لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2375دن ہوگئے

کوئٹہ(ری پبلکن نیوز)لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2375دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں قومی وطن پارٹی کے صوبائی راہنماء عبید اللہ خان مندوخیل نے اپنے ساتھیوں سمیت لاپتہ بلوچ ،شہداء کے لوحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔اور انہوں نے کہاکہ جب بنگلہ دیش بن رہا تھا تو وہاں بھی کچھ لوگ ایسے ہی تھے کہ جو اس ظالم ریاست کا ساتھ دے رہے تھے اپنی وفا داری دکھا رہے تھے لیکن اب وہاں ایسے لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہورہے تو یہ ان کے کئے کی سزا ہے ۔ جوا نہیں مل رہی ہے کیونکہ وہ غدار ٹھہرا ئے گئے ااج وہی بلوچستان میں ہور ہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ آج بلوچستان میں بنگلہ دیش اور کشمیر سے زیادہ ظلم ہورہے ہیں لیکن بلوچوں پر ظلم بربریت کی آواز کوئی مذہبی یا سیاسی حکمران جماعتیں نہیں سن رہی ہے ۔ بلوچ کی معاشی مجبوریاں بھی ہیں اسے اس کا حق نہیں مل رہاہے اسے وہ عزت نہیں مل رہی جو اس کا استحقاق ہے لیکن یہ اس طرح سے کیوں ہے یہ اس لئے ہے کہ وہ اپنی ہی سرزمین پر غلاموں جیسے زندگی گزا رہے ہیں۔ وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاک کہ آج بلوچستان میں بھی یہ سب قاض کی اپنی توسیعی سوچ اور ان کی تکمیل کی کش مکش کا کھیل عروج پر دکھائی دیتا ہے ۔ اس کھیل میں اب تک لاکھوں غیر انسانی واقعات دشمن کی جانب سے انجام پا چکے ہیں۔ اور اب اس میں زمید تیزی لاگئی ہے ۔ جس طرح قابض اپنے وجود کو بچانے کیلئے لالچ و خوف سے مقبوضہ عناصر کو با جگزار بنا کر کام لیتی ہے ۔ بلوچستان میں بھی یہی حربے زور وں پر ہیں بلکہ پاکستان انہی کی وجہ سے اپنا قبضہ اب تک برقرار رکھ سکا ہے ۔ بد گر دار گروہوں نے بھی اپنے آقا کی جی خضوری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ سب قومی غلامی کی مضبوطی اور بلوچ نام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش میں پیش پیش رہے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close