آؤ کریں احتساب اپنا

Articleتحریر:جوان بلوچ

نوٹ:
انقلابی لٹریچر کی جب بات کی جاتی ہے تو اس کا قطعاََ مقصد محض جذباتیت یا نظریاتی بحث کرتے سوالات کا جواب دینا نہیں ہوتا بلکہ معاشرے میں سوالات اُٹھائے جانے کی جرات سے ہی انقلاب کی داغ بیل پڑتی ہے۔ اس زمرے ، میں نے یہ کوششیں کی ہے کہ اس کتابچے میں ایک خاص سیکشن سوالات کا رکھا جائے کہ جن کے جوابات انفرادی حوالوں سے ہر کوئی دیتا آپ اپنا احتساب خود کرے۔ میں نے خاص طور سے ہماری مجموعی سیاسی رویوں پہ خود سے سوالات کرتے اس مشق کو اب آپ کیلئے پیش کیا ہے۔ اُمید ہے ہم سب آپ اپنا احتساب کرتے، آپ اپنی اصلاح کا عمل شروع کردینگے۔(جوان بلوچ)

ہے تو سب کچھ، مگر کہیں کوئی کمی نہیں:
میں اپنے پاس پڑے پستول کو دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ میں اپنے دشمن کو اچھی طرح جانتا بھی ہوں اور آزادی حاصل کرنے کی تمنا اور اس کا شعور بھی رکھتا ہوں ۔ مگر نہ جانے کیا وجہ ہے کہ جب کبھی میرا دشمن میرے سامنے سے گزرتا ہے ، تب میں اُس پر وار نہیں کر پاتا ، اپنے پاس پڑے پستول کو دیکھتا ، رات گئے سوچتا ہوں کہ میرا مسلح اور با شعور ہونا کیوں کافی نہیں اپنی غلامی مٹانے کو ؟ سوچتا ہوں کہ مجھ جیسے اور کتنے ہونگے کہ جنہیں دشمن کا بھی ادراک ہے اور جو مسلح بھی ! سوچتا ہوں ، دیر رات تک کہ وہکیا ہے کہ جو اسلحہ بھی نہیں ، شعور بھی نہیں ؟

حالت کو بدلنے کا علم :
ایسا کیوں ہے کہ ہم نقائص کی تشخیص کرنے کے بعد اُن کی بہتری کیلئے کام کرنے کے بجائے اپنی عمر محض نقطہ چینی کرنے میں گزار دیتے ہیں ، ہم میں سے ہی کچھ لوگ ایک چند نقائص کی موجودگی کو پاتے یا تو سرے سے اپنے ارادوں میں تبدیلی لے آتے ہیں یا پھر انہی خامیوں کیساتھ چلتے رہتے کسی کام کی ممکنہ و متوقع ناکامی کو پہلے سے ہی محسوس کرنے کے با وجود بھی چیزوں کو یونہی چلنے دیتے ہیں ! ہم میں ایسے لوگوں کی کیوں ہمیشہ سے اتنی کمی ہے جو نقائص کی خود تشخیص کرتے یا اس کا کسی سے شعور حاصل کرتے اس میں تبدیلی لائیں ؟ کیا سچ میں ایسا علم اب ہم میں ناپید ہے جو نقائص کی بہتری کیلئے ہو ؟

ایماں ہے ، پرہو نہیں پاتا:
وہ اسکول کی درسی کتابوں سے لیکر عمر کے اس حصے تک لا تعداد دفعہ ’’اتحاد ‘‘ و ’’متحد ‘‘ ہونے کے متعلق پڑھ چکا ہوگا ۔ میں اُس سے جب بھی ملا اور اس متعلق ہماری بات ہوئی کہ کیوں نا اپنی طاقت کو مرتکز کرتے جدوجہد کی جائے ۔ تو وہ بھی اتحاد کو طاقت ہی تصور کرتا نظر آیا ۔ پھر کیوں بھلا وہ معمولی باتوں کو لیتے اس حد تک تکرار کرتا ہے کہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے اتحاد کو زچ کرتے اسے ختم کرے ۔ کیا یہ واقعتا اس قدر مشکل ہے کہ ہم جس پر ایماں رکھیں اور خوداُس پر عمل بھی کر سکیں ؟

ڈرپوک ہیں یا حرص کے مارے؟:
کیا جینے کی انسانی خواہش اس قدر گہری ہے کہ وہ اک انسان کو مرنے سے بھی بد تر حالت میں اپنیسانسوں کے تحفظ کیلئے اُکسا کر اُسے ہر طرح کا سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار کر دیتی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو ہم نے اپنے اجداد سے کیا سیکھا ؟ یہی کہ ہم ڈرپوک رہتے ہر حال میں موت کا سامنا کرنے سے ڈرتے اُس سے چھپتے پھریں ! اگر ہم کہیں کہ غلامی اک بیماری ہے کہ جسکا علاج صرف جدوجہد کرتے قربانی دیناہے تو ایسے میں ہمارا مجموعی وطیرہ کیا سچ میں یہی ہونا چاہیے کہ ہم اپنی اپنی بے مقصد یا پھر معمولی نوعیت کے اہداف پہ مبنی زندگیاں جینے کی حرص و لالچ میں غرق ہوں ؟ اگر ایسا ہے تو ہم اپنے آنے والی نسلوں کو کیا سکھا رہے ہیں ؟ یہی کہ وہ حرص و حوس جیسی اخلاقی برائی کو اپناتے آزادی جیسی انمول نعمت کو فراموش کر لیں !

میں بیمار تو نہیں:
اپنے سے زیادہ با علم انسان کو دیکھتے میں بے چین سا ہو جاتا ہوں اور اپنی کم علمی کو دور کرنے کیلئے اُسے اپنے لئے اک وسیلہِ تحریک سمجھنے کے بجائے میں اُس سے جلنا شروع کر دیتا ہوں اور خود کو اس آگ میں جھلستا دیکھ اپنی پستگی کے اس عذاب کو دوسروں سے چھپاتا لوگوں کی توجہ اُس انسان کی معمولی غلطیوں کی جانب مدخل کرتا ہوں کہ جسکے متعلق مجھے خود یقین ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ قابل ہے ۔ بجائے اُسکی قابلیت کو تسلیم کرنے کے ، میں اُسمیں کچھ سطحی کوتائیاں ڈھونڈتا اُسکی حوصلہ شکنی کرتے اُس سے اُسکے علم پر فخر کرنے کے فطری حق کو چھیننے کی کوششیں کرتا ہوں ، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ میری کم علمی ، میری اپنی کوتائی ، سستی و مجموعی نا اہلی کی بنا پر ہے جن کی وجہ مجھ میں پائی جانے والی متعدد محرومیاں ہیں کہ جنہیں میری قومی غلامی کے باعث زیادہ توقعت ملتی ہے ۔ مگر میں پھر بھی اُس انسان کے علم کو اپنی بیماری کے علاج یعنی قومی آزادی کیلئے اُسے حوصلہ دینے کے بجائے،اپنی بیماری کی پیچیدگی کا مزید ثبوت دیتے اُسے اپنے علاج سے بھی روکنے کی کرتا ہوں ! آخر میں خود کو بھلا اتنا گھٹیا بنانے پہ کیوں باضد ہوں ؟ میں کہیں بیمار تو نہیں !
عظیم بننے کی چاہ اور ادھورا رہبر:
وہ اک اچھا انسان ہے ، بہت ساری خوبیاں ہیں اُسمیں کہ جن میں اک خوبی قومی خدمت گار بنتے لوگوں کی رہنمائی کی بھی ہے ۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ اُسے اس نیکی و عظمت کو پانے کیلئے ابھی خود پہ خوب محنت کی ضرورت ہے کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ وہ فقط عام لوگوں سی خوبیاں خود میں سموتے عوام کا رہبر تسلیم کیا جا سکے گا ! مگر ایسا کیوں ہے کہ اُس میں پائی جانے والی کمی بیشیوں کا اگر مجھے اندازہ ہے تو اُسے اپنے متعلق ایسی کمزوریوں کا ادراک نہیں ؟ آیا وہ خود پہ محنت کرنے کو راضی نہیں یا وہ عوام کو اُن کے معیار بدل دینے کا آرزو مند ہے ؟

معاملات جو حل ہونا ہوں:
ہم سے کہا گیا تھا کہ اب ہر چیز کو تنظیمی انداز میں کرتے معاملات کو جلد طے کر لیا جائیگا مگر ایسا کیوں ہے کہ جب کبھی ہم معاملات کو طے کرتے زیادہ احتیاط برتنے کی رضا مندی ظاہر کرتے ہیں ، بد قسمتی سے اُسی معاملے میں ہی زیادہ بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتے معاملات کو مزید پیچیدہ و ناقابل حل نقطے پہ پہنچا دیتے ہیں ؟

’’میں ‘‘ میرا :
آج سارا دن میں اپنے ساتھ ایک ریکارڈر لئے گھوما تاکہ دن بھر کی اپنی تمام سرگرمیوں کو محفوظ کرتے خود اُن پہ تجزیہ کروں ….. مجھے کچھ عجیب انکشافات ہوئے ! یکدم عجیب ! جو چیزیں میں نے اپنے تجزیے کیلئے ریکارڈ کیں ، وہ تمام کی تمام ، میری اُس شخصیت سے یکسر مختلف ہی نہیں بلکہ اُنکے منافی نکلی کہ جس شخصیت کو اب تک میں میرا ’’اپنا آپ ‘‘ سمجھا کرتا تھا ۔ جو خود کو با اخلاق انسان سمجھتا جھوٹ ،منافقت، فریب اور مکاری جیسے بد اخلاقی فیل میں ملوث ہو ۔ جو خود کو انقلابی اقدار کا پاسدار سمجھتا قومپرست کہتے ، قوم دشمن جماعتوں کی سیاست کرتا ہو ……. وہ بھلا ؟ وہ ………. یہ آخر ہے کون جو مجھ با اخلاق و انقلابی انسان میں بستا ہے ؟ بھلا یہ کب و کیسے ممکن ہو پایا کہ آج ’’ مجھ میرا ‘‘ مجھ میں نہیں !

فنکار یا فروخت کار ۔سیلز مین:
کیا فن بھی بکتا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو کوئی خریدتا ہی کیوں ہے ؟ کسی کو تفریح کی لالچ دیتے اُسے اپنے مقاصد کے تحت گمراہ کرنے کو ؟ یا فن کی اثر پذیری و معاشرے میں اسکی قبولیت کو دیکھتے اسے ذاتی مفاد کی خاطر استعمال کرنے کو ؟ اگر ایک فنکار ایسی ہی نوعیت کے اسباب کو محض سطحی معاملہ سمجھتے اپنا فن کسی فن کی تذلیل کرنے والے کو بیچتا ہے تو کیا میں اُسے بھی فنکار کہوں ؟ کیا اسکی یہ صلاحیت واقعتا فنکارانہ ہے ؟ تو پھر ایک سیلز مین کو میں کیاکہوں ؟
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ’’فلاں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے خوب داد وصول کی ‘‘ ، میرے نزدیک ایسے جملوں میں ہم اُس انسان کی شخصیت کو ایک سیلز مین سے شاید اسی لئے ہی ممتاز سمجھتے ہیں کہ وہ کسی فن کا پیش کردہ ہے ، نہ کہ پیسوں کے عوض کسی شے کا فروخت کار …….
اگر یہ سب سچ ہے تو بھلا یہ سادہ لوح لوگ احمق بنتے کیوں کسی ایسے انسان کیلئے بھی لفظ فنکار ، ادیب ، شاعر یا گلوکار کہتے نہیں تھکتے جو محض ہمیں تفریح کا لالچ دیتے کسی اور کے مقاصد کے تحت ہمیں گمراہ کرنے کی خاطر فنکار کے روپ میں لا یا گیا ہو ؟ ایک ایسا شخص کہ جسکے بجائے ساز و اسکے گائے گیت کا خود اُس پر اثر نہیں ! ایسا بہروپیا اگر سُریلا و یا بے سُرا بھلا میری ذات کا اس سے کیا تعلق ؟ وہ تو خود ہی اپنے فن کا تمسخرا اُڑاتے یہ ثابت کرنے پہ تلا ہے کہ وہ اک جال ساز ہے ، بہروپ میں آیا اک شیطان اورذرا سنو تو ، وہ جو گاتا ہے ، اُسکا ہماری زندگیوں سے کوئی ربط نہیں …… سنو غور سے سنو کہ یہ کیا گاتا ہے …… کس کے نغمے سُنتا ہے …… کس کی دھن بجاتا ہے …. سنو ذرا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close