17 مارچ بلوچ تاریخ کا ایک سیاہ دن(اداریہ)

کوئٹہ/اداریہ (ریپبلکن نیوز) آج شہدائے ڈیرہ بگٹی کی تیرویں برسی منائی جارہی ہے، یاد رہے کہ 17 مارچ 2005 کو پاکستانی مسلح افواج نے ڈیرہ بگٹی شہر پر جیٹ طیاروں اور بھاری توپ خانوں سے  شہر کو نشانہ بنایا اور یہ بمباری کا سلسلہ دو دن تک جاری رہا جس میں ستر سے زائد لوگ شہید ہوئے، جن میں بیشتر خواتین اور بچے شامل تھے۔ جبکہ شہید ہونے والوں میں بیشتر کا تعلق ہندوں برادری سے تھا۔اور ان حملوں میں زخموں ہونے والوں کی تعداد دو سو ائد تھی۔ جن میں ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کے خاندان کے لوگ بھی شامل تھے۔

ہندوں برادری ڈیرہ بگٹی میں کئی سالوں سے آباد ہیں، بڑی تعداد میں وہ سوئی میں رہائش پزیر ہیں لیکن ان کی اکثریت ڈیرہ بگٹی شہر میں نواب قعلہ میں آباد ہیں۔ نواب قعلہ پر جب بمباری ہوئی تو ہندوں برادری اس کی زد میں آئی جس کی وجہ سے ان کا شدید جانی و مالی نقصان ہوا ۔

نواب اکبرخان بگٹی نے بلوچستان بھر میں فوجی چھاونیوں کے خلاف 2003اور2004 میں سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں بڑے شاندار جلسے کر کے ان کی تعمیر کے خلاف بھر پور احتجاج کا آغاز کیا ان جلسوں میں اختر مینگل، ڈاکٹر حئی، شہید بالاچ مری سمیت بلوچستان کے تمام رہنماوں نے شرکت کی تھیں ۔ نواب اکبر خان بگٹی کے ایسے اقدامات ریاست کو سوئی کی طرح چھبنے لگے جس کے بعد فوج نے ڈیرہ بگٹی شہر کے ارد گرد مورچے بنانے شروع کردئیے جس کے جواب میں بگٹی قبائل نے بھی ہر فوجی مورچے کے قریب اپنا مورچہ تعمیر کر لیا۔یاد رہے کہ اسسے قبل ڈاکٹر شازیہ کا واقعہ بھی ہوچکا تھا جس کے بعد بگٹی قبیلے میں فوج کے خلاف نفرت میں بھی شدید اضافہ ہوچکا تھا ۔

یہ بھی پڑحیں:

پختون نوجوان آگے بڑھتے ہوئے اپنی قوم کو پنجابی سامراج کے چنگل سے آزاد کریں

خطے اور عالمی بدلتی صورتحال و بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں مثبت اثرات 

لیاری آپریشن، گینگ وار اور بلوچ نسل کشی

17 مارچ 2005 کی صبح فوج نے ڈیرہ بگٹی شہر کا پانی بند کردیا اور سنگسیلہ کے مقام پر پانی فراہم کرنے والے پمپ پر قبضہ کرلیا، بگٹی قبائل کےمسلح افراد وہاں پہنچ گئے جن کی قیادت طوطا بگٹی کررہے تھے جنہوں نے پانی کھولنے کی کوشش کی تو ایف سی کے ایک کرنل نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا جس کے رد عمل میں دونوں طرف فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ اسی  مقام پر طوطا بگٹی اپنے متعدد ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے جبکہ دوسری طرف فوجی کرنل سمیت کئی اہلکار مارے گئے جس کے رد عمل میں فوج نے ڈیرہ بگٹی شہر کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ ڈیرہ بگٹی میں یہ بمباری بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور خون ریز بمباری تھا جس میں پورے شہر کو توپ خانے اور جیٹ طیاروں سے نشانہ بنایا گیا جس میں ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ بمباری کے دوران نواب اکبر خان بگٹی شہر میں موجود تھے کئی گولے ان کے آس پاس گرے جس کے نتیجے میں ان کے ساتھ ہمیشہ رہنے والا رفیق بگٹی شدید زخمی ہوا ۔

اس بمباری کے بعد ایک پارلیمانی وفد نے شہر کا دورہ کیا جس میں مشاہد حسین سعید، شیری رحمان ، ظفر اقبال جھگڑا، جودھری شجاعت سمیت کئی لوگ شامل تھے لیکن ان کا کوئی رپورٹ آج تک سامنے نہیں آسکا ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے بلوچستان آج بھی جل رہا ہے اور بات کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب لوگ پاکستان سے آزادی کے سوا کسی دوسری بات پر راضی نہیں ہیں۔ نواب اکبر خان بگٹی جیسے قد آور سشخصیت جو وفاق اور بلوچستان میں اہم عہدوں پر فائز رہے مگر آخر میں انہیں بندوق اٹھا کر پہاڑوں کا رخ کرنا پڑا کیونکہ ان کی نظروں میں اب واحد وہی ایک راستہ رہہ گیا تھا جس کے زریعے بلوچستان کے حقوق حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close