لیاری آپریشن، گینگ وار اور بلوچ نسل کشی(ریپبلکن خصوصی رپورٹ)

کراچی/رپورٹ ( ریپبلکن نیوز) لیاری میں ایک دفعہ پھر الیکشن سے قبل پاور گیم شروع چکا ہے جہاں سرکاری سرپرستی میں چلنے والی گینگ وار کو پھر سے زندہ کیا جا رہا ہے۔ جس میں سیاسی پارٹیاں ، لیاری میں مقیم گینگ وار کے کارندوں، رینجرز اور پولیس کے درمیان ایک گٹھ جوڑ کے امکانات بھی دکھائی دے رہے ہیں جس پر آر این این نے لیاری میں موجود لوگوں اور بلوچ سوشل میڈیا ایکویسٹ کی پوسٹوں اور اپنے زرائع سے حاصل کردہ معلومات پر مشتمل ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔

گزشتہ دنوں لیاری میں ہونے والا آپریشن کافی گھمبیر اور پریشان کن تھا کیونکہ آپریشن سے قبل غفار ذگری اور رینجرز کے درمیان ایک جھڑپ میں غفار ذگری اور اس کے کارندوں نے رینجرز پر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک اور تین سے زائد کو زخمی کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

غفار زگری جو کہ لیاری گینگ وار کا ایک اہم سرغنہ ہے جسے دو ماہ قبل رینجرز کے آشرباد سے دوبارہ لیاری کا کنٹرول دیا گیا تھا ۔ اس دوران رینجرز عام لوگوں پر آپریشن کرنے اور انہیں تنگ کرنے کا بازار گرم رکھے ہوئے تھیں مگر غفار اور اس کے قریبی ساتھیوں پر کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ علاقائی ذرائع سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ گزشتہ دنوں جب رینجرز کی گشتی پارٹی اور غفار ذگری گینگ کا آمنا سامنا ہوا تو گینگ کے کارندوں نے ان (رینجرز) پر ھینڈ گرینیڈ سے حملہ کیا اور ان پر شدید فائرنگ بھی کی۔ حملے سے ایک رینجرز اہلکار ہلاک ہوا تھا جو کسی بڑے رینجرز آفیسر کا قریبی رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔ غفار اور اسکے ساتھیوں کی مفرور ہونے کے بعد رینجرز اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کرکے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اس دوران ذہنی طور پر معذور چاکر بلوچ رینجرز کے محاصرے سے بے خبر علی محمد محلہ کی سڑکوں پر گھوم رہا تھا جسے رینجرز نے پہلے گرفتار کیا اور بعد میں آنکھ میں گولی مارکر شہید کردیا اور بعد ازاں گینگ وار اور بی ایل اے کا کارندہ ہونے کا بے بنیاد الزام لگایا۔

مزید رپورٹس:

بلوچ ریپبلکن پارٹی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی 37ویں سیشن کے دوران اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا 

بلوچ لیڈرشپ سے رابطوں کا بیجنگ حکومت کے دعوے میں کتنی سچائی ہے! 

سوئی کے مقامی لوگ اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لیے لکڑیاں جلانے پر مجبور 

رینجرز نے اس جعلی آپریشن میں پہلے سے جبری طور پر تحویل میں لئے گئے مہر علی ولد میار علی، عامر علی ولد علی بخش ، عمیر علی ولد علی بخش اور عاسم کو جاں بحق کرکے دوران مقابلہ مارے جانے کا جھوٹا بیان داغ دیا جس پر بلوچ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹوں نے ان جھوٹوں کا بھانڈا پھوڑدیا۔ سوشل میڈیا پر تمام مقتولین کے بابت مکمل معلومات کی فراہمی اور اہلخانہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی ثبوتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ چاکر علی ذہنی طور پر مفلوج، جبکہ مہر علی، عامر علی اور عمیر علی پہلے سے ہی رینجرز کی تحویل میں تھے ۔ جبکہ عاصم کے بابت ابتک کوئی مصدقہ خبر آر این این کو موصول نہیں ہوئی۔

ان تمام حالات و اقعات اور کراچی کے بلوچوں کو اس سخت ترین حالات میں بلوچستان کے آزادی پسند سیاسی تنظیموں پارٹیوں اور رہنماؤں کی جانب سے نظر انداز کرنے پر آر این این سے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک آزادی پسند بلوچ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حالات اور واقعات کی نوعیت ہم سب کے سامنے ہیں جس طرح سے کراچی میں بلوچوں کیلئےمشکلات پیدا کی گئی ہیں اور یہ جو آئے روز خاص طور پر لیاری میں آپریشن ہورہے ہیں جس میں رینجر کی جانب سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گینگ وار سے زیادہ عام بلوچوں اور تعلیم یافتہ اور ہنر مند پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی وجہ لیاری اور کراچی کے بلوچوں کی بلوچستان سے ہمدردی اور ہرممکن سطح پر آواز اٹھانے کا ردعمل ہے۔ کیونکہ ریاست اور اس کے کارندے اچھی طرح جانتے ہیں اگر لیاری میں امن ہوگا پڑھے لکھے اور ہنر مند لوگ آزادی سے اپنا کام جاری رکھیں گے تو وہ ریاست کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمیں بلوچستان کے عام بلوچ ہی نہیں بلکہ سیاسی رہنماء اور کارکنان بھی ہمدردیوں کی شکل میں طعنہ دیتے ہیں۔ ہم اب بھی امید کرتے ہیں بلوچ پارٹیاں اور لیڈر اس سازش کو سمجھنے اور بہتر پالیسیاں بنا کر کراچی کے بلوچوں کو ایک متحد پلیٹ فارم میسر کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker