ترکی میں فوجی بغاوت ناکام، 194افراد ہلاک

انقرہ (ری پبلکن نیوز) سی این این ترک چینل پر دکھائے گئے مناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کرنے والے تقریباً 50 فوجیوں نے استنبول میں واقع بوسفورس کے پل پر ہتھیار ڈال دیئے۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولو کے مطابق بغاوت میں ملوث 1563فوجیوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ ملک بھر میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 194ہوگئی ہے جبکہ 1154 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ترکی کے قائم مقام چیف آف اسٹاف امیت دندار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 194 ہوگئی ہے جن میں 41 پولیس اہلکار، 47 عام شہری، 2 فوجی افسر اور فوجی بغاوت کرنے والے 104 افراد شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فوجی بغاوت میں ایئرفورس، ملٹری پولیس اور آرمر یونٹس کے زیادہ تر اہلکار شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی میں فوجی بغاوت کا باب ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا ہے۔

فوجی بغاوت ناکام ہونے کے بعد ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ باغیوں کو عبرتناک سزا ملے گی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق انہوں نے کہا کہ پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں، اپنی سیکیورٹی فورسز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ہرسال 15جولائی کو جمہوریت کا جشن منایا جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو قوم نے بہترین جواب دیا، ترکی میں 90 فیصد حالات قابو میں ہیں، کچھ کمانڈرز اب بھی باغی فوج کے قبضے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات کا واقعہ ترکی کی جمہوری تاریخ پر سیاہ دھبہ ہے، اس معاملے پر جلد پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بغاوت میں شامل افراد کی گرفتاریاں اب بھی جاری ہیں، آئین میں سزائے موت کی گنجائش نہیں تاہم ہم بعض قانونی تبدیلیاں کریں گے تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی ملک فتح اللہ گولن کا حامی ہے وہ ترکی کا دوست نہیں ہوسکتا اور اسے ترکی کے ساتھ حالت جنگ میں تصور کیا جائے گا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close