پختون نوجوان آگے بڑھتے ہوئے اپنی قوم کو پنجابی سامراج کے چنگل سے آزاد کریں

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) دنیا میں ہر قوم کی پہچان اُس کی ثقافت، زبان اور تاریخ سے ہوتی ہے اور یہ تینوں اُس وقت تک برقرار رہتے ہیں جب تک اُس قوم کی آزاد حیثیت رہتی ہے اور یہ اُس وقت ڈگمگانے لگتے ہیں جب کوئی سامراجی ریاست اس قوم کی آزاد حیثیت کو سلب کر کے اُس پر قابض ہوجاتی ہے۔ اور سب سے پہلے وہ غلام قوم کی بنیادی شناخت کو مٹانے کی کوششیں شروع کردیتے ہیں۔ اُن کی جگہ اپنی ثقافت اور زبان کو مسلط کرتے ہوئے اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی بھی جواز پیدا کر کے اپنے سامراجی عزائم کو درام بخشنے کی کوششٰں کرتے ہیں۔ جس طرح پنجابی ریاست اسلام کو ہتیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی قبضہ گیریت کو تقویت دینے کی کوشش کرتی ہے۔

ٹھیک اسی طرح قابض پنجابی ریاست نہ صرف پختون قوم کو مذہب کے نام پر استعمال کرتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرتی رہی ہے بلکہ مذہب کے مقدس نام کو استعمال کرتے ہوئے اپنے پختونوں کے سرزمین پر قابض رہتے ہوئے انکی نسل کشی میں مصروفِ عمل ہے۔

جب بیسویں صدی میں سویت یونین افغانستان مین زور پکڑ رہی تھی تو اُس کی نگاہیں بلوچستان پر ٹِکی تھی تب امریکہ کے ساتھ پنجابی بھی اسے اپنے لیے خطرہ محسوس کرنے لگے اور اُنہوں نے اسلام کو کارڈ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سوشلزم اور کمیونزم کو اسلام کے خلاف قرار دے کر پختون مذہبی جنونیوں کو سویت یونین کے خلاف مسلح کر کے جنگ کے لیے آگے کر دیا۔ اور آج بھی پنجابی شیطان ان سادہ لہوں لوگوں کو ایک طرف افغانستان مین اپنی پراکسی بنا کر اُن سے خودکش حملے کرواتے ہیں اور دوسری جانب پختونستان مین پختون عوام پر آپریشن کر کے اُن کی نسل کُشی کرتے ہوئے ان کے خلاف ہونے والے کاروائیوں کو آپریشن ردالفساد اور دوسرے نام دے کر عام پختونوں کا قتل عام کر کے انہیں طالبان قرار دیتے ہوے مغربی دنیا سے امداد حاصل کرتے ہیں۔

مزید مضامین:

قومی غلامی سے نجات مضبوط سیاسی اداروں کے قیام سے ممکن ہے

انقلابی جماعتوں کی اہمیت و بلوچ قومی انقلابی جماعتیں

بلوچ تعلیم یافتہ طبقہ اور گرم کُتے 

اور تیسری جانب جب بلوچ نوجوان اپنی سرون کی بازی لگا کر اپنی آزادی کے لیے جدوجھد کر رہے ہین تو پنجابی شیطان ایک بار پہر پختونون کو ورگلا کر ان آزادی پسندون کو انڈیا کا اجنٹ اور کافر قرار دے کر ان کے خلاف پختونون کو اپنی فوج مین برتی کر کے اُنہین مروانے کے لیے بلوچستان مین تعینات کر رہا ہے.

چالاک پنجابی حکمران اور عسکری قوتیں ہر طرف پختونوں کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنے مفادات کے لیے ان کا  استعمال کرتے ہیں اور اسی طرح پختونوں کی نسل کشی ہوتی رہی ہے۔ پاکستانی پنجابی ریاست نے پختون قوم کا شناخت عالمی دنیا میں طالبان سے جھوڑ دیا ہے۔ اب یہ زمہ داری پختون قوم کے نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس 71 سالہ  کٹن اور مشکل حالات کا سامنے کرنے کے بعد اب آگے بڑھتے ہوئے اپنے قوم کی نمائندگی کرتے ہوے اسے پنجابی سامراج کے چنگل سے آزاد کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

تحریر.عابد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوزنیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون اور لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close