داستانِ 17 مارچ: تاریخ کا ایک سیاہ باب

کوئٹہ /مضمون (ریپبلکن نیوز) بلوچستان گزشتہ ستر سالوں سے ریاستی جبر اور ظلم کا شکار ہے جہاں بلوچوں کے وسائل کو لوٹا جارہا ہے وہی اس قوم کو نسل کشی کا بھی سامنا ہے۔

بلوچستان میں پاکستانی فوج بلوچ وسائل پر اپنے قبضے کو مضبوط کرنے کیلئے ہر طرح کوشش کرتا رہا ہے اس دوران ہزاروں بلوچ شہید اور جبری طور پر لاپتہ کردیئے گئے جن میں طالب علم، وکلا، اساتذہ، سیاسی و سماجی کارکنان سمیت ہر مقطب فکر کے لوگ شامل ہیں۔

اس سرزمین پر بلوچ کارکنان سے لیکر رہنما بے دردی سے شہید کیئے گئے بڑے بڑے واقعات میں ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت، شہید نوابزادہ بالاچ مری، شہید مرید بگٹی، شہید غلام محمد، شہید شیر محمد، شہید شاہ محمد، شہید ثنا سنگت، شہید جلیل ریکی جیسے قد آور رہنما شہید کردیئے گئے۔ مگر سانحہ ڈیرہ بگٹی بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا واقع ہے۔

سانحہ ڈیرہ بگٹی پر جانے سے پہلے اس کی وجہ کے بارے میں آگاہی ضروری ہے سال 2000 میں نواب اکبر خان بگٹی نے سوئی میں قائم پی پی ایل سے مقامی افراد جو کہ کمپنی میں کام کررہے تھے مگر راضی طور پر۔ ان لوگوں کی تعداد 101 تھی انہوں نے سوئی گیس فیلڈ کے گیٹ نمبر ایک پر دو سال پرامن علامتی بھوک ہڑتال کیا مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی پھر گزرتے وقت کے ساتھ گیس پائپ لائنوں پر فائرنگ کر کے انہیں سراخ کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ایسے واقعات مسلسل کچھ عرصے تک جاری رہے مگر ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی جو کسی بھی طور پر بگٹیوں کے جائز حقوق دینے کو تیار نہیں تھے۔

پھر 2004 میں گیس پائپ لائنوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کا سلسلہ شروع ہوا متعدد واقعات کے بعد جنرل مشرف نے ڈیرہ بگٹی میں فوج بھیج دی اور سوئی میں چھاؤنی کے قیام کا اعلان کردیا اور ڈیرہ بگٹی شہر کے چاروں اطراف مورچے قائم کیئے گئے بگٹی قبائل نے پاکستانی فوج کے ہر مورچے کے ساتھ سنگر بنا ڈالی تب فوج کو بگٹی قبیلہ کے طاقت کا اندازہ ہوا اور ایک مزاکراتی کمیٹی قائم کر کے یہ طے ہوا کہ پہلے مورچے ختم کیئے جائے گے پھر مزید آگے بات چیت ہوگی۔

پھر جنوری 2005 میں لیڈی ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ زیادتی کا واقع پیش آیا سب بگٹی قبیلے کے لوگوں نے اپنے روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوجی قلعوں اور امارات پر راکٹ برسائے اور یہ حملے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک جاری رہے اور اس دوران سوئی کی پوری آبادی نے شہر چھوڑ کر قریبی علاقوں میں پناہ لی۔

جبکہ ڈیرہ بگٹی کی آبادی اب بھی شہر میں موجود تھی مگر سترہ مارچ کو ڈیرہ بگٹی شہر کا پانی پاکستانی فوج نے مکمل طور پر بند کردیا۔ جہاں پانی بند کیا گیا تھا اس جگہ پر بگٹی قبیلہ کے مسلح افراد پہنچ گئے اور شہر کو پانی فراہم کرنے کیئے فوج کو پانی کھولنے کو کہا مگر چند فوجی اہلکاروں جن میں کرنل فرقان نامی ایک شیطان بھی شامل تھا اس نے حکم دیا کہ ان کے بندوقیں چھین لیں۔ مگر یہ بات سن کر ہی طوطا بگٹی نے پہلے فائر کھول دیا اور متعدد فوجی مار گرائے اور فوج کے جوابی حملے میں طوطا بگٹی بھی اپنے تین ساتھیوں سمیت شہید ہوگے۔

فوج نے اس کاروائی کے جواب میں ڈیرہ بگٹی شہر اور خاص طور پر نواب اکبر خان بگٹی کے قلعے پر بلااشتعال بمباری کی اور بمباری کا سلسلہ فجر سے لیکر عشاء تک جاری رہا اس بمباری میں ستر سے زائد لوگ شہید اور دو سو کے قریب زخمی ہوگئے۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے جو کہ نواب قلعے کے اندر قائم مندر میں پناہ لیئے ہوئے تھے۔ مندر مکمل طور پر منہدم ہوگیا اور تمام لوگ اپنے جانیں گوا بھیٹے جبکہ زخمیوں میں نواب اکبر خان بگٹی کے خاندان کے خواتین اور بچے اور ان کا سیکرٹری بھی شامل تھا۔

یہ واقعہ بلوچستان کی تاریخ میں بڑے واقعات میں سے ایک ہے آج تک فوجی بربریت میں اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں بلوچستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔مگر پھر بھی بلوچ آپسی اختلافات کی وجہ سے اتنے بڑے سانحے کو بھول چکے ہیں۔

تحریر: زرکانی بلوچ

نوٹ: درج بالا خیالات مصنف کی اپنی رائے ہے ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button