بلوچ سیاست کا معیار (تحریر: مرید بگٹی)

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) دنیا میں سیاست کے مختلف انداز اور طریقے ہوتے ہیں، کئی ملکوں میں اقتدار کے حصول کیلئے سیاست کی جاتی ہے تو کئی مرکز میں حکومت چاہتا ہے تو کوئی کسی ریاست یا صوبے میں اپنی اپنی سیاست کا لوہا منوانے کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن بظاہر کوئی اس کو کرپشن کو جواز بنا کر پیش کرتا ہے ، کوئی بد انتظامیہ کو ملکی ترقی میں رکاوٹ سمجھتا ہے سو بات کی ایک بات کہ ہر انسان دوسرے کی طرز عمل سے خوش نہیں  ہوتا، اور وہ ملک میں اپنے خواہش کے مطابق تبدیلیاں لانا چاہتاہے اور اس کشمکش میں دوسری قوتیں بھی موقع کا فائدہ اٹھا کر کود پڑھتے ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مگر انقلابی جنگوں میں سیاست یکسر مختلف ہوتی ہے ایک ہی علاقے میں ایک ہی مقصد کیلئے جدوجہد کرنے کیلئے طریقہ کار میں فرق ضرور ہوتا ہے مگر اچاڑ پچاڑ کی سیاست کی کوئی کنجائش نہیں ہوتی۔  ہندونستان میں انگریز سامراج کے خلاف جنگ میں سبہاش چندر بھوس بھی گاندھی کی کانگریس کا حصہ تھا، مگر گاندھی کی طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے سبہاش نے اپنی راہیں جدا کرلی، بعد میں سبہاش کی گوریلا فوج کے ساتھ کیا ہوا ان کی شہادت تک کیا کیا ہوتا رہا وہ ایک الگ بحث ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے وہ کبھی ایک دوسرے سے گرپ بندی سمیت ایک دوسرے کے ساتھ ایسی سیاست نہیں کرتے تھے جس سے دوسرا کمزور پڑھ جائے۔

مزید مضامین:

ریاستی اداروں کے نئے حربے اور بلوچ قومی تحریک 

بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت اور سیاسی تبدیلیاں 

مگر ہمارے ہاں بلوچ آزادی پسندوں کی سیاست کا محور ہی یہی ہے کہ کس طرح ایک دوسرے کو تھوڑ کر کمزور کیا جاسکے جس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔  بی ایل اے سے یو بی اے بننے تک جس حد تک باہر کے قوتیں کار فرما تھی اس سے زیادہ بلوچوں کے اندر طاقت کے حصول اور ایک دوسرے کو آگے بڑھنے سے روکنے یا ایک دوسروں کو کمزور کر کے خود طاقت ور بننے کے کھیل کا نتا ئج ہیں ۔ بی ایل اے کے اندر جو تنظیمی بحران نے جنم لیا تو بلوچ تحریک میں موجود کچھ موقع پرست لوگوں نے اس کو ہوا دیا اور یو بی اے کے قیام کی صورت میں وہ قوتیں اپنے پراسرار خواہشات کو کامیاب ہوتا دیکھ کر اپنے کام میں مزید قوت کے ساتھ سرگرم ہوگئے جیسے کہ میں اوپر ذکر کر چکا ہو کہ باہر کی قوتوں کے اپنے مسائل ہیں لیکن ہمارے ہاں تحریک میں بدقستمی سے ان لوگوں کے ہاتھ میں بے تحاشہ طاقت آگئی ہے جو کبھی نہیں چاہے گے کہ بلوچستان میں حقیقی طاقتیں متحد ہو کیونکہ پھر ان سازشی اور طاقت حاصل کرنے کے دوڑ میں سرگرم لوگوں کے ہاتھ کنٹرول ہونگے اور وہ اپنے پراسرار خواہشات کی تکمیل نہیں کر پائے گے اور وہ ہمیشہ سے اسی کوشش میں لگے ریتے ہیں کہ تحریک اسی طرح ٹکڑوں میں بٹا رہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کی قربانیاں کسی سے کم ہیں مگر یہ ایک ایسا نشہ ہے جو کسی میں چڑ ھ جائے تو وہ اس سے جانے یا انجانے میں خود کو اس سے الگ نہیں کر پاتا۔

2005 میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کے بعد ہم سندھ ہجرت کر گئے تھے، بڑے شہروں میں ریاستی اداروں کے نظر میں آنے کے ڈر سے ہم نے سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر میں پناہ لیے رکھا، شہر آنا جانا رہتا تھا ایک ہوٹل میں کبھی کبھی چائے پیتے تھے ہوٹل کے ساتھ دو دکانیں جلی ہوئی تھی میں نے ہوٹل کے مالک سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ بھائی یہاں دو کپڑے کی دکانیں تھی ایک عورت کی دکان تھی اور اس میں ایک ہندو کی دکان تھی مگر دونوں میں کپڑے بنانے کا کام ہوتا تھا مگر اچھے کام کی وجہ سے لوگ بیشتر ہندو کی دکان پر جاتے تھے تو عورت کو بالکل پسند نہیں تھا، تو بجائے عورت نے اپنے کام کو بہتر کرنے کے ہندوکی دکان کو ایک نشیڑی کے زریعے جلا ڈالا تو اس میں عورت کی اپنی دکان بھی جل کر راکھ ہوگئی مگر مزے کی بات یہ ہے کہ کچھ دن بعد ہندوں نے شہر میں اپنی دوسری دکان کھول دی جس میں وہی رش اور کاروبار ٹھاٹ سے چل رہاہے۔

اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آپ دوسرے کی کام کو بگاڑ کر اپنی سہی نہیں کر سکتے اپنے آپ کو درست کریں تو یہ منفی سازشیں کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑیگی، میں تو کہتا ہوں کہ جتنا زور اور وقت لوگ دوسرے کو کمزور اور ختم کرنے میں لگاتے ہیں اتنا اگر خود کی درستگی میں لگا لیں تو اپنے اندر گئی گناہ زیادہ بہتری لا سکتے ہیں ۔ مگر میں اپنے اس رائے پر قائم ہوں کہ ان سازشی عناصر کا مقصد بلوچستان کی آزادی شاید ہو بھی سکتا ہے مگر پہلی ترجیح بے جا طاقت کا حصول ہے۔

یہی وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے بلوچ تحریک آزادی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پائی ہے۔ بلوچستان میں ہڑتال کی کال دیکر ایک شہر تک بند نہیں کرا سکتے، گوادر، تربت، خضدار جیسے بڑے شہروں کو تو رہنے دیں ہم تو دور دراز کے کسی گاوں کی دکانیں بھی بند نہیں کر اسکتے ہیں۔  آج تک بلوچستان میں کسی ایک چوکی کو بھی بلوچ سرمچار قبضہ نہیں کر سکے، ایسا نہیں کہ بلوچ فرزندوں میں صلاحیت نہیں ہے بلکہ سرزمین سے محبت اور جزبہ ہی ہے کہ بلوچ فرزند روز قربانیاں رہے ہیں اور اپنی بساط کے مطابق تحریک میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، مگر سارا گندھ نام نہاد لیڈروں کے زہنوں میں ہے اخباری بیانات میں سب سے متحرک سب سے متحرک کا رٹا لگاتے تھکتے نہیں مگر زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں ۔ کیونکہ ہمارے نام نہاد رہنماوں کے پاس کوئی لائہ عمل یا روڈ میپ نہیں، کہ آزادی حاصل کیسے کریں، بلکہ ان کا تو مقصد کچھ اور ہے جن کا اوپر تفصیل سے زکر کر چکا ہوں۔

میری دعا ہے کہ آپ سب متحرک ہو، تاکہ دشمن کی بلوچ سرزمین پر جاری بربریت کا خاتمہ ہو سکے۔ مگر وہ نہ تو میری دعا سے ہونی ہے نہ ہی فیس بک میں گند پھیلانے  والے دو چار اکاونٹ چلانے والوں کے چند پوسٹوں سے، وہ اگر ہوگا تو آپ کی اصل مقصد پر توجہ مرکوز کرنے سے۔

ہمارے رہنماوں کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ ٹویٹر جیسے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لوگوں کو سرے عام قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں اور چند لمحے بعد اپنی ٹویٹ ڈلیٹ کرلیتے ہیں محض جھوٹ پر اپنا سارا زور لگا رہے ہیں اور سازشی چالیں بناتے رہتے ہیں، دشمن کی طرف کوئی توجہ نہیں۔

مزید مضامین:

ستائیس مارچ اور بلوچ قومی تحریک

شہید رئیس جان سے جڑی کچھ بچپن کی یادیں

یہاں پر میں محترم ڈاکٹر اللہ نظر کے کچھ ٹویٹ پر تبصرہ کرونگا، وہ اس لیے کہ بلوچ سیاست کے حوالے سنجیدگی کے بارے میں لوگوں کو کوئی شق ہے تو وہ دور ہوسکے، ڈاکٹر صاحب جو ہم سب کیلئے محترم ہیں 29 مارچ کے ٹویٹ میں اپیل کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا میں سرگرم بلوچ منفی بحث سے گریز کریں اور علمی بنیادوں پر اور دلیل سے بحث کریں جبکہ ڈاکٹر صاحب کا 4 اپریل کو دوسرا ٹویٹ آتا ہے اور وہ بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) کے دوستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مخصوس گروہ جمیلہ کے قتل کو غلط رنگ دے رہا ہے۔

واجہ اللہ نظر، قمبر صاحب اور خلیل دوسروں کو نیچھا دکھانے اور خود کو “سب سے متحرک” ثابت کرنے کیلئے اتنے لمبے چوڑے کالم لکھنے کہ بجائے اپنےدوستوں اور کارکنان کی مثبت تربیت کرتے تو آج آپ حقیقت میں سب سے متحرک کھیلائے جاتے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ جمیلہ بی بی کا قتل کیسے اور کس نے کیا، وہ ڈاکٹر صاحب سمیت علاقے کے تمام لوگ جانتے ہیں ۔ مجھے سد فیصد امید ہے کہ میرے کالم پڑھنے کے بعد کچھ سنگت فیس بک اور کاپی قلم اٹھا کر کسی تنظیم کے خلاف لکھنے بیٹھ جائے گے، یہ ان باتوں پر کبھی غور نہیں کرینگے جن کا ذکر ہوا ہے اگر ان باتوں پر ہم تھوڑی سی بھی توجہ دیتے تو آج ہم یہاں اس مقام پر پہنچتے۔

جبکہ آج یعنی 14 اپریل کو ڈاکٹر صاحب کا ٹویٹر پر ایک اور اپیل آتا ہے کہ بلوچ آزادی پسند ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے دلائل کی بنیاد پر مسائل حل کریں۔ حالانکہ اس سے قبل بھی واجہ خلیل اور ڈاکٹر صاحب کے بیانات سامنے آچکے تھے کہ سوشل میڈیا میں بحث نہ کی جائے مگر ڈاکٹر اور واجہ خلیل کے حمایت یافتہ لوگ سوشل میڈیا میں اسی رفتار سے سرگرم ہیں جیسے اس سے قبل تھے۔ اور ان بیانات کا بھی ان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ لچھ لوگ کہتے ہیں کہ شاید وہ فیک ہو اگر ہوتے تو جو لوگ اپنے اصلی نام کے ساتھ سوشل میڈیامیں سرگرم ہیں وہ ان کی حمایت نہیں کرتے بلکہ وہ تو ایک دوسرے کی ٹائم لائن پر ایسے بات کرتے ہیں جیسے ایک ہی کمانڈ کے نیچے کام کرتے ہو۔

اگر ڈاکٹر صاحب اتحاد اور اتفاق کیلئے سنجیدہ ہوتے تو ڈاکٹرصاحب سوشل میڈیا میں اپنے بے لگام دوستوں کا لگام کھینچ لیتے کہ بس اب کوئی اور بحث نہیں اور وہ بجائے ٹویٹر کے دو قدم چل کر دیگر آزادی پسندوں کے اوطاق میں جاتے اور کہتے ہیں بہت ہوا اب بلوچ کو متحد ہونا ہے اور چل کر بیٹھتے ہیں اور اپنے تمام مسائل سلجھا کر آگے بڑھتے ہیں۔ مگر ڈاکٹر صاحب کے تنظیم نے ہی بی آر اے سے مزاکرات ختم کیئے، ڈاکٹر صاحب نے ہی بی ایل اے کو جوڑنے کے بجائے اسلم کو شے دیگر بی ایل اے کو پھر سے دو لخت کیا اور اب بی آر اے کو بھی دو لخت کرنے کیلئے کوششوں میں تیزی لا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہو کہ یہ کسی بھی سمجھدار اور قوم سے مخلص لیڈر کو زیب نہیں دیتا۔

نواب براہمدغ بگٹی نے جس طرح حالیہ دنوں اتحاد کیلئے کوششیں کی تو انہوں نے بجائے ٹویٹر پر کسی تاثر دینے کے خطوط لکھ کر نوابزادہ حیریبار مری کو لندن میں ان کے گھر پر اپنے سنگت بھیج کر پہنچایا۔ اسی طرح نواب مہران مری، میر جاوید مینگل اور بی این ایم کے زمہ داروں کو بھی اپنے پارٹی کے سینیئر رہنما بھیج کر گھر میں دعوت نامے پہنچائے تاکہ عملی بنیادوں پر سنجیدگی سے اتحاد کیلئے کوششیں کی جاسکے۔ ایک منٹ کیلئے آپ ایمانداری سے سوچیں کے ڈاکٹر کی اتحاد کیلئے ٹویٹ کا مقصد کیا ہوسکتا ہے؟ اگر ڈاکٹر صاحب کو اتحاد کرنی ہے تو ڈاکٹر صاحب جہاں ہیں اللہ انہیں سلامت رکھیں ان سے چند گز کی دوری پر تمام پارٹیوں کے سینیئر ترین لوگ موجود ہیں پھر ٹویٹ کا کیا مقصد ؟  حیربیار سے ناراضگی کے وقت یو بی اے سے منسلک دوستوں نے نواب براہمدغ سے رابطوں کی کوشش کی لیکن انہوں اس کی حوصلہ شکنی کی اور اسلم نے بھی کوشش کی کہ وہ نواب صاحب کا کندھا استعمال کریں مگر انہوں نے اس سے خود کو دور رکھا۔ کیونکہ بی ایل ایف، بی ایل اے یا کسی بھی تنظیم کا کمزور ہونا دشمن کی کامیابی کے مترادف ہوگا۔

تمام مسائل اپنی جگہ مگر محترم ڈاکٹر اللہ نظر کی پالیسیاں اگر ہر ٹویٹ میں بدل جاتی ہیں،  ایک ٹویٹ میں دھمکی اور چند لمحے بعد وہ ٹویٹ ڈلیٹ، دوسرے  ٹویٹ میں اتحاد کی دعوت جبکہ تیسرے میں ایک تنظیم پر الزام تراشیاں کرنا اور پھر سے دلیل اور اتحاد کی باتیں ان تمام چیزوں سے پتہ نہیں مجھ جیسے ادنے کارکن کے زہن میں کیسے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

مزید مضامین:

27 مارچ 1948 : آزاد بلوچ ریاست پر پاکستانی قبضہ گیریت کا سیاہ دن 

قومی غلامی سے نجات مضبوط سیاسی اداروں کے قیام سے ممکن ہے

میں جانتا ہوں کہ میری کالم پر بعض لوگوں کی رائے ہوگی کہ اس کی کیا اوقات کون توجہ دیتا ہے اس کو، مگر پھر بھی میں اپنی رائے دینے کا پورا حق رکھتا ہوں اور پھر اس تمام بلوچ رہنماوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایک دوسرے پرالزام تراشیوں سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا اگر اتحاد نہیں بھی ہورہا تو کم سے کم ہر کوئی یہ تو کر سکتا ہے کہ اپنی توجہ اپنی تنظیم سازی اور کارکنان کی درست تربیت میں صرف کرے اور اپنے لوگوں کو ایسی جھوٹی  تسلیاں نہ دے کہ پاکستان ختم ہوچکا ہے، فوج تباہ ہوچکی ہے۔فوج تباہ ہوگئی ہے  یا نہیں پاکستان کہاں کھڑا ہے یہ ضروری نہیں بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

میرے خیال میں ہمیں اپنی قوم کو جھوٹی تسلیاں نہیں دینی چاہیے بلکہ حقائق کی بنیاد پر ان کو کھٹن حالات کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ ہماری جنگ حق پر ہے، جائز ہے،  ہماری سرزمین کی آزادی کیلئے ہے اور پاکستان یا کوئی بھی کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو ہماری جنگ جاری رہے گی، ہمیں مستقبل میں شاید مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، لیکن یہ حق آزادی کی جنگ اپنی منزل کے حصول تک جاری رہنی چاہیے۔

نوٹ: ریپبلکن نیوزنیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون اور لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close