جلتا سُلگتا بلوچ وطن

فضا میں رچی گولہ بارود کی بُو ، ویرانوں ، صحراؤں ، جنگلوں ، ندی نالوں اور شاہراہوں پر بے گور وکفن انسانی نعشے پل بھر میں انسان کا غائب ہونا، لمبی مصافتیں اور آبلہ پا سفر کرکے انصاف کے لیے عالمی دُنیا کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے قافلے کی کربناک داستان پر اُس دیس کی نشاندہی کرتے ہیں جسے بلوچ اپنا مسکن اور وطن مانتے ہیں۔ اس سرزمین کے فرزندان وحشت اور دھشت کی ایک ایسی بھٹی میں جھلس رہے ہیں لیکن انسانیت کے دعویدار اس تپش کو ذرا بھی محسوس نہیں کررہے۔آج بھی بلوچ وطن سنگینوں اور نیزوں کے حصارمیں ہے اور یہ سلسلہ طول پکڑتا جارہا ہے۔
گزشتہ چند دنوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو قبضہ گیر نے جدید جیٹ طیاروں ، گن شپ ہیلی کاپٹرز ، 100سے زائد فوجی ٹرک پر مشتمل سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ بگٹی کے کئی بستیوں کوپوری طرح تباہ کیا، اس آپریشن میں 50سے زائد لوگوں نے شہادت پائی جس میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شامل ہیں۔ اسی فرعونیت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر مشکے میں چالیس گاڑیوں پر مشتمل فورسز نے آپریشن کرکے پانچ علاقوں میں نقدی و زیورات لُوٹ کر 150سے زائد گھروں کو جلا کر متعدد کو شہید و اغواء کردیا اسی طرح ایک مختصر عرصے سے کوہستان مری، شاہرک، شاپک، پیدارک، آواران ، جھاؤ ، پنجگور، بسیمہ ،قلات میں تیزی سے آپریشن جاری و ساری ہے اور مزید سنگین صورت اختیار کرتی جارہی ہیں۔ نسل کُشی کا ایک اور کڑی سانحہ لیاری سے واضح ہے جہاں 12مارچ ریاستی گینگوار کے ہاتھوں 8بلوچ خواتین، 3بچوں سمیت 24شہید اور 45زخمی کئے گئے۔ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں ڈھائی مہینوں میں 120 سے زائد بلوچ فرزندان مختلف آپریشنز ، مسخ شدہ لاشوں، ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں شہادت پا چکے ہیں، قبضہ گیر کی طرف سے نئے سال کا تحفہ "اجتماعی قبر”کی تعداد کو اگر لیا جائے تو تعداد 289ہوگی جبکہ الیکشن سے دسمبر 2013 تک ہلاکتوں کی تعداد 204ہے۔ یعنی یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے ریاست نے ماضی کی تمام ریکارڈ کم مدت میں تھوڑنے کا اعاد ہ کر رکھا ہے۔
ایک طرف انسانی حقوق کی پامالی اور تمام عالمی انسانی قوانین کو روندھ کر پاکستانی ریاست نے بلوچ نسل کشی میں تیزی پیدا کی ہے دوسری طرف علم و دانش گاہوں کے سامنے بند باندھنے کی کوشش بھی جاری ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈیلٹا لینگویج سینٹرتربت کو متعدد بار بے بنیاد الزامات کے بعد تالا لگادیاگیا، اسکے بعد عطاشاد کالچ کُتب میلہ میں چھاپہ مارکر متعدد کو گرفتار و حراساں کیا ۔ حالیہ دنوں میں کاروان لینگویج سینٹر ٹیچرز وطالب علموں کو سینٹر کے ڈائیریکٹر کی بازیابی کیلئے جہد کی پاداش میں اغواء کیاگیا۔ ریاستی مقتدرہ نے دُنیا کے سامنے بلوچ قومی تحریک آزادی کو کاؤنٹر کرنے اور اُسے بدنام کرنے کیلئے اپنے کارندوں کے ذریعے پیدراک میں طالبات کی علمی درسگاہوں کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کردیا اور انھیں تعلیم سے باز رہنے کی سنگین دھمکیاں دی گئی تاکہ دُنیا کو تاثر دیا جاسکے کہ بلوچستان میں قومی آزادی تحریک سرے سے وجود نہیں رکھتابلکہ وہاں انتہا پسندی کی جڑیں پیدا ہوچکی ہیں۔مزید برآں گزشتہ مہینے اسلام آباد میں زیرِ تعلیم طلباء کواس لئے شدید زد وکوب کا نشانہ بنایا گیا کہ انھوں نے لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کیلئے اسلام آباد پہنچنے والے شرکاء کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
تیسری طرف بلوچ سائل و وسائل پر مضبوطی سے اپنا غلبہ جمانے کیلئے بیرونی ممالک خاص کر چین کے ساتھ گوادر ڈیپ سی پورٹ ، ریکوڈک کی بحالی کی بازگشت ، گڈانی پراجیکٹ میں شراکت داری ، ایران کے ساتھ گیس معاہدہ اور دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ممالک کوبلوچستان کی لُوٹ و کھسوٹ کی دعوت آسان شرائط پر دی جارہی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ بلوچوں کا معاشی قتل زوروں پر ہے جس کا مثال ماہیگیروں کو ان میگاپرا جیکٹس کے عِوض دستبردار ہونے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اِسکے علاوہ وڈھ میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت اور ٹرانسپورٹ کی بندش وہاں صدیوں سے آباد رہائشیوں کو نکل مکانی اور اُنھیں بھوک و افلاس میں مبتلا کرنے کی گھناؤنی سازش ہے ۔ نقل مکانی کرنے والوں کی ایک اور مثال انجیرہ زہری میں فوجی آپریشن کے نام پر ریاستی مسلح گروہ کی جانب سے نکل مکانی کی دھمکی دی گئی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہاں بھی توتک کی طرح ڈیتھ سکواڈ کا کیمپ لگوایا جائیگا۔
کیا اس تمام صورتحال میں عالمی قوتیں اپنی فرائض بہتر طور پر سرانجام دے رہے ہیں؟؟؟

نوٹ (مذکورہ اداریہ بلوچ ری پبلکن پارٹی کی نمائندہ کتاب "اُرش ” کے دوسرے شمارے میں شائع ہوچکی ہے)۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close