افغانستان سے امریکی فورسز کا انخلا، بلوچوں کے لیے بند ہوتی رائیں اور پاکستان کی کامیابی

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ جبری الحاق سے اب تک بلوچوں کی یہ پانچویں تحریک ہے، گزشتہ تحریکوں کے نسبت موجودہ تحریک پہلے سے زیادہ مضبط اور منظم ہے۔ اس تحریک کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ تحریکیں قومی حقوق کے نعروں کے گرد گوما کرتی تھیں جبکہ 2002 میں جڑ پکھڑنے والی اس تحریک کا موقف بلوچستان کی آزادی ہے۔ لیکن خطے کے حالات، عالمی سیاست میں بدلاوں اور عالمی طاقتوں کے مفادات میں تبدیلی نے بلوچوں کو ایک بار پھر امتحان میں ڈال دیاہے۔

موجودہ تحریک کو دو دہائی کا عرصہ مکمل ہونے میں صرف تین سال باقی ہیں، اس تحریک کا شمار بلوچوں کی طویل ترین تحریکوں میں ہوتاہے۔ ہر تحریک کی طرح اس تحریک نے بھی نشیب و فراز دیکھیں ہیں ریاست نے اپنی طاقت کے نشے میں ہر طرح کے مظالم ڈھائے، لوگوں کو اغوا کیا، شہید کیا، ملٹری آپریشن کے ذریعے بلوچوں کی پُرامن آواز کو دبایا، لوگوں کو پیسوں سے خریدا لیکن ان تمام تر حربوں کے باوجود تحریک کو کچلنے میں ناکامیاب رہا۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی تحریک ختم نہیں ہوتی بس وقت و حالات کے مطابق ان میں اُتار چڑھاو آتا ہے۔

بلوچ قوم موجودہ تحریک کو اپنی قومی بقا کی تحفظ کا تحریک سمجھتے ہیں، اس کی ناکامی کے اثرات گزشتہ تحریکوں کے ناکامی سے گئی گناہ زیادہ بیانک ہونگے۔ کیونکہ اب چین سمیت بہت سے ممالک بلوچسان میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے غیر قوموں کی آباد کاری میں اضافہ ہوگا اور بلوچ اپنی سرزمین میں اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔ بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے ریاست پاکستان کئی سالوں سے متحرک ہے، کئی بار یہ تاثر دینے کی بھی کوشش بھی کی گئی ہے کہ بلوچستان پختون بلوچ صوبہ ہے۔ چین، سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی سرمایہ کاری بلوچستان میں آباد کاری کا سبب بنی گی جس سے پاکستان بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔

 بلوچ گزشتہ 17 سالوں سے اپنی شناخت، قومی بقا اور آزادی کے لیے اپنے سے کئی گناہ زیادہ طاقتور ملک سے حالتِ جنگ میں ہیں، اس دوران بلوچوں کو ہمسایہ ممالک سے بہت ہی محدود مدد و حمایت حاصل رہی ہے۔ باوجود اسکے بلوچوں نے اپنی سروں کی پرواہ کئے بغیر تحریک کو اپنی لہو سے توانا رکھا۔ لیکن  خطے کے موجودہ حالات نے بلوچ قومی تحریک کو شدید مشکلات میں دھکیل دیا ہے، بلوچوں کی لیے نئی مشکلات نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔ وسائل کی کمی اور بین القوامی طاقتوں کی حمایت کا مسئلہ اپنی جگہ قائم تھا کہ اب امریکہ نے افغان جنگ سے ہاتھ کینھنچے کا اعلان کردیا ہے جس کےاثرات سے بلوچ قوم پرست خود کا کس طرح محفوظ رکھیں گے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

خطے کی بدلتی صورتِ حال نے بلوچوں کو ایک بار پھر بڑی امتحان میں ڈال دیا ہے ، اب بلوچ قوم پرست قیادت پر انحصار کرتا ہے کہ وہ ان مشکل اور کھٹن حالات میں تحریک کو جاری رکھنے کے لیےکیا پالیسی ترتیب دیتے ہیں۔

 

مسئلہ صرف افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا کا ہوتا تو شاید بلوچ قومی تحریک پر اسکے منفی اثرات نا پڑتھے، لیکن امریکی فورسز کے انخلا کے بعد وہاں طالبان حکومت بلوچوں کے لیے ضرور مشکلات پیدا کرنے کا باعث بنے گی۔ پاکستان طالبان کا ہمیشہ حمایتی رہا ہے، اسلیے نہیں کہ پاکستان اسلام کا ٹھیکیدار ہے بلکہ اس لیے کہ پاکستان نے اس جنگ کے نام پر امریکہ کو خوب چونا لگایا اور کربوں ڈالر وصول کیئے۔ گزشتہ ادوار میں پاکستان، امریکہ اور طالبان کے درمیان مزاکرات کے خلاف رہا ہے لیکن اب شاید وقت و حالات بدل رہے ہیں اور پاکستان خود طالبان پر زور دے رہا ہے کہ وہ امریکہ اور افغان حکومت سے مزاکرات کے لیے راضی ہوجائیں۔

خالد بلوچ کے مزید مضامین:

آزادی حاصل کرنے والے چار خوش نصیب و بدنصیب ممالک اور بلوچستان

اتحاد کس چڑیا کا نام ہے!

فرد نہیں۔۔۔! ادارےغلامی سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں

سترا سالوں بعد پہلی مرتبہ طالبان اس قدر مضبوط ہے کہ افغانستان کے 70 فیصد علاقوں پر اپنا کنٹرول حاصل کرچکی ہے۔جسکا اعتراف افغانستان کا صدر بھی کرچکا ہےکہ طالبان اب پہلے سے کئی گناہ زیادہ مضبوط ہے جن کا ملک کے بیشتر حصوں پر کنٹرول ہے۔ بلوچوں کے لیے ایک اور اہم مسئلہ افغان حکومت کا رویہ بھی ہے، افغان حکومت طالبان کے ساتھ مزاکرات کے لیے پاکستان سے مدد کا طلب گار ہے۔ پاکستان بھی اس بار مدد کے لیے راضی دکھائے دے رہا ہے، شاید اسکی ایک وجہ پاک امریکہ تعلقات میں پیدا ہونے والے تناو کو کم کرنا ہے۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحال کے لیے پاکستان کو کچھ ایسا کرنا ہوگا جس سے امریکی خدشات دور ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے حافظ محب اللہ جو طالبان کے دورِ حکومت میں مذہبی امور کے وزیر تھے  کو پاکستان کے شہر پشاور سے تین دن قبل حراست میں لے لیا ہے۔ حافظ محب اللہ کی گرفتاری طالبان کو ایک پیغا دینا ہے کہ وہ کابل حکومت سے مزاکرات کے لیے رضا مندی کا اظہار کریں، وگرنہ پاکستان میں مزید طالبان رہنماوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔ طالبان بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ پاکستان ان پر کابل حکومت سے مزاکرات کے لیے دباو بڑا رہا ہے۔

افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کچھ لو کچھ دو کی پالیسی پر عمل کریگا، اسلام آباد طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ مزاکرات پر آمادہ کریگا اور افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے لیے لیے طالبان پر اپنا اثر رسوخ استعمال کریگا جس کے بدلے میں افغانستان سے کچھ مطالبات منوانے کی کوشش کی جائے گی جن میں سب سے اہم مسئلہ بلوچ قوم پرستوں کا ہوگا جو افغانستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ جہاں جنگ سے متاثرہ علاقوں کے بہت سے بلوچوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ اگر پاکستان طالبان کو راضی کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے بعد جنگ بندی پر طالبان سے معاہدہ ہوجاتا ہے تب بلوچوں کے لیے افغانستان کی سرزمین غیر محفوظ  اور تنگ کردی جائے گی۔ 

چین بھی اپنے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو تحفظ فرائم کرنے کے لیے افغانستان کیساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے میں کوشاں ہے اور افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان اور چین کا کابل حکومت سے قربت بلوچ قومپرستوں کے لیے نیک شگون نہیں۔ خطے کی بدلتی صورتِ حال نے بلوچوں کو ایک بار پھر بڑی امتحان میں ڈال دیا ہے ، اب بلوچ قوم پرست قیادت پر انحصار کرتا ہے کہ وہ ان مشکل اور کھٹن حالات میں تحریک کو جاری رکھنے رکھنے کے لیے کیا پالیسی ترتیب دیتے ہیں۔

تحریر: خالد بلوچ

ٹویٹر ہینڈلر:  @Khalid_Lal

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button