بلوچستان لبریشن فرنٹ نے فورسز پر مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی 

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے کہا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب سرمچاروں نے گوادر میں کارواٹ کے مقام پر بجلی کی مین ٹرانسمیشن لائن کی دو ٹاورز(کھمبوں) کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔ جس سے قابض ریاست کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ہے۔ ایسی کارروائیوں کا مقصد دشمن کی طاقت کو سبوتاژ کرنا ہے۔ ان حملوں سے دشمن کے وہ منصوبے ناکام ہو جائیں گے جو بلوچ قوم کے خلاف سات دہائیوں سے بنائی جا رہی ہیں۔ اس سے بلوچ قوم بخوبی واقف ہے۔ نام نہاد ترقی اور چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ بلوچ قوم کو بلوچستان میں اقلیت میں بدلنے کی سازشیں ہیں۔ سی پیک کی کامیابی بلوچ قوم کی ناکامی ہے، اس کے خلاف مزاحمت میں شدت لائی جائیگی۔ گہرام بلوچ نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے مزیدکہا کہ آج بلیدہ بٹ میں پاکستان فوج کی مین کیمپ پر حملہ کرکے نقصان پہنچایا۔ آج ہی ضلع کیچ کے علاقے دشت میں جنگل کراس کے مقام پر پاکستانی فوجی قافلے کی پکٹ سیکورٹی پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ جس سے دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہواہے۔ کل پیر کو مند بلوچ آباد میں پاکستانی فوج پر اس وقت حملہ کیا جب وہ تین بکتر بند گاڑیوں میں آکر بلوچ آباد میں رُک کر اُترنے لگے۔ جس سے کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ پیر کے روز جھاؤ ڈولیجی میں فوجی چیک پر ایک اہلکار کو اسنائپر رائفل سے نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔ اتوار کی شام سرمچاروں نے ضلع کیچ میں گومازی چیک پوسٹ پر راکٹوں سے حملہ کرکے پاکستانی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔ گہرام بلوچ نے کہا کہ مردم شماری کو زبردستی بلوچ قوم پر عائد کرنے کیلئے اساتذہ، ٹرانسپورٹرز اور دوسرے طبقہ فکر کو زبردستی فوجی کیمپوں میں لے جا کر مردم شماری کا حصہ بننے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ جو قابض کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ بلوچ قوم سے اپیل ہے کہ وہ مردم شماری کے دفاتر، مردم شماری عملہ اور اس کی سیکورٹی سے دور رہے۔ بلوچ سرمچار ان پر کسی بھی وقت حملہ کرسکتے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker