ایک ایسی خاتون جس نے اپنی زندگی بلوچستان میں تعلیم عام کرنے میں لگا دی لیکن!

کوئٹہ/رپورٹ(ریپبلکن نیوز) بلوچستان میں تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ جو تعلیمی ادارے موجود ہیں یا تو وہاں اساتذہ نہیں ہیں اگر کچھ ہیں تو انہیں حکومت کی جانب سے مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر شگفتہ اقبال ایک پی ایچ ڈی خاتون ہیں جنہوں نے سالماتی حیاتیات یعنی (Molecular Biology) میں پی ایچ ڈی کی ہے اور بلوچستان میں خواتین کی تعلیم کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کے پینتیس سال صرف کر دیئے ہیں۔

انہوں نے بینک بیلینس بنانے کے بجائے تعلیم عام کرنے لیے اپنے دن رات ایک کیئے اور آج ان کے پاس نہ اپنا زاتی گھر ہے اور نہ ہی بینک بیلینس۔ ڈاکٹر شگفتہ اقبال کے ساتھ گزشتہ کئی سالوں سے حکومتی اداروں کی جانب سے نا انصافیاں ہوتی رہی ہیں اور اب تو ان ناانصافیوں کی انتہا ہوگئی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا  کہ ایک ایسی خاتون جس نے اپنی پوری زندگی بلوچستان میں خواتین میں تعلم عام کرنے میں لگا دی، کو ایوارڈ سے نوازا جاتا اور اسکے تمام اخراجات بلوچستان حکومت اپنے زمہ لیتی لیکن اس کے برعکس پولیس نے اپنی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خاتون کی غیر موجودگی میں گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے گھر میں موجود بچوں کو حراسا کیا اور ان کے بیٹے کو گرفتار کرنے کی کوشش کیں۔ اور  گھر کے تمام سامان کو باہر پھینک دیا۔

ڈاکٹر شگفتہ نے کہا ہے کہ انہیں کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے اگر یہ ان کی زندگی بھر کی محنت اور جدوجہد کا صلا ہے تو اس
سوسائٹی کا بہت شکریہ!

بلوچستان بھر میں ریاستی اداروں کی یہی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح حسابی چند تعلیمی اداروں کو تباہی کی طرف لے جاتے ہوئے بلوچستان میں آباد لوگوں کو تعلیم جیسے نعمت سے محروم رکھا جاسکے تاکہ وہ اچھے اور بُرے میں تمیز نہ کر سکیں۔

مزید رپورٹس:

صغیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد میرے گھر والے شدید پریشانی میں مبتلہ ہیں۔ حمیدہ بلوچ

نیشنل پارٹی کی بلوچ کش پالیسیاں ناکافی، ریاستی اداروں کا نئی پارٹی بنانے کا فیصلہ

بلوچستان بھر میں تعلیمی اداروں کی صورتِ حال انتہائی حدتک خراب ہے، یہاں تک کہ حکومت نے خود ہزاروں گوسٹ اسکولوں کا خود اعتراف بھی کیا ہے، یعنی بلوچستان میں ایسے اسکولوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو وجود نہیں رکھتے لیکن وہاں سے اساتذہ کو تنخوائیں ہر ماہ جاتی ہیں، جبکہ ڈاکٹر شگتفا جیسی اساتذا جو اپنی زندگیوں کو علم کے فروغ میں لگا چکی ہو کو حکومتی اداروں کی جانب سے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔

جبکہ گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن میں بلوچستان میں سینکڑوں تعلیمی اداروں کو فوجی چھاونیوں میں بدل دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close