لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کیمپ کو بند کرنے پر سوشل میڈیا پر بلوچ کارکنان کا شدید رد عمل۔ ریپبلکن رپورٹ

ویب ڈیسک/رپورٹ (ریپبلکن نیوز) لاپتہ افراد کے لواحقین کیلئے پچھلے دس سال سے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری تھا جیسے گزشتہ روز دو مہینے کیلئے ختم کردیا گیا ہے۔ کیمپ کو ختم کرنے کا اعلان  وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماوں نصراللہ بلوچ اور ماما قدیر بلوچ نے بلوچستان کے وزیر علی جام کمال کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا ہے۔ 

اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر متحرک بلوچ کارکنان  کی جانب سےشدید مایوسی کا اظہار کیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے یہ کیمپ اس وقت بند کیا جارہا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا صدر محترمہ ماریا فرنانڈا اسپینوسا پانچ روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہی ہیں۔ 

سماجی رابطے کی سائیٹ پر بی این ایم کے رکن  قاضی داد ریحان نے لکھا ہے کہ ٹائمنگ دیکھیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر پاکستان کا دورہ کرنے والی ہیں، اس دورے کے دوران انہیں کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا اور بلوچستان میں طویل عرصے سے جاری لاپتہ افراد کا احتجاجی کیمپ ہی ختم کردیا گیا ۔

جبکہ سوشل میڈیا پر متحرک ایک اور صارف لطیف بلوچ نے لکھا ہے کہ وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز چند افراد کا نہیں بلکہ قوم کا نمائندہ تنظیم اور لاپتہ افراد کے لواحقین کی امنگوں کا ترجمان ہے لہذا لاپتہ افراد کے لواحقین اس کیمپ اور احتجاج کو جاری رکھیں، پریس کانفرنس فردوں نے کیا ہے تنظیم نے نہیں تمام لاپتہ افراد کے لواحقین اس تنظیم کا حصہ ہے۔

نسیم بلوچ نامی شخص نے  سوال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  ماما حکومتی ڈرامے کا شکار تو نہیں ہوا ؟

اسماعیل بلوچ کہتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے لیے لگائے گیے دس سالہ کیمپ کو بند کرنا غلط ہے اس وقت بند کیا جارہا ہے جب اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے صدر ماریا فرنانڈا پاکستان آرہے ہیں وائس پار بلوچ مسنگ پرسن کیمپ کو دو مہینے کے لیے بند کرنا دانشمندی نہیں ہے کیا ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ حکومت وقت کو یہ بتاتے کہ آپ کو جو کرنا ہے کریں کیمپ قائم ہے اور اُس وقت بند ہوگا جب چالیس ہزار بلوچ بازیاب ہونگے

جبکہ مرید بگٹی نامی ایک صارف نے اپنے رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں احتجاجی کیمپ کو بند کرنے کے حوالے سے انٹرنیشنل وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے موقف سے متفق ہو۔

جانثار بلوچ نے فیس بک پر اپنے وال پر قدیر بلوچ سے مخاطب ہوکر لکھا ہے کہ ماما قدیر بلوچ آپ نے جام کمال جیسے بے ضمیرانسان پر بھروسہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔  جبکہ سلطان بلوچ نے بی این ایم سے سوال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بی این ایم اور بی ایس او آزاد ماما قدیر کے ہر معملے پر حمایت کرتے رہے ہیں۔ اب مزکورہ تنظیمیں اپنے موقف کو قوم کے سامنے واضع کریں وگرنہ بلوچ قوم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ یہ دونوں قدیر کے اس عمل میں شریک ہیں۔

بیورغ رند لکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے صدر ماریہ کا پاکستان کے دورے کے موقع پر لاپتہ افراد کی کیمپ کو ختم کرنے کا اعلان لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ سنگین مزاق کے مترادف ہیں۔

واضع رہے کہ بلوچ لاپتہ افراد کا تعلق بلوچ آزادی پسند سیاسی پارٹیوں اور طلبہ تنظیموں سے ہیں جن کا کیمپ کو بند کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button