہچانے میں کامیا ب ہوا ہے؟آیا آج تک باقی تنظیموں کے ممبران ان احتجاجات میں کیوں دیکھائی نہیں دئے۔ہم ایکدوسرے میں بٹے رہے تو یہی حال ہوگا کہ بیرونی ممالک کے سفارت کار یہی کہیں گے کہ بلوچ تحریک نوزائیدہ تحریک ہے۔نوزائیدہ کا مطلب یہ نہیں کہ ابھی کچھ سالوں میں شروعات ہوئی بلکہ یہ ہے کہ ذہنی اور سیاسی حوالے سے پختہ نہیں ہے کیونکہ ہمارے احتجاجات میں ہم بیرون دنیا بیٹھ کر کے اپنے چھوٹی سیاسی سوچوں کی وضاحت کر رہے ہیں اور دوسرا گزشتہ ہفتے کا بیان کہ سب تنظیمی دوستوں کو مناظرے کی دعوت۔آیا جناب اسے بیان دینے سے بہتر نہیں تھا کہ آپ تمام آزادی پسند دوستوں سے رابطہ کرتے رابطہ کرنے کے بعد جو حل تما م دوست مل بیٹھ کر سیاسی راستے کا اعلان کرتے اسے عوام کے سامنے لاتے مگر اسٹیٹمنٹ سے آپ کیا چاہتے ہیں؟اسٹیٹمنٹ سے تو یہ لگ رہا ہے کہ آپ کا باقی تما م آزادی پسند دوستوں سے رابطہ نہیں ہے؟ ۔ڈاکڑ اللہ نظر نے ایک بیان میں کہا (جب ان کی بیوی گرفتار ہوئی ) کہ ہم پاکستان کو جنگ سیکھائیں گے کہ جنگ کیا ہوتا ہے۔آیا آپ کی بیگم اور بیٹی سے پہلے بلوچ خواتین اور بچے اغوا نہیں ہوئے؟،کیا زرینہ کی قربانی رئیگاں گئی اور کمانڈر مراد پر کیا گزرا ہو گا مگر آج تک کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔

کیا دلیپ کی بیگم اور بچے اغوا نہیں ہوئے؟،کیا اسلم بلوچ کی بہن بچوں کے ساتھ اغوا نہیں ہوا ؟اور اسلم کی جانب کوئی بیان نہیں آیا۔ڈاکڑ صاحب آپ کے فیملی کی قربانیاں اپنی جگہ مگر بیگم کے اغوا کا صدمہ آپکو ان باقی تمام صدمات سے مختلف اور موثر انداز میں سرائیت کر گیا۔آپ کے اس جذباتی بیان کو میرے خیال میں لبریشن فرنٹ کے دوستوں کے سامنے بحث کیلئے نہیں رکھا گیا کہ آیا یہ بیان مناسب ہے کہ نہیں۔تو فرنٹ کے دوست یا تو آپ کے سر بسجود ہیں یا پھر تنظیم کی کوئی اہمیت نہیں فرد واحد کیلئے؟ڈاکڑ صاحب آپ بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تحریکیں فرد کے ہاتھوں نہیں قومی تنظیم کے پالیسیوں کے تحت کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔تو یہ سب کچھ جاننے کے بعد اس طرح کے بیانات کا مقصد کیا ہے؟شاید آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ لیڈر کی بیگم اور عام بلوچ خواتین کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے؟اگر ایسا ہی ہے تو خدارا قوم یہی سوچے گی کہ لیڈران کے بچے اغوا بھی ہو جائیں تب بھی ریاست انہیں بعزت رہا کر دیتی ہے اور ہماری بیٹیاں سالوں سے صوعبتیں جہیل رہے ہیں تو وہ ان تمام existential situation پر عمل پیرا ہو کر ایک ایک تحریک سے کٹتے جائیں گے۔

آیا آپ مظلوم قوم کی حثیت سے آج تک اپنے آپ کو پوری دنیا میں منوانے میں کامیاب رہے؟آیا اگر آپ جنگ سیکھا سکھتے ہیں تو آپ مظلوم کیسے ہوئے؟ کیونکہ وہ تو آپ پر قابض ہے وہ جو کر رہا ہے اپنے آپ کو تہذیب کے اعلیّ معیار کے ناپ میں رکھ کر رہا ہے اور وہ آپ کو کس طرح معاف کرے گا کہ آپ اس قابض کے خلاف لڑ رہے ہیں اور وہ آپ سے سیکھے کہ جنگ میں کن کن چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے؟اگر آپ کی تنظیم جنگی حدود کا خیال رکھتے ہوئے جنگ لڑ رہی ہے اور پاکستان بھی اس حکمت عملی سے واقف نہیں تو کیا وہ آپ سے کیوں نہیں سیکھ رہا؟ڈاکڑ صاحب وہ اس بلوچ کے وجود سے انکاری ہے تو وہ کیوں بلوچ کے روایات کی خیالداری کرے کیوں وہ تو آقا ہے ۔آقا جو چاہے کرتا ہے بلا جواز۔۔تو کیا اس اعلی اقدار کی بنیاد پر سیکھے گا آپ کے تہذیب کو؟بلکل نہیں کیوں وہ تو آقا ہے وہ مظلوم کو مانتا ہی نہیں تو وہ مظلوم سے کیا سیکھے گا اور کیوں سیکھے گا؟ہم اسے سیکھا نہیں سکھتے ہم اسے ہرا سکھتے ہیں ۔ک

یوں وہ مظلوم کے اعلی تہذہب سے سیکھنا ہی نہیں چاہتا۔ڈاکڑ صاحب ہم سیکھا نے کی پوزیشن میں نہیں ہیں مگر ہم سیکھنے کی پوزیشن میں ہیں کہ وہ ہمیں کس طرح بے دردی سے ختم کرتا جا رہا ہے۔خدارا انہیں سیکھانے کی بجائے اپنے سیکھنے اور سیکھانے پر توجہ مر کوز کی جائے تو یہ خوش آئندہ عمل ہو گا۔ڈاکڑ صاحب آیا آج فرنٹ بلوچستان کے ہر علاقے میں ہے ؟نہیں وہ صرف کوئٹہ تک ہے مگر پورا سلیمان ایریا(ڈیرہ جات ) اور اورماڑہ،بیلہ،اوتھل کون کور کرے گا؟فرنٹ لائن کون کور کرے گا؟۔ڈاکڑ صاحب آیا ایران میں بیٹھے آزادی پسند کمانڈر زکیوں شہید کیے جا رہے ہیں آیا یہ ایران کی پالیسی تو نہیں ہے؟۔

براہمدغ بگٹی کاحالیہ بیانات بھی حالات کو دیکھے بغیر کہ آج ہم کس پوزیشن میں ہیں اور کیا اس قسم کے بیانات سے تحریک کو ایندھن ملے گا یا نہیں؟آیا اس سے آپ تحریک کو کنفیوژن کا شکار تو نہیں کر رہے؟بگٹی صاحب کے پرانے دو بیانات میں ان سے دو مختلف سیشنز میں پوچھا گیا کہ جناب آپ ڈیرہ جات اور سیستان کے حوالے سے کیا کہنا چاہتے ہیں۔ تو آپ نے کہا ڈیرہ جات اور سیستان کے لوگ جہاں خوش رہنا چاہتے ہیں ہمیں مسئلہ نہیں۔اگر وہ ہمارے ساتھ آنا چاہتے ہیں تو آئیں ورنہ وہیں خوش(حالانکہ دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کے سنیٹر ثناء جیو کے نشست میں کہتے ہیں کہ کوہ سلیمان ہمارا مکہ ہے)۔تو کیا بگٹی صاحب آپ کے دادا نے بھی تو پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا (تو بعد میں نواب صاحب خود اس قابض کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے)تو آپ آزادی کی جنگ کس کیلئے اور کیوں لڑ رہے ہیں ؟آیا سیستان اور ڈیرہ جات،نمروز،جیکب آباد،کشمور،لیاری ،شاہداد کوٹ اور ملیر بلوچستان کے حصے نہیں تھے ؟آیا ان تمام مقبوضہ جات علاقوں کو بزور طاقت قبضہ کر کے تقسیم نہیں کیا بلوچوں کو کمزور کرنے کیلئے؟آیا موجودہ بلوچستان صرف آزادی کے حقدار ہے ؟آپ کہیں موجودہ بلوچستان کے آزادی کی بات تو نہیں کر رہے؟آیا نصیر خان نوری کے بلوچستان کو آزاد کرناچاہ رہے ہیں آپ یا پھر موجودہ بلوچستان کو؟

بگٹی صاحب کے بیانات ریپبلکن پارٹی کے دوستوں کو بحث و مباحثہ کیلئے شاید نہیں دی گئی اور یہی کچھ ہو رہا ہے کہ کب سے ریپبلکن کی کونسل سیشن نہیں ہوئی اور آج تک براہمداغ ہی چیرمین ہیں۔بگٹی صاحب 27 مارچ کا مطلب قلات ریاست کا ٹوٹنا یعنی سنٹرل گورنمنٹ پر قبضہ کرنا۔تیسرا حالیہ بیان کہ بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست نہیں دیں گے۔بگٹی صاحب پاکستانی طرز سیاست صرف پاکستانی پارلیمنٹ تک مگر آپ اسکا حصہ نہیں اور آپ ایک قومی تحریک سے وابستہ ہیں جو کہ قومیت کی روح ہے۔قومیت اور قومی سیاست ایک نازک اور پیچیدہ عمل ہے جس میں آپ کیا کسی بھی بلوچ کے کسی اسٹیٹمنٹ سے قومی سیاست پر اثر پڑتا ہے۔خدارا آپ وہیں اپنے سیاسی سفارتکاری پر توجہ دیں تاکہ قوم کو فائدہ پہنچے اگر وہاں بھی بیانات کہ حد تک ہے تو آپ سوئٹزر لینڈ میں کچھ نہیں کر پائے تو آپ انڈیا میں مجال ہے کہ کچھ کر پائیں گے ۔

چیرمین خلیل کا بیا ن (براہمداغ کے بیان کے بعد)اور باقی تما م رہنماوٗں کے بیان میں کچھ نیا انداز دیکھنے کو ملا مطلب یکدم بیانات دینا تاکہ کوئی سمجھے کہ ہم بھی ہیں؟آیا ان تمام رہنماوں کو یہ خیال میں نہیں آیا کہ ہمارے سیاسی تنظیمیں پورے بلوچستان میں ہیں؟اور اچھی طرح کام کر رہے ہیں؟تمام تنظیمیں سلیمان بیلٹ میں ہیں اور جہاں ہیں وہاں اچھی طرح کام کر رہی ہیں کہ نہیں اگر نہیں تو ان بیانات سے بہتر نہیں کہ نیشنلزم کو وسعت دی جا ئے تاکہ ریاست کو توڑنے میں کامیا ب ہو جائیں؟آیا بلوچستان کے کٹے ہوئے حصے بلوچستان کا حصہ نہیں ہیں اگر ہیں تو وہاں بلوچ نیشنلزم پر کام کیوں نہیں ہو رہا ؟سندھ ،پنجاب،سیستان ،ڈیرہ اسماعیل خان اور نمروز کے بلوچ نیشنلزم کے چیخیں مار رہی ہیں مگر ان کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی سیاسی تنظیم نہیں ہے ایسا کیوں؟۔

کیا تمام تنظیمیں پوری دنیا میں اپنے آپ کو منوا سکھے ہیں کہ نہیں؟اگر نہیں تو کیا کرر ہے ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے؟بیرون دنیا میں سب تنظیمیں اپنی کمزور طاقت کے ساتھ ایک دوسرے کا ساتھ دینے کیلئے تیار نہیں ایک دوسرے میں ضم ہونے میں تیار نہیں آخر کیوں؟آیا یہ سب آزادی کی خاطر قربانیاں نہیں دے رہے اگر دے رہے ہیں تو سب اپنے اپنے مختلف ناموں کو ختم کر کے ایک تنظیم میں ضم ہونے سے ایک مقصد آزادی کیلئے مل بیٹھنے کو کیوں تیا ر نہیں؟آج تک ہماری سیاسی لیڈران یہ تک نہیں جانتے کہ ہماری جنگ نیشنلزم کی ہے یا پھر کسی اور سیاسی نظریے کی اسکی واضح مثال یہ ہے کہ عالمی دنیا میں جو سیاسی بلاک پاور میں آئے گی ہمارے لیڈران کا قبلہ اسی طرف مڑ جائے گا آیا یہ عمل سود مند ہے کہ نہیں؟مجھے تو یہی محسوس ہو رہا کہ ہماری سیاسی سٹڈی اس حد تک کمزور ہے کہ ہم اپنے آپ کو سیاسی حوالے سے مضبوط نہیں کر پائے تو دنیا ہمیں کیا مانے گی۔ہمارا اپنا قبلہ درست نہیں تو کیا عالمی دنیا ہماری جانب توجہ مبذول کرے گی؟اسی سیاسی نا پختگی کی وجہ سے ہم آج تک اپنی تحریک کو دنیا میں کامیاب کروانے میں قاصر رہے ہیں جو کہ بد ترین سیاسی صورت حال کی عکاسی کرتی ہے ۔آیا ہمارے سیاسی لیڈران کے اس عمل سے عالمی دنیا یہی محسوس تو نہیں کر رہی جب بھی جو بھی طاقت ابھرے گی بلوچ تحریک اسی کی گود میں بلا جواز گرے گی اور وہ اس تحریک کو اپنے مفادات کی صورت میں استعما ل کر کے چھوڑ دے گی تو تحریک ختم ہو جائے گی؟۔

بانک کریمہ کا یکدم بیان(براہمداغ کے بیان کے بعد) دینا کچھ عجیب سا محسوس ہو ا۔بانک کیا آج تک آزاد نے آن لائن لیکچر سیشن کا انعقاد کیا ہے؟اگر آپ گراونڈ میں موجود نہیں تو کم از کم لیکچر سیشن کا انعقاد کر کے آپ اپنا میسج پورے بلوچستان میں پہنچا نہیں سکتی؟کیا آزاد آج بلوچستان کے تما م علاقوں میں ،تمام اداروں میں کام کر رہی ہے؟کیا آزاد بلوچستان سے باہر پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں میں کام کر رہی ہے؟کیا آزادسیستان ،نمروز اور بلوچستان کے کٹے ہوئے علاقے جو سندھ ،پنجاب ،کے پی کے میں کام کر رہی ہے؟کیا آزاد آج تک باقی تمام مظلموم قوموں کے اسٹوڈنٹس کو غلامی سے چھٹکارے کا درس دے رہی ہے؟اگر نہیں تو کیوں؟آج اگر بلوچ اسٹوڈنٹس کونسلز اور ایکشن کمیٹی یہ صرف اور صرف فوٹو سیشن کے سوا کچھ بھی نہیں کر رہے یا پھر محی الدین اور پجار کی آزاد کے خلاف گٹھ جوڑ یہ سب کچھ آزاد کی کمزوری کی وجہسے ہورہا ہے ۔ کیوں کہ آزاد اسٹوڈنٹس کو نئے پروگرامز سے مستفید نہیں کر رہا یا پھر نئے پالیسی اور پراگرامز سے قاصر ہو گیا ہے؟ ۔آزاد کے بیرون ملک بیٹھے ممبران آج تک طارق فتح کے علاوہ کسی اور سیاسی رہنما سے نزدیکی کیوں نہیں کر پائے؟آج تک آزاد کے بیرون ممالک بیٹھے رہنماوں نے بلوچستان میں کام کرنے والے کارکنان کیلئے کوئی سیاسی لٹریچر مہیا کیا ہے؟آزاد کے رہنما آج تک کسی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکے یہ نہیں سوچا کہ یونیورسٹیز میں طلباء یونین کے ساتھ ملکر بلوچستان حوالے کوئی سیمینار یا سیاسی نشست کروائی جائے تاکہ بیرون ممالک اپنے زیادہ سے زیادہ دوست پیدا کر سکیں اور ٹیچرز سے تعلقات کی بنا بلوچستان کے حوالے کچھ سیاسی ریسرچ مکالمہ لکھوائیں اور خود لکھیں۔

آزاد کے وائس چیرمین کا حالیہ آرٹیکل کچھ نکما پن کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔جناب موجودہ صورتحال سے ہر کوئی اچھی طرح باخبر ہے مگر آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ کچھ ایسے آرٹیکلز لکھیں جو سیاسی پختگی،نئی دنیا کی سیاسی سوچ اور ہمیں موجودہ جنگی حالات اور انٹرنیشنل صورتحال کے تحت کس طرح اپنے اسٹوڈنٹس کو سیاسی حوالیں مضبوط کرنا چاہیئے اور کس طرح اپنا مقصد آزادی کے حصول کو یقینی بنائیں۔آج اسٹوڈنٹس کو دیکھا جائے تو حالت یہ ہے کہ کوئی آزاد کو جوائن کرنے کیلیئے تیار نہیں کیوں کہ ہم نے پجار اور محی الدین کو فری ہینڈ دیا اور آزاد نئی پالیسیاں اور پروگرامز دینے سے قاصر رہا ہے ۔میرے خیال میں دنیا میں جہاں بھی کوئی تحریک ابھری ہے وہاں لوگوں کو اس حد تک سسٹمیٹک کیا گیا ہے کہ آزادی کے سوا تمھارا کوئی راستہ نہیں تو آج ہم ان پجار اور محی الدین کو فری ہینڈ کس بات کی اور کس نظریے سے دے رہے ہیں؟آیا اگر ہم ان کے بڑے رہنماوں کو ٹھکانے لگا دیں تو کیا اسٹوڈنٹس پولیٹیکس پھر نیشنلزم کو رنگ اختیار نہیں کرے گی ۔شرط یہ ہے کہ آزاد نئی پالیسیاں اور مضبوط پروگرامز سے لیس ہو۔حالانکہ ان کے سیاسی مزدور رہنماوں کو ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہے ۔اگر آج ہم انہیں ٹھکانے نہیں لگائیں گے تو حالت یہ ہے کہ ہم صرف قوم کو مینٹلی ریٹائرڈ اور فزیکلی ڈس ایبل پراڈکشن مہیا تو کر سکتے ہیں مگر قومی تحریک کئلیے ایک مضبوط نسل تیار نہیں کر سکتے تو نہ بچے گی قوم اور نہ ہی قومی تحریک۔

تمام بلوچ لبریشن آرمیز پورے بلوچستان اور کٹے ہوئے حصوں میں کام کر رہی ہیں ۔اگر ہاں تو مجھ جیسے ادنی کارکن کو نہیں معلوم مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف اور صرف موجودہ بلوچستان میں کام کررہی ہیں اور وہ بھی تقسیم کا شکار ہیںآیا ایسا کیوں ہو رہا ہے جو مسلسل تقسیم کی نظر ہے۔یا تو انہیں کی جدوجہد صرف موجودہ بلوچستان تک ہے اور کٹے ہوئے حصے بلوچستان کا حصہ نہیں ہیں؟۔ آج جو کچھ تیل اور گیس ،یورینیم پراجیکٹس کی ایکسپلوریشن کیلئے پسنی،خضدار،خاران ،کوہلو،کاہان اور ڈیرہ بگٹی میں سروے اور آپریشن کئے جا رہے ہیں ۔اسی طر ح بلکل ڈیرہ غازیخان اور راجن پور میں ہو رہا ہے تو وہاں ان کمپنیز کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی جا رہی ؟۔یا تو لبریشن اس ایریے میں نہیں ہے اگر ہے تو کیوں دم سادھ لیے ہیں؟۔یا پھر یہ تمام علاقے بلوچستان کا حصہ نہیں ہیں؟اگر یہی کچھ بار بار دہرایا گیا تو میر ے خیال میں ہم آزادی ضرور لیں گے، میرا پختہ ایمان ہے ،مگر ہم شاید وام دار آزادی کا حصہ دار اور حقدار ہوں گے ،جو غلامی کا خوشنما رنگ لئے غلامی کا سڑکچر ہو گا ،جو مزید ہماری نسل کشی کا موجب بنے گا۔کم از کم ایک دوسرے پر تنقید برائے تنقید کی بجائے سسٹم کو مضبوط کیا جائے تو وہ بہتر رہے گا کیوں کہ جو سٹرکچر ایک دفعہ سسٹمائز ہوا اور وہ نظریہ ایک سسٹم میں پیوست کر گیا تو وہ عام لوگو ں میں سرائیت کر جائے گی جس سے ہم اپنی منزل کی جانب کامیاب ہوں گے۔ایکدوسرے کو کیچڑ اچھالنے سے یہی ہو ا آج گراونڈ خالی ہے اور سرکار اپنے گماشتوں کو بغل میں لئے تمام اداروں کو مضبوط کئے ہوا ہے۔

ہمیں کیا کرنا چاہئیے میری چھوٹی سیاسی سوچ کے مطابق وہ آپ قارئین کو پیش مندرجہ ذیل ہیں۔

لیڈرز

دنیا میں کتاب کی اہمیت کو نہ تو خدا نے ٹھکرایا نہ کہ بنی نوع انسان نے ۔خداکا مسئلہ یہ تھا کہ بنی نو ع انسان کو اپنی کتاب کے ذریعے لاشریکیت پر پختہ ایمان کر ادے۔اگر خدا الہامی کتابیں نازل نہ کرتا تو میرے خیال سے جس کو جو اچھا لگتا وہی کرتا اور انسان انسان کی تباہی کے اس نہج تک پہنچتا کہ شاید آج انسان کا وجود نہیں رہتا۔مگر خدا کو یہ ضرورت اس وجہ سے پیش آیا تاکہ میرا کلام پاک ہر انسان کی رہنمائی کیلئے ہو جو وقتا فوقتا اس سے مستفید ہو کر لا شریک پر اپنا ایمان پختہ کروا کر اپنا وجود منواتا کیونکہ خدا جانتا تھا صرف وحی سے انسان کی رہنمائی نہیں ہو سکتا کیونکہ وحی کو تو ہر انسان اپنے ذہنیت اور مفادات کے تحت موڑ لیتا اور وحی کی بنیادی مقصد ختم ہو جا تا اور الہامی کتاب کے ذریعے ہر ایک سطر میں گزشتہ انسانی رویوں کے تجربات سے آپ کو آگاہ کرتا ہے اور ساتھ ساتھ رہنمائی بھی کرتا ہے۔انسان کا مسئلہ بھی خدا کے مسئلے سے مماثلت رکھتا ہے کہ انسان نے بھی تجربات،رہنمائی اور تاریخ کی زوال اور ترقی کو اپنے ہم نما انسانوں تک کتاب کے ذریعے پہنچایا تاکہ گزشتہ حالات و واقعات سے نئی نسل فیض یاب ہو کر اپنے ترقی کے نئے لا زوال راہوں کی تلاش میں سرگرداں رہیں ۔تو کتاب کی بدولت دنیا کے تمام تہذیبیں اور الہامی کتب سے آج تک مذہب،سائنس اور فلسفہ مستفید ہو رہا ہے اور ترقی کے منازل کو چھو رہے ہیں ۔مگر حقیقت تو یہ ہے کہ آج تک بلوچ تاریخ میں کسی بھی آزادی پسند سیاسی دوست یا لیڈر نے ایک کتاب تک نہیں لکھا۔

یہ تاریخ چاہے آزادی سے غلامی تک سیاسی چالبازیوں یا پھر مسلح شکل میں دشمن سے جنگ آزادی تک کے سفر پر مشتمل ہو۔چاہیئے تو یہ تھا کہ اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں قوم کو ایک کتاب مہیا کرتے تا کہ اس تجربے سے سیاسی اور مسلح دوست سیکھتے تاکہ وہ گزشتہ مسئلے دوہرائے نہ جاتے ۔تجربے سے سیاسی پختگی اور سیاسی و مسلح شعور بڑھتی ہے جو پرانے تجربات کی روشنی میں نئے تجربات و حالات کا تقاضا کرتے ہوئے ایک نئی سیاسی و مسلح سوچ اور ہم آہنگی پیدا ہوجاتی جس سے کم از کم میں اور تو کے چکر سے تحریک نکل کر ہم (بلوچ) کی شکل اختیار کرتی ۔ سیاسی لیڈرز کم از کم آرٹیکلز اور کتاب کی شکل میں اپنا سیاسی سوچ کارکنوں تک پہنچائیں تاکہ وہ اس سے مستفید ہو کر نئے پالیسیز کے جانب راغب ہو ں ۔دنیا میں جہاں کوئی سیاسی یا مذہبی مسئلہ ہوا وہاں لیڈرز نے تقاریر،انٹرویوزاور خط و کتابت کی شکل میں اپنے سیاسی مسئلے کی دفاع کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو ہما وقت نئی پالیسی اور سوچ سے تنقیدی زاویے کے تحت دشمن کو نشانہ بنایا اور اپنوں کی تربیت کی۔لہذا ہماری لیڈرز اور کیڈرز اس سوچ و فکر اور پالیسی پر کار بند رہیں تو ایک نیک شگون عمل ہو گا۔جس سے بلوچ ازم کو مستقبل میں سیاسی ،نفسیاتی،معاشی،سماجی،سائنسی اور دفاعی حوالے سے مستفید کر کے ایک عظیم قوم بنائے گی۔ 

نشہ

نشہ دماغ کے چھوٹے نروز، لائٹیں اور آپٹیکل فائبر کیبلز کے فنکشنز کو متاثر کر کے غنودگی کا غلبہ دماغ پر برپا کرتا ہے ۔اور انسان کی شعوری حالت کو شفٹ کرتی ہے ایک خیالی اور تصوراتی حالت میں جو حقیقت سے ماورا ہوتا ہے ۔مگر یہ حالت نشہ لینے والے پر منحصر ہے کہ وہ کس حالت کو اپنے ذہنی شعوری سٹیج کا حصہ بنا لے جیسا کہ بڑی بڑی باتیں کرنا،گالم گلوچ ،مایوسی،ہنسنا اور جھگڑنا وغیرہ۔یہ ایسی لعنت ہے جس نے دنیا کی عظیم تہذیبوں کو آڑے لیکر کھوکھکلا پن کی نہج تک پہنچایا جو ایک قسم کی انسانی شعوری(اس کے نقصانات جاننے کی باوجود) خود کشی تھی اور ہے ۔اور یہ قبضہ گیروں نے مظلوموں کی غلامی کو دائم کرنے کیلئے اس نشہ کو استعمال کیا تاکہ یہ نشے کی غنودگی میں ڈوبے رہیں اور میری آقائیت کو اپنائیت کا تصور سمجھ کر میری استحصال کو ترقی کی خوشنما لبادے میں اُوڑ ھ کر اندھیرے میں ہاتھ مارنے کے مصادق اپنے آپ سے ٹکراتے رہیں۔ اور یہ قبضہ گیر ہمیشہ نوجوان اور عورتوں میں عام کرتا ہے کیونکہ قوم کی تباہی اور ترقی میں ان دو کا کردار ہوتا ہے اور قبضہ گیر قبضہ جماتے ہی ان دو میں نشہ کی لہر دوڑا دیتی ہے تاکہ مظلوم مینٹلی اور جسمانی حوالے سے تباہی کے منزل کو جا گرے۔ان تما م حالات سے کو ئی بے خبر نہیں اگر کو ئی نا واقف ہے تو اپنے گلی محلے کی ہر نکڑ میں ایک ڈیلر سر عام آپ کو بیچتا ہو ا دیکھائی دے گا یا پھر پکنک اور خوشی کے پروگرامز میں،بٹیر،دروچک،چنرز کے شکار کے دوران،گڈانی ،مبارک ولیج،بولان،گوادر،پسنی،جیونی،اورماڑہ،نانی مندر ہنگول،کرڑی،مولہ اورچٹوک البتہ تمام پکنک پوائینٹس میں دس سالہ بچے سے لیکر بوڑھوں تک اسی کے سمندر میں غرکاب غنودگی کی ڈبکیاں مار رہے ہیں ۔

اسی طرح آج بلوچ قوم میں پاکستان اور ایران نے جس طرح اسی کو بلوچ قوم میں نشہ سرائیت کرا دی ہے کہ میں نے خود اپنے بلوچ آزادی پسند تنظیموں کے ممبران اور عہدے داروں کے نشہ کرتے دیکھا ہے اور آج تک کر رہے ہیں اور عام عوام حالانکہ بچے اور عورتیں اس میں مبتلا ہیں ۔ بلوچ اسٹوڈنٹس تو شاید دو فیصد نشہ نہ کرتے ہوں گے مگر ایک بڑی تعداد میں نشہ کر رہے ہیں جو کہ آپ کو پکنک پوائینٹس،تنظیموں کے دیوان جیسا کہ موسیقی،خوش آمدید اور اختتامی پروگرامز اور یونیورسٹی کے ہاسٹلز اور اسٹوڈنٹس فلیٹ پہ بڑی تعداد میں نشے کی حالت میں مبتلا آپ پائیں گے۔حالانکہ تنظیمی آئینی شقیں ،قوانین اور قبضہ گیروں کی پالیسی کو جاننے کے باوجود کیوں ہو رہا ہے اور یہی تنظیمیں اپنے سیاسی بیانات میں بھی یہی نشے کے خلاف بیانات دیتے ہیں۔اگر تنظیمیں اپنے ممبران اور عہدے داروں پر پابندی عائد نہیں کر سکتے تو اسکا مطلب یہی ہو ا کہ افراد کے ہاتھوں تنظیمیں بے بس ہیں یا پھر خود پیو تو مسئلہ نہیں اور دوسرے پیءں تو مسئلہ اور قبضہ گیر کے خلاف صرف سیاسی بیانات کی شکل میں زہر اگلنا؟۔ تمام تنظیمیں اپنے ممبران اور عہدیداروں کو سختی سے خبردار کریں یا پھر انہیں تنظیم سے نکال دیں۔کیونکہ اگر سیاسی ممبر یا عہدے دار نشہ کرے گا تو عوام اسے دیکھے گی۔ عوام تو یہی کہے گی کہ ایک ممبر کی یہ حالت ہے تو باقی ممبران کی کیا حالت ہوگی اور وہ تو بلواسطہ یا بلا واسطہ تنظیم کو ہی ذمدار ٹھرائیں گے۔جس سے سیاسی تنظیموں کا اخلاقی مدد ختم ہو جاتا ہے اور ہو رہا ہے۔ آج اگر تنظیمیں اس تمام قبضہ گیر کی سازش کو ناکام نہ کر پائے تو بلوچ قوم کو شناخت کی جنگ میں سیاسی خود کشی کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔لہذا تمام آزادی پسند تنظیموں کو اس کے خلاف پہلے اپنے اندر پیوریٹی لانا پڑے گا اور اسکے بعد اجتماعی حوالے سے آگاہی اور عملی اقدامات کرنیں پڑیں گے۔تب جا کر ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے ورنہ آزادی کے بعد ایک اور جنگ انہیں کے خلاف کرنا پڑے گا جو ہماری جڑیں کاٹے گا جیسا کہ آج قبضہ گیر ۔

ملا

دنیامیں مذہب کے سوا کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جو روحانیت کا دعوا کرتی ہے اور تمام مذاہب انسانوں کی بھلائی کیلئے نازل ہوئے یا بنائے گئے۔ تاکہ انسانی نسل میں روحانیت اور اسی کی مادی زندگی میں برابری پیدا کرے اور انسان انسان کو عقل و دلیل کی بنیاد پر سمجھے۔دنیا میں عقل و دلیل کبھی ایک جیسا نہیں رہتا کیونکہ دنیا تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے تو حالت کی رحم و کرم سے سوال اُٹھتے اور ان کے جواب دیے جاتے ہیں مگر جواب اسی وقت کیلئے ہوتا ہے( کیونکہ جواب کا مطلب تسکین جو کسی نہ کسی دلیل کی بنیاد پر وقتی ہوتا ہے)۔مگر سوال ہی وہ دلیل ہے جس نے انسان کو روحانیت اور مادی زندگی کے تمام دلیلوں کو باطن سے ظاہر اور ظاہر سے باطن کے دروازے کھولے جو کبھی بھی بند نہیں ہونے والے۔معاشرے میں ہر قسم کے ایمان وعتقاد پر یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔دنیا میں ہر زندہ رہنے والا یقین و عتقاد مجموعہ کا ہوتا ہے۔کیونکہ انسان بغیر یقین و ایمان کے زندہ نہیں رہ سکتا اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی یقین و ایمان سے اپنی فطرت کو سکون پہنچا رہا ہوتا ہے۔اسی طرح معاشرہ بھی یقین و ایمان کا مجموعہ ہوتا ہے اس دنیا میں کو ئی ایسا انسان نہیں جس کا کسی پر یقین و عتقاد نہیں۔لہذا ہمیں بھی اسی یقین و عتقاد کو سیاسی نقطہ نظر سے دیکھنا ہوگا کہ ہماری قوم کی اکثریت کا قومیت پر یقین و ایمان ہے۔ جس میں تمام اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں چاہے وہ کسی قومی سیاسی بلاک سے ہوں ،نام نہاد قومی سیاسی بلاک یا کہ کسی مذہبی سیاسی بلاک سے ہوں مگر سب کا قومیت پر کوئی اعتراض نہیں۔ مگر مسئلہ صرف ایک دوسرے کی تربیت ،رابطے کی بحالی اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے یقین و عتقاد سے ماننے کا تقاضا ہے۔کیونکہ ہماری قوم کی نفسیات کچھ اس طرح سے بن گئی ہے کہ ایک سیاسی نقطے نظر کے لوگ دوسرے سیاسی نقطہ نظر کے لوگوں سے کم میل ملاپ رکھتے ہیں۔لہذا آج وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے ملاوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔اس کیلئے تمام آزادی پسند سیاسی جماعتوں کو مشترکہ پلان بنانا ہوگا کیونکہ ہماری اس موجودہ قومی جنگ میں ملا یا تو باہر رہے یا دشمن یا پھر نیم بلوچ نیم پنجابی مذہب اسلام کا علمدار رہے اور ہیں۔قومی دھارے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستانی طرز ے سیاست بلکہ ملاوں کیلئے نرم رویہ(سیاسی مکالمے،سیاسی لٹریچر) اپنایا جائے تاکہ ہمارے سیاسی تنظیمیں جدید تعلیمی اداروں سے مذہبی اداروں تک قومی تحریک کیلئے تربیتی ماحول بنا سکیں جو مستقبل کے کامیابی کی ضمانت ہے۔جب تک ہم معاشرے کے ہر انسان کو اپنے نظریے کیلئے قربان نہیں کر پائیں گے تب تک ہماری کمزوریاں ہمارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔

خاندان

دنیا میں جہاں بھی قابض نے مظلوم پر قبضہ کیا وہاں وہ کسی حد تک خاندان کے تذلیل کے نا م پر سیاسی اور مسلح دوستوں کو سرنڈر یا پھر سیاسی خود کشی کی نہج تک پہنچایا اورپہنچاتا رہا اور رہے گا ۔کیونکہ خاندان ہر انسان کی کمزوری ہوتی ہے وہ بھی عورتیں ،بوڑھے اور بچے جو کہ خاندان میں قابل عزت اور قابل رحم سمجھے جاتے ہیں لیکن قابض کیلئے یہ نفسیاتی آلے ہیں جنہیں کسی وقت ،کسی حالت میں لاکھڑا کر کے نفسیاتی جنگ کو وسعت دیتا ہے کیونکہ وہ مظلوم کو غیرت اور عزت کا تانا مارتا ہے جس سے غیر سیاسی لوگ اپنے قبلے کو قابض کی طرف پھیر لیتے ہیں۔جس سے معاشرے اور قوم میں دو طرف سول وار قابض پیدا کرتا ہے ایک دوسرے خاندانوں میں مبہم سوالات کے ذریعے جس وہ ایک دوسرے کو قابض سے بد تر دشمن اپنے بھائی کو سمجھ لیتا ہے ۔اور یہ جنگ دو طرفہ قابض کے حق میں ہی جاتا ہے۔مگر آج ہم دیکھیں تو ہماری قوم میں ہر گھر میں شہدا کی بیوائیں ،بہنیں اپنے بھائیوں کے انتظار میں،بھائی اپنے والد، بھائی اپنے بہن سب ایک دوسرے کے بازیاب ہونے کے انتظار میں روزانہ کی بنیاد پر نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں اور پھر قابض کا روزانہ کی بنیاد پھر اپنا سیکسٹوئل فرسٹریشن کیلئے گھروں کو چھاپے کے بہانے اپنے من کی زبردستی تسکین کرتے ہیں جوکہ ہمارے لیئے ایک کرب ناک عمل ہے۔یا پھر شہدا،سیاسی لیڈریا کارکن یا مسلح دوست کے گھر والوں میں عورتوں اور بچوں کو ٹارچر سیلز میں رکھنا ایک دردءِ انتہا سے کم نہیں ۔

اس سے بہتر نہیں کہ ہم اپنے فیملیز کو مسلح جنگ کا حصہ بنا لیں تا کہ فیملیز کا روزانہ کی بنیاد پر کرب ناک عمل سے بہتر ہے کہ پہاڑوں/ شہروں میں دشمن کے خلاف لڑیں ۔اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ہماری تحریک میں مر د اور عورتیں جنگ کا حصہ بن کر کامیاب مستقبل کو عملی شکل دیں۔کیونکہ سیاسی یا مسلح جنگ میں بھائی کے ساتھ بہن کا ہونا لازمی ہے کیونکہ اس سے دوستوں میں نفسیاتی جنگ کی فرسٹریشن کم ہو گا اور اس سے نفسیاتی جنگ میں قابض کو بہت نقصان ہوگا ۔ کیونکہ پاکستان اور ایران کی فوج کی ذہنیت مذہبی اور روایتی (عورت کم تر سمجھا جا تا ہے) ہے۔جب جس سے ہماری خواتین مسلح ونگ کا سامنا ہو گا تو وہ اس حد تک فرسٹریشن کا شکار ہو گا کہ ہمیں عورت مار رہی ہیں۔روایتی حوالے سے اس کو یہ خطرہ ہوگا کہ اگر میں زخمی یا مر گیا تو میں اور میرے دوست کیا جواب دے پائیں گے کہ ہمیں عورتوں نے مار؟ا۔میں اپنے ماں ،بہن اور بیوی،بیٹی کو کیا بتا وں گا کہ ہمارے سامنے بلوچ خواتین سرمچار ہیں جو ہمیں مارتے ہیں؟اپنے دوستوں کے سامنے کیا جواب دے پائیں گے ؟۔وہ اس existential crises کو نہیں بتا پائیں گے جس سے anxiety کا شکار ہو کر یا تو جنگ چھوڑ جائیں گے یا پھر خود کشی کریں گے یا اپنے جان کا ہر جانہ سرمچاروں کو دیں گے۔دوسرا مذہبی حوالے سے انہیں حوروں کا فکر رہتا ہے جس کیلئے وہ لڑتا ہے۔ مگر جب اسکا سامنے ایک بلوچ عورت سرمچار سے ہوگا تو یقین جانئے وہ اس حد تک گر جائے گا کہ یہاں ہمیں عورتیں ماریں گے تو کیا ہم مجاہد ہوں گے؟کیا ہم جنت میں جائیں گے؟کیا جنت میں عورت کے قتل کرنے کے باوجود حوریں ملیں گی؟کیا ہم غازی کہلائے جائیں گے؟یہ ایسے سوالات ہیں جو ایک سپاہی سے لیکر فوجی آفیسر تک anxiety کا شکار ہو کر دو بدو جنگ میں منہ پھیر جائیں گے یا پھر ایک دوسرے کو نا گفتہ بہ حالت میں عورت کے قتل کرنے کے ڈر سے خودکشیاں کریں گے یا پھر بلوچستان کا رخ نہیں کریں گے۔لہذا ہمارا جنگ دو غیر مہذب دشمنوں سے ہے جس سے غیر مہذب ہو کر لڑنا پڑے گا۔اگر آج بھی ہم عورتوں کو جنگ کا حصہ نہیں سمجھے گے تو ہماری بیوقوفی ہوگی۔اگر ہم اس انتظار میں رہے کہ عورتیں خود تیار ہوکر جنگ کا حصہ بنیں گے تو یہ بھی بیوقوفی ہوگی کیونکہ ہمیں خود پلاننگ کے تحت انہیں جنگ کا حصہ بنانا ہو گا۔

کیونکہ ایک عورت کے بغیر گھر،معاشرہ یا قوم کی ترقی ناممکن ہے اسی طرح بغیر عورت کا اس جنگ کو جیتنا بھی نا ممکن ہو گا۔لہذا ہمیں خود اس حکمت عملی کیلئے ماحول بنا نا پڑے گا نا کہ ماحول خود بنے گی۔دنیا میں کہیں بھی کوئی مظلوم قابض سے جنگ جیتا ،قابض کے گھٹنوں کو توڑا،قابض کو قابض کی ہیچ پن دیکھایا،قابض کو بے عزت موت مارا،قابض کو قابضیت کے اندر مارا اور مظلوم کو مظلومیت کا احساس دلایا،مظلوم کو قابض طاقتور کے سامنے ہاتھ میں پتھر تھما کر ٹھرایا ،مظلوم کو قابض کے ہر جبر کو سہنے اور تابڑ توڑ ظلم کا جواب دینے کا احساس،ہمت اور بہادری کے پیچھے ایک لا زوال عورت،ماں،بہن،بیٹی اور بیوی کی شکل میں ہوا۔

تحریر: جوانسال بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close