بی ایل ایف نے مسلح دفاع پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

کوئٹہ ( ری پبلکن نیوز) بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے مذہبی شدت پسند مسلح دفاع پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کی صبح سرمچاروں نے بسیمہ کے علاقے راغے میں ریاستی سرپرستی میں چلنے والی مذہبی شدت پسند تنظیم مسلح دفاع کے ٹھکانے اور سیکورٹی دینے والوں پر اُس وقت حملہ کیا جب وہ رات کی سیکورٹی ختم کرکے ٹھیلے سے نیچے اپنے ٹھکانے کی جانب جارہے تھے، جن کا سرمچاروں نے پہلے ہی سے گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ بعد میں اُن کے ٹھکانے کے کمرے کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ یہ ٹھکانہ دین محمد عرف دینو کی سربراہی میں جو ئے گل محمد کے مقام پر قائم ہے۔ جسے خدا رحم اور سراج کی سرپرستی حاصل ہے۔ اسی دوران سراج کے کیمپ سے ان کیلئے کمک بھیجا جا رہا تھا تو سرمچاروں نے اُن پربھی خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ یہ لڑائی اور جھڑپیں 40 منٹ تک جاری رہیں، جس میں مسلح دفاع کے کئی کارندے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایسے گروہ پاکستان کی سرپرستی میں مذہبی شدت پسندی پھیلانے کے ساتھ بلوچ جہدِ آزادی کے خلاف بھی متحرک ہیں۔ گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کہا کہ گزشتہ دنوں مستونگ میں ایک ایسے ہی گروہ نے پولیس اور لیویز اہلکاروں کو نشانہ بنا کر قتل کیا تاکہ ریاستی اداروں کیلئے آپریشن، فوجی کارروائیوں اور اغوا کا راستہ ہموار کیا جاسکے۔ اسی بہانے فوجی چوکیوں کے قیام اور بلوچ فرزندوں کی اغوا اور گمشدہ کرنے کے عمل میں تیزی لائی گئی ہے۔ ہم نے پہلے بھی واضح کیا ہے کہ مستونگ و گرد ونواع میں کئی مذہبی شدت پسند متحرک ہیں اور اُنہیں کھلے عام ایف سی اور دوسرے ریاستی ادارے سپورٹ کرتے ہیں۔ لشکر جھنگوی کے کئی خاص ٹھکانے اور اہم رہنما انہی علاقوں سے آپریٹ کرتے ہیں ۔ اسی طرح عالمی دہشت گرد داعش کا ایک ٹھکانہ انہی علاقوں میں ہے۔ داعش کا زہری اور آواران ضلع میں بھی ٹھکانے ہیں جنہیں حکمران جماعت کے ثنااللہ زہری اور جھاؤ میں بزنجو برادران کی حمایت و سرپرستی حاصل ہے۔ تحصیل زہری کے کاٹاری میں ایک چھاؤنی کی تیاری کیلئے فوجی حرکت میں تیزی آئی ہے۔ ان سب کا مقصد مذہبی گروہوں کا تحفظ اور بلوچ قومی تحریک کو کچلنا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close