کردستان کا علاحدگی کے بجائے متبادل آپشنز پرغور

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) عراق کے کرد اکثریتی صوبہ کردستان کی پارلیمان نے عالمی اور علاقائی دباؤ کے بعد خود مختاری کے اعلان سے متعلق اجلاس آئندہ جمعہ تک ملتوی کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی کردستان کی پارلیمنٹ کا اجلاس موخر کیے جانے کی وجوہات میں عالمی اور علاقائی دباؤ بھی ہوسکتا ہے۔ اس دوران کرد حکومت عالمی طاقتوں کی طرف سے علاحدگی کے بجائے اس کے متبادل دوسری تجاویز پر غور کرے گی۔

کردستان کے وزیر اعلیٰ مسعود بارزانی نے کرکوک گورنری کے ایک عہدیدار کو بغداد حکومت کی طرف سے ہٹائے جانے کے رد دعمل میں کہا ہے کہ کرکوک عہدیدار کی سبکدوشی نے عراق کے ساتھ شراکت کے خاتمے کے تابوت میں آکری کیل ٹھونک دی ہے۔

ادھر کرد ٹیلی ویژن چینل ’روداؤ‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جمعرات کو دھوک شہر میں وزیراعلیٰ مسعود بارزانی سے امریکی،برطانوی اور یورپی یونین کے مندوبین نے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔

ادھر داعش کےخلاف سرگرم عالمی اتحاد میں امریکی مندوب بریٹ مک گورک نے امید ظاہر کی ہے کہ کردستان حکومت کردستان کی خود مختاری کے اعلان کو کچھ عرصہ کے لیے موخر کردے گی۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں مسٹر میک گورک کا کہنا تھا کہ 25 ستمبر کو آزاد کردستان کے لیے ریفرنڈم علاقائی خطرات سے بھرپور ایک قدم ہوگا اور موجودہ حالات میں عالمی برادری اس کی حمایت نہیں کرے گی۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close