17 مارچ 2005 آه و فغاں کی داستان

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز)انسان اپنے رویے میں جب حیوانیت کی سرور میں مست ہوجاتا ہے تو اس کے لئے انسانی جان بے معنی ہو جاتی ہے اس کے سامنے انسانی روایات اور جانوں کی کوئی قیمت نهیں ہوتی۔ بلوچستان میں ظلم و جبر کی داستان ہر روز نئے سورج کے نکلتے ہی ایک نئے غم کا قصه ساتھ لے آتی ہے جس میں ہر دن ایک نئے باب کا اضافه ہوجاتا ہے۔

نئی بات نهیں بس وہی جو پهلے تھا شاید میرے دیس کے باشندے موت کے ساتھ جینے کا ہنر جانتے ہیں۔ بلوچستاں کے وسیع رقبے میں پھیلے سرزمین میں ظلم آتش و سوز کی داستان ہمارے چاروں طرف پھیلا دکھائی دیتا ہے جهاں ایسا گھر نهیں جس سے ایک نوجوان شهید یا غائب نه ہوا ہو، جهاں ایسی انسانی بستی اور شهر نہیں جهاں پاکستانی فوج نے اپنے ظلمت کا سایه نه پھیلایا ہو۔

انہی انسانی بستیوں میں ایک شهر ڈیره بگٹی ہے جس سے نکلنے والی قدرتی گیس سے پاکستان کے صنعتوں اور گھروں کو قدرتی گیس فرائم کی جاتی ہے جس سے ریاست پاکستان کا پیہه چلتاہے۔ اسی شهر سے تعلق رکھنے نے والے بلوچ قومی رہبر شهید اکبر خان جو قومی روایات کی پاسداری قومی وسائل پر حق خود ارادیت کے لئے مسلسل جهدوجهد کرنے والے سہنری اصولوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے قومی لیڈر جب بھی اپنے حقوق کے لئے برسرپیکار رہے تو ریاست کی آنکھوں میں سوئی کیطرح چبتے رہے۔

شهید نواب اکبر خان 12 جولائی 1927 میں نواب محراب خان کے گھر پیدا ہوئے اپنی جوانی سے لے کر پیراں سالی تک بلوچ حقوق کی جهدوجهد سے منسلک رہے،  اپنی شخصیت کردار اور زندگی میں بلوچ اصولوں اور رسم و رواج کا خاص خیال رکھا۔ جس مٹی کے فرزند تھے اسی مٹی کو اپنے خون سے سیراب کیا نه کبھی جھکے نه ہی اپنے قومی اصولوں پر سودا بازی کی۔

جب خطے کی بگھڑتی ہوئی صورتحال کا جائزه لیا گیا تو یه بات عیاں ہوئی که ریاست پاکستان غیرملکی کمپنیوں اور سرمایه کاروں کے زیر اثر ہوتے ہوئے بلوچستان میں تیل و گیس اور ساحل وسائل پر اپنی لوٹ مار کو مزید توسیع اور ممکنه بلوچ مزاحمت کو روکنے کے لئے مزید فوجی چھاونیاں بنانے کا اراده رکھتا ہے تو نواب اکبر خان،  نواب خیر بخش اور شهید غلام محمد نے عملی سیاست میں بلوچ حقوق اور وسائل کا دفاع کیااور قومی سیاست تیز کردی جس میں بلوچ سرزمین پر بسنے والے افراد کے لئے اولین حق اور بلوچ وسائل کو بلوچ کی ملکیت میں دینے کا مطالبه اور قومی سوال پر زور دیا۔

ان دنوں پاکستان میں فوجی جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی جو بلوچوں کو ڈنڈے کی زبان سے سمجھانے کے اصول پر کاربند تھا۔ ریاست پاکستان کے سیاسی اور عسکری لیڈر شپ نے روز اول سے بلوچوں کو پسماندہ رکھنے کی پالیسی اپناتے ہوئے ہر وقت بلوچ لیڈر شپ کی اصولی سیاست کو ملک دشمنی کا لیبل چسپا کر فوجی آپریشن اور جنریلی سیاست کے حیوانی اصول کو اپناتے ہوئے بلوچوں کی سیاسی حقوق کے بدلے انهیں بزور طاقت کچلا گیا یا کمزور کیا گیا۔

شهید نواب اکبر خان کے لئے وہی رویه رکھا گیا جو ریاستی نفسیات کا حصه تھی  17 مارچ 2005 کو ڈیره بگٹی میں بلوچ سرزمین کے باشندوں کے سیاسی مطالبے کے بدلے ڈیره بگٹی میں پاکستانی فوج نے اپنی درندگی کا وه مظاہرہ کیا جس کا اندازہ بلوچوں کو پہلے سے ہی تھا۔ معصوم شهریوں بچوں،  بوڑوں اور عورتوں پر شدید بمباری کی گئی،  مارٹر اور راکٹ باری کی گئی جس کا خاص مقصد شهید نواب اکبر خان کو شہید کرنا تھا لیکن الله تعالیٰ کو اس دن نواب صاحب کو محفوظ رکھنا منظور تھا۔

دشمن اپنی تمام فوجی چالوں میں ناکام رہا لیکن اس کے بدلے 70 بے گناہ معصوم لوگ جن میں زیاده تر بچے اور عورتیں شامل تھیں لقمه اجل بن گئے ۔سینکڈوں گھر مسمار ہوئے اور لوگ اپنی جدی پشتی علاقے سے ہجرت کرنے  پر مجبور ہوئے۔

اس ریاستی درندگی کے خلاف بلوچ سیاسی ورکروں نے پرامن احتجاج کا طویل سلسله شروع کیا جسے روکھنے کے لئے ریاست نے تشدد کا راسته اپنایا اور بلوچ سیاسی اور طلبه سیاسی لیڈران اور ورکروں کوجبری طورپر لاپتہ کرکے ان کی تشدد زده لاشیں پھیکنے کا سلسله شروع کیا جس کی وجه سے سیاسی ورکروں کے لئے سرفیس  پولیٹکس کے دروازے بند ہوگئے۔

وه فوج جو اپنے آپ کو مسلمان مہذب اور انسان دوست سمجھتی ہے نے دنیا کے سامنے کھیل کر اپنی درندگی کا کھیل جی بھر کر کھیلا،  ان کی ازلی نفسیات بلوچوں کے لئے یهی رہی ہے که بلوچوں کو طاقت سے شکست دیا جائے اور انهیں اتنا مارا جائے کہ  وه اپنے اصولوں اور جدوجهد سے دستبردار ہوجائیں۔مظلوم اقوام دنیا میں جهاں کہی ہوں انهیں غیر مہذب انسانی اصولوں سے عاری دشمن سے یہی توقع رکھنی چایئے ۔

دشمن ریاست کے اسی روئے اور اپنی آزاد وطن کی جدوجهد کا فیصله اب بلوچ نے اپنی قوت بازو اور سفارتی محاز پر لڑھنے کا فیصله کرلیا ہے۔ اس مظلوم قوم کی داستان جس کے لئے اس کے سرزمین کے زمینی اور آبی ذخائر کی بدولت دشمن بلوچوں کا خون بہا رہی ہے اب تاریخ کو یه دیکھنا ہے  که اس جدجهد کا سفر کہاں اختتام پزیر ہوتا ہے۔ .

میری نظر میں اب بلوچ کا وه نسل تیارہوچکا ہے جس نے اپنی ماں کی آغوش سے جنگی ماحول دیکھا ہے جس نے شب و روز موت کو قریب سے محسوس کیا ہے۔ اب اس بلوچ فرزند کو وه ہزاروں مائیں ملی ہیں جو اپنے بچوں کو خود جنگی محاذ پر جانے کے لئے تیار کرتی ہیں۔  جنگ اب بلوچ کی زندگی کا ایک حصه بن چکا ہے ۔بلوچ نے بھی جنگ کے ہم گام چلنے کا اصول سمجھ لیا ہے اور اس بات پر بلوچوں کا ایمان ہے که فتح انشا اللہ حق اور سچائی کی ہوگی۔

تحریر: ساربان بلوچ

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button