لندن گروپ لکھتا ہے تو قندھار گروپ شیئر کرتا ہے.ماما قدیر

MAMAکوئٹہ (ریپبلکن نیوز) لاپتہ بلوچ اسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2345دن ہوگئے اظہار یکجہتی کے لئے مچھ بولان سے ہزارہ برادری کے سیاسی وسماجی کارکن محمد یونس ابرارحسین اپنے ساتھیوں سمیت بڑی تعداد میں لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور انہوں نے کہاکہ جب تک محکوم اقوام اور پسے ہوئے عوام الناس چھٹکارے کے لے منظم اور فعال وسیع اور گہری سماجی وابستگی کی حامل قبربانیوں سے بریز طویل کھٹن سماجی وابستگی کی حامل قربانیوں اور جبر آزما جد وجہد کے عمل سے نہیں گزر تھے اور جب بھی کسی محکوم قوم اور مظلوم طبقے نے اس وجہد وجہد میں ثابت قدمی اور مستقبل مزاجی کا مظاہرہ کیا تو بالادست استحصال قوتوں کو شکست وزیمت کا سامنا کرنا پڑا یہی وجہ ہے ۔ وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد کے ایک سال کے جواب میں کہا کہ یہ اصل بی ایس او ازاد نہیں ہے یہ لندن گروپ لکھتا ہے ۔ تو قندھار گروپ شیئر کرتا ہے اگر قندھار گروپ لکھتا ہے تو لندن گروپ شیئر کرتا ہے ۔ ماما قدیر نے مزید کہاکہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچ قوم کے خلاف اس بڑھتی ہوئی ریاستی دہشتگردی و بربریت اور اس میں مزید شدت لانے کی تیاریوں کے پیش نظر آزادی پسندوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے کیا زمانے کی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اداروں کی تشکیل فروغ اور استحکام پر توجہ مرکزور کرنے کے بجائے شخصیات کی بت تراشنے ، وتوڑنے کی بے ثمر مشق دہراتے سنے ال الگ تنظیموں و پاکٹس میں پٹے رہنے آپس میں مشترکہ نکات و مقاصد کو بنیاد بناکر دشمن کے مشترکہ جدوجہد کی کوئی یا اصول راہ نکالنے پر موکزکرنے کیللئے نکالیں۔ ہر باشعور بلوچ باآسانی سمجھ سکتا ہے ۔ ما ما نے کہاکہ ریاست نے تشدد بربریت کی پالیسی اختیار کی جو آج تک جاری ہے بلکہ روز بروز اس میں اضافہ ہورہاہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close