اتحاد کس چڑیا کا نام ہے!(تحریر: خالد بلوچ)

وقت و حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) اتحاد یعنی ایک دوسرے کو برداشت کرتے، صبر کا دامن تھامے ، جھگڑوں اور ناراضگیوں سے بچتے  ہوئے ایک دوسرے کیساتھ مقصد کے حصول کے لیے مشترکہ طورپر جدوجہد کرنا ہے۔تاریخ عدل ہے کہ قوموں کی خوشحالی ، ترقی اور سربلندی میں اتحاد کلیدی کردار ادا کرتا  رہا ہے۔  اتحادو اتفاق قوموں کو وہ طاقت فرائم کرتی ہے جس کی بدولت وہ کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتی ہیں۔

 تصور کیجیئے کہ دنیا بھر میں آباد اربوں لوگ جو مختلف نظریات رکھتے ہیں، اور اپنے مختلف نظریات کی وجہ سے ایک دوسرے سے مسلسل  تنازعات کا شکار رہتے ہیں، ایسے میں بغیر تعاون اور اتحاد کے یہ دنیا ایک "وار زون”  میں بدل جائے گی۔ اتحاد ہمیں نہ صرف ایک دوسرے سے جھوڑکررکھتی ہے بلکہ مختلف صلاحیتوں سے لیس ہمیں ہزاروں یا لاکوں کی تعداد میں افرادی قوت فرائم کرسکتی ہے۔ اتحاد کے لیے ایک زبان، مذہب، قوم یا رنگ و نسل کا ہونا ضروری نہیں، لیکن اگر ایسا ہے تو اتحاد کی راہ ہموار کرنا زیادہ آسان ہوجاتاہے اور خاص طور پر جب مقصد ایک ہو۔ یہ ایک معاہدہ ہے جسے ایک سے زیادہ فریق آپسی مشاورت سے طے کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا رہتے ہیں۔

اتحاد ایک معاہدہ ہے جسے ایک سے زیادہ فریق آپسی مشاورت سے طے کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا رہتے ہیں۔

 

بلوچ قومی تحریک میں شامل لاکھوں لوگ جو مساوات پر مبنی ایک نیا نظام اور اپنی جداگانہ ریاست کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن بدقسمتی سے اب تک وہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکامی کا شکار ہیں جو انہیں کب کا حاصل کرلینی چاہیے تھیں، جس کی وجہ آپسی جھگڑا، اختلاف برائے اختلاف، انتشار اور عدم برداشت ہے۔

بلوچوں کی جنگِ آزادی ایک دہائی سے بھی زاہد عرصے سے جاری ہے، جہاں فرزندانِ بلوچ سرزمین نے ہزاروں کی تعداد میں خود کو قربان کر کے اس تحریک کو توانائی بخشی ہے۔ دشمن ملک اپنی تمام تر انسانیت سوز مظالم کے باوجود بھی اس تحریک کو کچلنے میں ناکامی کا شکار ہے، لیکن بلو چ فرزندوں کی طویل قربانیوں کے باوجود ہم نے وہ کامیابیاں حاصل نہیں کیں جو ہمیں تحریک کے بنیادی مراحل میں حاصل کرلینی چاہئے تھیں۔

اگر بلوچ آزادی پسندجماعتیں اور  لیڈران تحریک کے بنیادی مراحل میں اتحاد پر قائم رہتے اور باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے  ایک روڈ میپ فرائم کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا رہتے، تو یقین جانیئے بلوچ قومی تحریک جس شکل میں آج موجود ہے اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی۔

مزید مضامین: 

مستونگ دھماکے میں خون سے لت پت لاشیں بھی پنجابی میڈیا کا ضمیر جگانے میں ناکام رہے

جنگِ آزادی اور اس کے نوجوانوں پر نفسیاتی اثرات 

چیسل جان، ایک نظریاتی سنگت

سنگاپور  آج سے پچاس سال قبل ایک چھوٹا سا جزیزہ تھا، لیکن آج اس  کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ اور ماڈرن ممالک میں ہوتا ہے، حالانکہ وہاں مختلف اقوام  جو مختلف زبانیں بولتے ہیں  اور مختلف مذاہب کو ماننے والے لوگ آباد ہیں۔   ساڑھے پانچ ملین کی آبادی پر مشتمل یہ جزیرہ نماملک قدرتی معدنیات سے محروم ہے،لیکن اس  کے باوجود اس کا شمار دنیا کے تیسرے اور ایشیا کے دوسرے امیر ترین ممالک  میں ہوتاہے۔ سوچیئے کہ اگر سنگاپور میں آباد اقوام میں اتحاد و اتفاق نہ ہوتا کیا وہ اس مقام تک پہنچتے؟

اللہ سبحان و تعالیٰ نے بلوچوں کو بے شمار قدرتی دولت سے نوازا ہے،  لیکن پھر بھی ہمارے لوگوں کو دو وقت کی روٹی اور رہنے کو ایک چت میسر نہیں۔ اس کا زمہ دار ریاستِ پاکستان ، وہ قوتیں جنہوں نے بلوچستان کو تقسیم کیا اور کئی نا کئی ہمارے آباواجداداور موجودہ دور میں ہم خودبھی ہیں۔ اگر ہمارے آباواجداد غلظیاں نہ کرتے تو آج  ہماری اپنی جداگانہ ریاست ہوتی، اگر ہم ان غلطیوں کو دہرائیں تو ہماری آنے والی نسلوں کی حالتِ زار ہم سے بھی بدتر ہوگی۔ ہمیں موقع ملا ہے اپنے آباواجداد اور اپنی غلطیوں کو سدھارنے کا، ہوسکتا ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں کو یہ موقع بھی میسر نہ ہو۔

اتحاد ، جو ہمیں سالوں پہلے کرلینا چاہیے تھا ، آج کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں  جو ناقابلِ عمل ہو، ہمیں اس سلسلے میں نیک نیتی کیساتھ اپنے رابطوں کا آغاز کرنا ہوگااور اپنے اندر برداشت پیدا کرتے ہوئے صبر سیکھنا ہوگا۔ کیونکہ اتحاد کے بغیر ایک ایٹمی طاقت کو شکست دینا شاید ناممکن ہو۔

ہم نے اتحاد کو ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بنا دیا ہے، آزادی پسند تمام جماعتیں اور لیڈران اتحاد کے لیے حامی بھرتے دکھائی دیتے ہیں، ہائے روز ہمیں سوشل میڈیا اور بلوچ زرائع ابلاغ میں اتحاد کے حوالے سے مضامین اور خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں، ایک بھی ایسا آزادی پسند لیڈر یا جماعت نہیں جو اتحاد کی اہمیت و  افادیت سے انکاری ہو، ایک عدنہ سے کارکن سے لیکر لیڈر تک اتحاد کے لیے رازی نظر آتا ہے۔لیکن پھر بھی ہم اب تک اس نعمت سے محروم ہیں۔

وقت و حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں، اگر ہم سے کوئی کہتا ہے کہ اُس سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی ہے تو دروغ گوئی ہوگی، غلطیاں ہر انسان سے سرزد ہوتی ہیں لیکن ہمیں ان  غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے تاکہ دوبارہ  ان سے بچا جا سکے۔  بلوچستان کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی گرفت وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط ہوتی نظر آرہی ہے، جس کی تازہ مثال ہمیں مستونگ حملے سے ملتی ہے جہاں ایک دھماکے میں 200سے زاہد لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے موت کی نیند سلا دیا گیا۔  مذہبی انتہا پسندی بلوچ معاشرے کو تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے، جبکہ مذہبی تنظیموں کو کسی نا کسی طرح ریاستی اداروں کی حمایت یا مدد حاصل ہے۔

آج ہم تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑے ہیں، اور وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم وسیع تر قومی مفادات اور بلوچ قومی آزادی کی خاطر اپنی زاتی رنجشوں اور اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے اتحاد کی جانب قدم بڑھاکر بلوچ قومی پُکار کو منظم و مضبوط انداز میں دنیا کے سامنے لاتے ہوئے شہدائے بلوچستان کی مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا قومی فریضہ نبھائیں۔

تحریر: خالد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close