بلوچستان میں فوجی آپریشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف جنیوا میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ بی آر پی

BRP-GENEVA سوئٹزرلینڈ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ری پبلکن پارٹی سوئٹزرلینڈ چیپٹر کے صدر شیرباز بگٹی، نائب صدر قادربگٹی اور جنرل سیکٹری محمد نواز بگٹی نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ بی آر پی سوئزرلنڈ چیپٹر کے زیراہتمام بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن اور انسانی حقوق کے سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف سوئزرلنڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر کے سامنے ایک مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی، منصور بلوچ، شیرجان بلوچ، بلوچ رہنما سردار بختیار خان ڈومکی سمیت بی آر پی کے رہنما ریاض گل بگٹی اور یورپ میں مقیم بی آر پی کے زمیداران وکارکنان سمیت انسانی حقوق کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں احتجاجی نعروں پرمشتمل پلے کارڈز اورماورائے عدالت قتل کئے جانے والے سیاسی کارکنان اور بے گناہ بلوچوں کی تشددذدہ لاشوں کے تصاویر اور بلوچستان میں پاکستانی جارحیت، چین کی مداخلت اور بلوچ نسل کشی کے خلاف مختلف نعرے درج تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہرے کا مقصد بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ریاستی فورسز کی جنگی جرائم کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں چین کی مداخلت کے متعلق آواز بلند کرنا تھا۔ شیرباز بگٹی نے مزید کہا ہے کہ پنچیس جون کو بلوچ ریپبلکن پارٹی سوئزرلنڈ چیپٹرکے زیر اہتمام اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر کے سامنے ایک پانچ روزہ آگاہی کیمپ قائم کیا جائگا جس میں پاکستانی فوج کی طرف سےبلوچ عوام پر ہونے والے ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں لوگوں کواگاہی فراہم کرینگے، بیان میں مزید نے کہا گیا کہ اس کیمپ کا مقصد بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کے مکروہ چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرتا ہے کہ پاکستان کی فوج بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی کے علاوہ اپنےغیر قانونی قبضہ کودوام بخشنے کے لئے چین کے ساتھ مل کر تشدد کے تمام حربے آزما رہا ہے،نہتے بے گناہ معصوم لوگوں پر پاکستانی فوج کا تشدد دہشت گردی کی بدترین مثال پوری دنیا میں کہی نہیں ملتا۔ سوئز چیپٹر کے صدر نے مزید کہا کہ بلوچستان میں پاکستانی ریاست انسانیت کے خلاف جرائم کا مسلسل ارتکاب کررہی ہیں جن میں آبادیوں ہر بے دریغ بمباری، نہتے لوگوں کو اغوا کرنا اور پھر انہیں مار کر اجتماعی کبروں میں دفنا دینے جیسے غیر انسانی عمل شامل ہے اس کے علاوہ نام نہاد پاک چین راہداری کے نام پر بلوچوں کو مستقل غلام بنائے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہیں اس سڑک کے نام پر لوگوں کو اپنے آگاہی علاقوں سے بزور بندوق نکالا جارہا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے علمبردار بلوچستان میں جاری پاکستانی کشت و خون کو روکنے کیلئے کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close